Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

صاحب لکھتے ہیں : اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے : ایک یہ کہ نیک اعمال کی اُجرت لینا جائز ہے۔ چنانچہ علماء ، قاضی ، مدرسین حتی کہ خود خلیفہ کی تنخواہ بیت المال سے دی جائے گی ، سوائے حضر ت عثمان غنی  رضی اللّٰہ عنہکے باقی تینوں خلفاء (رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم)نے بیت المال سے خلافت کی تنخواہ وصول کی ہے۔ دوسرے یہ کہ جب کام کرنے والے کی نیت خیر ہو تو تنخواہ لینے سے اِنْ شَآءَاللہ ثواب کم نہ ہوگا۔ صرف تنخواہ کے لیے دینی کام نہ کرے تنخواہ تو گزارے کے لئے وصول کرے ، اصل مقصد دینی خدمت ہو۔ (مراۃ المناجیح ، ۳ / ۶۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(8) عُجب و خود پسندی

          خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلمین صلَّی اللّٰہ تَعالٰی علیہ وآلہ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : اِنَّ الْعُجْبَ لَیُحْبِطُ عَمَلَ سَبْعِیْنَ سَنَۃًیعنی خود پسند ی ستر سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ (جامع صغیر ، ص۱۲۷ ، حدیث : ۲۰۷۴)

          حضرت علامہ مولانا عبدالرء ُوف مَناوی شافعیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی اس حدیثِ پاک کے تحت تحریر فرماتے ہیں : 70 سے مراد کثیر عرصہ ہے جیسا کہ اس فرمانِ باری تعالیٰ میں :  فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا  ([1])  ۲۹ ، الحاقۃ : ۳۲)اس کی وجہ یہ ہے کہ خود پسندی کا شکار شخص اپنے عمل کو زیادہ اور اچھا سمجھتا ہے اور اس کی طرح ہوجاتا ہے جسے نظر لگ جائے اور وہ ہلاک ہوجائے۔ اسی لئے دانا لوگوں کا قول ہے کہ خود پسندی عمل کو نظر لگنے کا نام ہے۔ روایت میں ہے کہ نظر مرد کو قبر میں داخل کردیتی ہے ۔ جس طرح نظر انسان کو ہلاک کرتی ہے اسی طرح اس کے اعمال کو بھی مردہ اور باطل کردیتی ہے۔ بعض اوقات انسان کے دل میں غفلت ڈیرہ جمالیتی ہے چنانچہ وہ اپنے نیک اعمال کو اپنا کارنامہ جانتا ہے اور اس میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا احسان نہیں مانتا کہ اس نے اس میں نیکی کی قوت پیدا فرمائی اور توفیق عطا فرمائی ۔ مزید فرماتے ہیں :  خودپسندی کی ایک تعریف یہ بیان کی گئی ہے : نعمت کو بڑا سمجھنا لیکن اس کی نسبت نعمت دینے والے کی طرف نہ کرنا۔ خود پسندی سے تکبر پیدا ہوتا ہے نیز اس کی نحوست سے بندہ گناہوں کو بھول جاتا ہے کیونکہ خود پسندی اور گناہوں کی آفات سے غافل ہونے کے سبب وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھنے لگتا ہے اور یوں اس کے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ خود پسندی بندے کو دوسروں سے مشورہ اور فائدہ حاصل کرنے اور نصیحت سننے سے روک دیتی ہے اور اسے دوسروں کو حقیر سمجھنے اور دینی و دنیوی معاملات میں دُرست بات کو سمجھنے سے محرومی میں مبتلا کردیتی ہے۔ (فیض القدیر ، ۲ / ۴۷۵ ، تحت الحدیث : ۲۰۷۴)

خود پسندی کی اَہَم وضاحت

           حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت ِسیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیلکھتے ہیں : جو شخص علم ، عمل اورمال کے ذَرِیعے اپنے نَفْس میں کمال جانتا ہو اُس کی ’’دو حالتیں ‘‘ ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے اُس کمال کے زَوال کاخوف ہو یعنی اِس بات کا ڈر ہو کہ اس میں کوئی تبدیلی آجائے گی یا بالکل ہی سَلْب اورختم ہوجائے گا تو ایسا آدَمی’’ خود پسند ‘‘ نہیں ہوتا۔ دوسری حالت یہ ہے کہ وہ اس کے زَوال (یعنی کم یا خَتْم ہونے)کا خوف نہیں رکھتا بلکہ وہ اِس بات پر خوش اور مطمئن ہوتا ہے کہ اللہ تَعَالٰینے مجھے یہ نعمت عطا فرمائی ہے اِس میں میرا اپنا کمال نہیں۔ یہ بھی’’ خود پسندی‘‘ نہیں ہے اور اس کے لیے ایک تیسری حالت بھی ہے جو خود پسندی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسے اس کمال کے زَوال(یعنی کم یا ختم ہونے) کا خوف نہیں ہوتا بلکہ وہ اس پرمَسرورو مطمئن ہوتا ہے اور اس کی مَسرَّت کا باعِث یہ



[1]   ترجمہ کنزالایمان : ایسی زنجیرمیں جس کا ناپ ستر ہاتھ ہے۔  



Total Pages: 42

Go To