Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

کو بھی اُس مرغی کی طرح سمجھو ۔ چنانچہ دوست کا غصہ ختم ہوگیا ، واپس لوٹااور کہنے لگا : کسی دانانے سچ کہا ہے کہ بُردباری ہر درْد کی دواہے ۔  (احیاء علوم الدین، کتاب ذم الغضب۔۔۔الخ،بیان فضیلۃ الحلم ، ۳ / ۲۲۱)

بداَخلاق قابل رحم ہے (حکایت:11)

          حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہبن مبارک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے ساتھ سفر میں ایک بداخلاق آدمی شریک ہوگیا ، آپ اس کی بد اَخلاقی پر صبر کرتے اور اس کی خاطِر مُدارات کر تے ، جب وہ جداہوگیا تو آپ رونے لگے ، کسی نے رونے کا سبب پوچھا تو فرمایا : میں اس پر ترس کھاکر رورہاہوں کہ میں تو اس سے الگ ہوگیا لیکن اس کی بداخلاقی اس سے الگ نہ ہوئی ۔

(احیاء علوم الدین،کتاب ریاضۃ النفس۔۔۔الخ، بیان فضیلۃ حسن الخلق۔۔۔الخ ، ۳ / ۶۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(10) نمازنہ پڑھنا

          حضور نبی پاک ، صاحبِ لَولاک ، سیّاحِ افلاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑدی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے عمل برباد کر دے گا اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کا ذمہ اس سے اُٹھ جائے گا جب تک کہ وہ توبہ کے ذریعے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں رجوع نہ کرے۔  (الترغیب والترھیب ، ۱ / ۲۶۱ ، کتاب الصلاۃ،الترھیب من ترک الصلاۃ۔۔۔الخ ، حدیث : ۸۲۸)

نمازِعصر کی خاص تاکید

          صاحبِ مُعَطَّر پسینہ ، باعثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : مَنْ تَرَکَ صَلَاۃَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗیعنی جونمازعصر چھوڑدے اس کے عمل ضبط ہوگئے۔  (بخاری،کتاب مواقیت الصلاۃ،باب من ترک العصر ، ۱ / ۲۰۳ ، حدیث : ۵۵۳)

          حضرت علامہ مولانا عبدالرء ُوف مَناوی شافعیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی اس حدیثِ پاک کے تحت تحریر فرماتے ہیں : یعنی اس کا ثواب ضائع ہوجائے گا ، یہاں گزشتہ عمل کا باطل ہونا مراد نہیں کیونکہ یہ صرف اس کے لئے ہے جو مرتد ہوکر مرجائے چنانچہ عمل ضبط ہونے کو اس دن کے نقصان پر محمول کیا جائے گا۔ حضرت سیدنا علامہ دمیری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی نے اس فرمان کو اس شخص کے بارے میں قرار دیا ہے جو نماز ترک کرنے کو حلال سمجھے یا اس کی عادت بنالے یا پھر یہاں ثواب کا ضائع ہونا مراد ہے۔ (فیض القدیر ، ۳ / ۲۶۹ ، تحت الحدیث : ۳۱۵۸)

            مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : غالبًاعمل سے مراد وہ دنیوی کام ہیں جس کی وجہ سے اس نے نمازِعصرچھوڑی۔ ضبطی سے مراد اس کام کی برکت کا ختم ہوناہے ، یایہ مطلب ہے کہ جوعصرچھوڑنے کاعادی ہوجائے اس کے لئے اندیشہ ہے کہ وہ کافرہوکر مرے جس سے اعمال ضبط ہو جائیں ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ عصرچھوڑناکفر واِرتدادہے۔  خیال رہے کہ نمازِ عصرکو قرآن کریم نے بیچ کی نماز فرماکر اس کی بہت تاکیدفرمائی ، نیز اس وقت رات ودن کے فرشتوں کا اِجتماع ہوتاہے اوریہ وقت لوگوں کی سیروتفریح اورتجارتوں کے فروغ کا وقت ہے ، اس لئے اکثرلوگ عصر میں سُستی کرجاتے ہیں ان وُجُوہ (یعنی اسباب کی وجہ)سے قرآن شریف نے بھی عصرکی بہت تاکیدفرمائی اور حدیث شریف نے بھی۔  (مراٰۃ المناجیح ، ۱ / ۳۸۱)

زمین سے دینارنکالنے والا نمازی (حکایت:12)

 



Total Pages: 42

Go To