Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

ارشاد فرمایا : یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو اور مسکین کو کھاناکھلاؤ۔  (مجمع الزوائد، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی الایتا م والارامل، ۸ / ۲۹۳ ، حدیث : ۱۳۵۰۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۳)دنیاکی محبت

 پارہ 7سُوْرَۃُالْاَنْعَامآیت نمبر 32میں فرمانِ ربُّ الانام عَزَّوَجَلَّ  ہے :  وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌؕ-وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۳۲)

ترجَمۂ کنزالایمان:اور دنیا کی زندگی نہیں مگر کھیل کود اور بے شک پچھلا گھر بھلا ان کے لئے جو ڈرتے ہیں تو کیا تمہیں سمجھ نہیں۔

          صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں : نیکیاں اور طاعَتیں(یعنی عبادتیں) اگرچِہ مؤمنین سے دنیا ہی میں واقِع ہوں لیکن وہ اُمُورِ آخِرت میں سے ہیں ۔ اس سے ثابِت ہوا کہ اعمالِ مُتّقِین(یعنی نیک بندوں کے اَعمال ) کے سوا دنیا میں جو کچھ ہے سب لَھو ولَعب(یعنی کھیل کود) ہے ۔

دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے

           رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔

(شعب الایمان ،باب فی الزھد وقصر الامل ، ۷ / ۳۳۸ ، حدیث۔ : ۱۰۵۰۱)

آخرت کو نقصان پہنچتا ہے

          حدیث میں ہے : جو شخص اپنی دنیا سے محبت کرتا ہے تو وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو آخرت سے محبت کرتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے تو (اے مسلمانو!)باقی رہنے والی چیز (یعنی آخرت) کو فَنا ہونے والی چیز (یعنی دنیا)پر ترجیح دو۔

(مسند احمد ، ۷ / ۱۶۵ ، حدیث : ۱۹۷۱۷)

دنیا کی حیثیت

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آخرت کے مقابلے میں دنیا کی کیا حیثیت ہے ، رسولِ بے مثال ، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکافرمانِ نصیحت نشان ہے :  اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی قسم! دنیاآخرت کے مقابل ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ انگلی کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے۔

 (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الرقاق ، ۳ / ۱۰۵ ، حدیث : ۵۱۵۶)

فنا ہوجانے والی کو ترجیح نہ دو(حکایت:16)

          حضرت سَیِّدُنا ابراھیم بن بشارعَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہ الغفّار فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت سَیِّدُنا ابراھیم بن ادھم علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الاکرمکے ساتھ صحراء میں شریکِ سفر تھا کہ اچانک ہمیں ایک قبرنظر آئی ۔ حضرت سَیِّدُنا ابراھیم بن ادھم علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الاکرم اس قبر پر تشریف لے گئے اور قبر والے کے لئے دعائے مغفرت کی ، پھر رونے لگے۔ میں نے عرض کی : یہ قبر کس کی ہے؟ جواب دیا : یہ قبر حمید بن ابراہیم (رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ)کی ہے جویہاں کے تمام شہروں کے گورنر تھے اور دنیا کی محبت میں غرق تھے ،  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے انہیں بچا لیا۔ اتنا کہنے کے بعد فرمایا : یہ ایک دن اپنی مملکت کی وسعت اور دنیاوی مال ودولت کی کثرت سے بہت خوش تھے ، اسی دوران جب یہ سوئے تو خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی ، ان کے سرہانے آن کھڑا ہوا ۔ حمید نے اس شخص سے کتاب لے کر اسے کھولا تو اس میں جَلی حروف سے لکھاتھا : فنا ہوجانے والی کو باقی رہ جانے والی پر ترجیح نہ دے اور اپنی مملکت ، حکومت ، بادشاہت ، خُدام ، غلام اور لذات وخواہشات میں کھو کر غافل مت ہوجا ،



Total Pages: 42

Go To