Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

          فرمانِ مصطفیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ہے : میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّسے اس طرح حیا کرو جیسے اپنی قوم کے کسی نیک آدمی سے حیا کرتے ہو۔ (معجم کبیر ، ۶ / ۶۹ ، حدیث : ۵۵۳۹)

          حضرت سیدنا ابن جریر رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا : یہ مختصر ترین الفاظ میں ایک نہایت عمدہ اور جامع نصیحت ہے کیونکہ کوئی بھی فاسق شخص ایسا نہیں جو صاحبِ فضیلت اور نیک لوگوں کے سامنے برا کام کرنے سے شرم نہ محسوس کرے۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّاپنی مخلوق کے تمام کاموں پر مطلع ہے ، بندہ جب  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے اس طرح حیا کرے گا جیسے اپنی قوم کے کسی نیک شخص سے کرتا ہے تو تمام ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچ جائے گا۔ (فیض القدیر ، ۳ / ۹۶ ، تحت الحدیث : ۲۷۸۹)

 شب بیداری شروع فرمادی(حکایت:18)

           حضرت سیدنا امام اعظم ابوحنیفہرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ  آدھی رات عبادت کیا کرتے تھے۔ ایک دن کہیں سے گزرتے ہوئے آپ نے ایک شخص کواپنے بارے میں کہتے سنا : یہ صاحب پوری رات عبادت کرتے ہیں۔ یہ سن کر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا : لوگ میرے بارے میں ایسی بات کررہے ہیں جو مجھ میں نہیں ، اس کے بعد آپ نے پوری رات عبادت کرنا شروع کردیا اور ارشاد فرمایا :      اَنَا اَسَتَحِیْ مِنَ اللّٰہِ اَنْ اُوْصَفَ بِمَا لَیْسَ فِیَّ مِنْ عِبَادَتِہِیعنی میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّسے حیا کرتا ہوں کہ میری طرف ایسی عبادت منسوب کی جائے جو میں نہیں کرتا۔  (فیض القدیر ، ۳ / ۱۰۰ ، تحت الحدیث : ۲۷۹۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۵)لمبی اُمید

          حضورِ پاک ، صاحبِ لَولاک  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کے معاملے میں جوان رہتا ہے دنیا کی محبت اور لمبی اُمید ۔  (بخاری،کتاب الرقاق،باب من بلغ ستین سنۃ۔۔۔الخ ، ۴ / ۲۲۴حدیث : ۶۴۲۰)

           مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : محبتِ دنیا ذریعہ ہے موت سے ڈرنے کا اور لمبی اُمید ذریعہ ہے اعمالِ صالحہ میں دیر لگانے کا۔ خیال رہے کہ اللّٰہ تعالٰی سے اُمید اور آخرت کی لمبی امید میں کمالِ ایمان کی نشانی ہے۔ اَمَل دنیا کی امید کو کہتے ہیں اور رَجَاء آخرت کی امیداللّٰہسے امید کو کہا جاتا ہے۔  اَمَل بری ہے رَجَاء  اچھی۔ (مر اٰۃ المناجیح ، ۷ / ۸۸)

لمبی امیدوں کے اسباب

          حضرتِ سیِّدُنا عبدُ الرّحمن ابنِ جَوْزی رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : یہ بات علم میں رہے کہ لمبی اُمید کا سبب دو چیزیں ہیں : (1) دنیا کی محبت (2) جہالت۔ جہاں تک دنیا کی محبت کا تعلق ہے تو انسان جب دنیا اور اس کی فانی لذات کا رَسْیا ہوجاتا ہے تو پھر اُس سے دِل ہٹانا مشکل ہوجاتا ہے ، اِسی لئے دل میں موت کی فکر پیدا نہیں ہوتی جو اَصل دل ہٹانے کا سبب بنتی ہے اور ہر شخص ناپسندیدہ چیز کو خود سے دور کرتا ہے ۔ انسان جھوٹی امیدوں میں پڑا ہوا ہے ، خود کو ہمیشہ اپنی مراد کے مطابق دنیا ، مال و دولت ، اہل و عیال ، گھر بار ، یار دوست اور دیگر چیزوں کی امیدیں دلاتا رہتا ہے ، تو اس کا دل اسی سوچ میں اَٹکا رہتا ہے اور موت کے ذِکْر سے غافل ہوجاتا ہے ۔ اگر کبھی موت کا خیال آبھی جائے تو توبہ کو آئندہ پر ڈالتے ہوئے اپنے نفس کو یہ دلاسہ دیتا ہے : ابھی بہت دن پڑے ہیں ، تھوڑا بڑا تو ہوجا پھر توبہ کرلینا ، اور جب بڑا ہوجائے تو کہتا ہے : ابھی تھوڑا بوڑھا تو ہوجائے پھر تو بہ کرلینا ، اور جب بوڑھا ہوجائے تو کہتا ہے : پہلے یہ گھر



Total Pages: 42

Go To