Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔

           پھر اس شخص کو لایا جائے گا جس نیعِلْم سیکھا ، سکھایا اور قرآن کریم پڑھا ، وہ آئے گا تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّاسے بھی اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا ، پھر  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ     اس سے دریافت فرمائے گا : تو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کِیا؟وہ عرض کرے گا : میں نے علم سیکھا اور سکھایا اور تیرے لئے قرآنِ کریم پڑھا۔  اللّٰہعَزَّوَجَلَّارشاد فرمائے گا : تُو جھوٹا ہے تو نے علم اِس لئے سیکھا تاکہ تجھے عالِم کہا جائے اور قرآنِ کریم اس لئے پڑھا تا کہ تجھے قاری کہا جائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔ پھر اُسے بھی جہنم میں ڈالنے کا حکم ہو گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا ، پھر ایک مالدار شخص کو لایا جائے گا جسے  اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے کثرت سے مال عطا فرمایا تھا ، اسے لا کر نعمتیں یاد دلائی جائیںگی وہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا تو  اللّٰہعَزَّوَجَلَّارشاد فرمائے گا : تو نے ان نعمتوں کے بدلے کیا کیا؟ وہ عرض کرے گا : میں نے تیری راہ میں جہاں ضرورت پڑی وہاں خرچ کیا۔  تو  اللّٰہعَزَّوَجَلَّارشاد فرمائے گا : ’تو جھوٹا ہے تو نے ایسا اس لئے کیا تھا تا کہ تجھے سخی کہا جائے اور وہ کہہ لیا گیا۔ پھر اس کے بارے میں جہنم کا حُکْم ہو گا ، چُنانچِہ اُسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ)( مسلم،کتاب الامارۃ،باب من قاتل للریاء....الخ ، ص۱۰۵۵ ، حدیث : ۱۹۰۵)

          حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : معلوم ہوا کہ جیسے اِخلاص والی نیکی جنت ملنے کا ذریعہ ہے ایسے ہی رِیا والی نیکی جہنم اورذِلَّت حاصل ہونے کا سبب ۔ یہاں ریا کار شہید ، عالِم اور سخی ہی کا ذِکْر ہوا ، اس لئے کہ انہوں نے بہترین عمل کئے تھے جب یہ عمل ریا سے برباد ہوگئے تو دیگر اعمال کا کیا پوچھنا! رِیا کے حج و زکوۃ اور نماز کا بھی یہی حال ہے۔ (مِرْاٰۃ المناجیح ، ۱ / ۱۹۱)

ہمارا کیا بنے گا؟

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سخت تشویش کا مقام ہے کہ اگر اِخلاص نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں بھی ریاکاروں کی صف میں کھڑا کردیا گیا تو ہماراکیا بنے گا ؟ رب عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی ، دودھ وشہد کی بہتی ہوئی نہروں ، جنّت کی حُوروں ، عالیشان محلّات اور جنّت کے دیگرانعامات سے محرومی اورمیدانِ محشر میں سب کے سامنے رُسوائی کا صدمہ ہم کیسے سہیں گے ؟ ہمارا نازُک وجُود جو گرمی یا سردی کی ذرا سی شدت سے پریشان ہوجاتا ہے جہنم کے ہولناک عذابات کیونکر برداشت کر پائے گا۔    

ہائے!معمولی سی گرمی بھی سہی جاتی نہیں

گرمیِ حشر میں پھر کیسے سہوں گا یا ربّ

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس سے پہلے کہ موت ہمیں عمدہ بچھونے سے اٹھا کر قبر میں فرشِ خاک پرسُلا دے ، ہمیں چاہیے کہ ریاکاری کی تاریکی سے نجات پانے کے لئے  اپنے سینے کو نورِ اخلاص سے منوّر کر لیں ۔

میرا ہر عمل بس تِرے واسطے ہو

کر اِخلاص ایسا عطا یا الہٰی

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میری ہجرت مال کے لئے نہیں تھی (حکایت:9)

 



Total Pages: 42

Go To