Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

بند ہوگئے۔  (فتاویٰ رضویہ ، ۲ / ۶۵ ، المِیزانُ الکبریٰ،کتاب الطہارۃ ، جز ء : ۱ ، ا / ۱۳۰)

جو بے مِثال آپ کا ہے تقویٰ تو بے مِثال آپ کا ہے فتویٰ

ہیں علم و تقویٰ کے آپ سنگم امامِ اعظم ابُو حنیفہ

 پسندیدہ بندہ

          حضرتِ سیِّدُنا حَسَن بصری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی ارشاد فرماتے ہیں : اے ابنِ آدم!تم اُس وقت تک ایمان کی حقیقت کو نہیں پاسکتے ، جب تک لوگوں کی ایسی برائیوں کی مذمت کرنا ترک نہ کردو جو خود تم میں بھی موجود ہیں اور ان کی اصلاح کرتے ہوئے انہیںخود سے دور نہ کرلو ، جب تم ایسا کرو گے توپھر اپنی ہی اصلاح میں مشغول رہو گے اور ایسا ہی بندہ  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ (الموسوعۃ لابن ابی الدنیا،باب الغیبۃ و ذمہا ، ۴ / ۳۵۹ ، رقم : ۶۰)

اپنی آنکھ میں شہتیر دکھائی نہیں دیتا

           حُضورِ اَقْدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : یُبْصِرُ اَحَدُکُمُ الْقَذَاۃَ فِی عَیْنِ اَخِیْہِ وَیَنْسَی الْجِذْعَ فِیْ عَیْنِہٖیعنی تم میں سے کسی کو اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا تو نظر آجاتا ہے ، لیکن اپنی آنکھ میں شہتیر نظر نہیں آتا۔ ( ابن حبان،کتاب الحظروالاباحۃ،باب الغیبۃ ، ۷ / ۵۰۶ ، حدیث : ۵۷۳۱)

مسلمانوں کے عُیُوب تلاش کرنے کی سزا

           اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے مَحبوب ، دانائے غُیوب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : اے وہ لوگو! جو زبانوں سے تواِیمان لے آئے ہو ، مگر تمہارے دل میں ابھی تک اِیمان داخل نہیں ہوا!مسلمانوں کی غیبت اور اُن کے عُیُوب تلاش نہ کیا کرو ، کیونکہ جو مسلمانوں کے عُیُوب تلاش کرے گا ،  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اُس کا عیب ظاہر فرما دے گا اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  جس کاعیب ظاہر فرما تا ہے اُسے رُسوا کر دیتا ہے ، اگرچہ وہ اپنے گھر میں ہو۔ (شعب الایمان،باب فی تحریم اعراض الناس ، ۵ / ۲۹۶ ، حدیث : ۶۷۰۴)

نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر     پڑی اپنی بُرائیوں پہ جو نظر

رہے دیکھتے اَوروں کے عیب و ہُنر      تو نگاہوں میں کوئی بُرا نہ رہا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۲)قساوتِ قلبی

          رسولِ اَکرَم ، نورِمجسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے :  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر کے علاوہ زیادہ گفتگو نہ کیا کرو کیونکہ ذکرِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ  کے علاوہ زیادہ کلام کرنادل کی سختی کا باعث ہے اور بلاشبہ سخت دل انسان  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں سب سے زیادہ دُور ہے۔

(ترمذی ،کتاب الزھد ، باب : ۶۲ ، ۴ / ۱۸۴ ، حدیث : ۲۴۱۹)

مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں : سختی دل کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس میں وعظ ونصیحت اثر نہیں کرتا ، کبھی انسان اپنے گزشتہ گناہوں پر روتا نہیں ، آیاتِ الٰہیہ میں غور نہیں کرتا ، اللّٰہ تعالٰی محفوظ رکھے ، زیادہ کلام اور بہت ہنسنا دل کو سخت کرتا ہے اور زیادہ ذکرُ اﷲ یا  اللّٰہ والوں کی صحبت موت کی یاد ، آخرت کا دھیان ، قبرستان کی زیارت دل میں نرمی پیدا کرتی ہے۔  (مراٰۃ المناجیح ، ۳ / ۳۱۹)

دل کی سختی کا ایک علاج

           ایک شخص نے حسنِ اخلاق کے پیکر ، نبیوں کے تاجور صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں اپنے دل کی سختی کی شکایت کی تو



Total Pages: 42

Go To