Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

بنالوں یا اس جائداد کی تعمیر و غیرہ کرلوں یا اس سفر سے واپس آجاؤں پھر کرلوں گا ۔ یوں وہ ہمیشہ تاخیر پر تاخیر کرتا چلا جاتا ہے ، اور ایک کام کی حرص مکمل ہو نہیں پاتی کہ دوسرے کی حرص آن پڑتی ہے ، اسی طرح دن گزرتے چلے جاتے ہیں ، ایک کے بعد ایک کام پڑتا ہی رہتا ہے یہاں تک کہ ایک وقت جس میں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا اسے موت بھی آجاتی ہے اور اس کی حسرتوں کے سائے ہمیشہ کے لئے دراز ہوجاتے ہیں ۔ اکثر جہنمی اِسی ’’آئندہ‘‘ کی وجہ سے دوزخ میں ہوں گے اور کہیں گے : ہائے حسرت ! ان امیدوں کے پیدا ہونے کی اصل وجہ دنیا کی محبت و اُنسیت اور رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے اِس فرمان سے غفلت ہے : جس سے چاہو محبت کرلو ! تمہیں اُس سے جدا ہونا ہی ہے ۔  (شعب الایمان،باب فی الزھد وقصر الامل ، ۷ / ۳۴۸ ، حدیث : ۱۰۵۴۰)

          لمبی امید کا دوسرا سبب جہالت ہے ۔ وہ یوں کہ انسان اپنی جوانی پر بھروسہ کر کے موت کو دور خیال کرتا ہے ۔ کیا وہ یہ غور نہیں کرتا کہ اگر اُس کی بستی کے بوڑھے افراد شمار کئے جائیں تو وہ کتنے تھوڑے ہوں گے ؟ اُن کے تھوڑے ہونے کی وجہ یہی ہے کہ جوانوں کو موت زیادہ آتی ہے ، اور جب تک کوئی بوڑھا مرتا ہے تب تک تو کئی بچے اور جوان مر چکے ہوتے ہیں ۔ کبھی یہ شخص اپنی صحت سے دھوکہ کھا بیٹھتا ہے اور یہ نہیں سمجھ پاتا کہ موت اچانک آتی ہے ، اگر چہ وہ اُسے بعید سمجھے ، کیونکہ مرض تو اچانک ہی آتا ہے ، تو جب کوئی بیمار ہوجائے تو موت دُور نہیں رہتی ۔ اگر وہ یہ بات سمجھ لے اور اس کی فکر پیدا کرلے کہ موت کا کوئی وقت گرمی ، سردی ، خزاں ، بہار ، دن یا رات مخصوص نہیں اور نہ ہی کوئی سال جوانی ، بڑھاپا یا اُدھیڑ پن وغیرہ مقرر ہے تب اسے معاملہ کی نزاکت کا احساس ہو اور وہ موت کی تیاری کرنا شروع کردے ۔ (منہاج القاصدین  ، ص۱۴۳۶)

’’مدینے‘‘ کے پانچ حُروف کی نسبت سے 5حکایات

(i) تمہیں دوسری نماز پڑھنے کوملے گی؟(حکایت:19)

          حضرتِ سیِّدُنا محمد بن ابو تَوْبہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا معروف کَرْخی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی نے نماز کے لئے اِقامت کہی اور مجھ سے نماز پڑھانے کو کہا ۔ میں نے کہا : یہ نماز تو میں پڑھا دیتا ہوں اس کے علاوہ کوئی نہیں پڑھاؤں گا۔ یہ سن کر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا : تم نے یہ خیال دل میں بسا رکھا ہے کہ تمہیں دوسری نماز بھی پڑھنے کو ملے گی ؟ ہم لمبی امید سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں ، کیونکہ یہ عملِ خیر میں رکاوٹ بنتی ہے ۔  (منہاج القاصدین ، ص۱۴۴۱)

(ii)جسم بوڑھا مگر امید جوان (حکایت:20)

          تابِعی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا ابو عثمان عبدُ الرّحمن نَھْدِی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : میری عمر 130سال ہوچکی ہے ۔ میں نے اس عمر تک پہنچنے میں ہر چیز میں کمی ہوتی دیکھی سوائے میری امیدوں کے ، کہ وہ ابھی تک ویسی ہی ہیں ۔  (منہاج القاصدین ، ص۱۴۳۹)

(iii)روزانہ موت کی تیاری(حکایت:21)

          حضرتِ سیِّدُنا ابو محمدحبیب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکی زوجہ فرماتی ہیں : وہ مجھ سے کہا کرتے تھے کہ اگر آج میں مرجاؤں تو فلاں کو غسل کے لئے بلانا ! فلاں کو یہ کرنے کا کہنا ! تم یہ یہ کرنا وغیرہ ۔ کسی نے پوچھا : کیا وہ کوئی خواب دیکھتے تھے ؟ فرمایا : وہ روز ہی ایسا کہتے تھے ۔  (منہاج القاصدین ، ص۱۴۳۹)

(iv)تم رات تک زندہ رہو گے ؟(حکایت:22)

          منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا شقیق بَلْخِی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی اپنے استادحضرت سیِّدُنا ابوہاشم رُمّانی رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے پاس اِس



Total Pages: 42

Go To