Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

لوگ تنگی میں ہوں اور یہ بہت زیادہ گرانی کا انتظار کرے کہ خوب نفع سے بیچے ۔ مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں : جو بادشاہ کی حفاظت سے نکل جائے اس کا حال کیا ہوتا ہے ، جو چاہے اس کا مال لُوٹ لے ، جو چاہے اس کا خون کردے ، جو چاہے اس کے زَن و فرزند کو ہلاک کردے تو جو رب تعالیٰ کی اَمان و عہد سے نکل گیا ، اس کی بدحالی کا اندازہ نہیں ہوسکتا ، لہٰذا یہ ایک جملہ ہزارہا عذابوں کا پتا دے رہاہے ، رب تعالیٰ محفوظ رکھے ۔   (مراٰۃ المناجیح ، ۴ / ۲۹۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(6) پاک دامن عورت پر تہمت لگانا

           سرکارِنامدار ، مدینے کے تاجدار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اِنَّ قَذْفَ الْمُحْصَنَۃِ یَھْدِمُ عَمَلَ مِائَۃِ سَنَۃٍ یعنی کسی پاک دامن عورت پر زِناکی تُہمت لگانا سو سال کی نیکیوںکوبربادکرتاہے۔ (مُعْجَم کبِیْر ، ۳ / ۱۶۸ ، حدیث : ۳۰۲۳)

اس حدیثِ پاک سے ان لوگوں کوعبرت حاصِل کرنی چاہئے جوصِرف شک کی بِنا پر پارسا عورتوں پرتُہمتِ زِناباندھ بیٹھتے ہیں ۔ حضرت علامہ مولانا عبدالرء ُوف مناوی شافعیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی مذکورہ حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : یعنی اگر بالفرض وہ شخص سو سال تک زندہ رہ کر عبادت کرے تو بھی یہ بہتان اس کے ان اعمال کو ضائع کردے گا۔ اس فرمانِ عالیشان میں اس عمل پر سخت تنبیہ اور زبان کی حفاظت پر بھر پور ترغیب ہے۔ اس طرح کی دیگر روایات پر قیاس کرتے ہوئے ظاہر یہ ہے کہ سو سے مرادمخصوص عدد نہیں بلکہ کثرت ہے ، اس روایت میں موجود شدید وعید سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ یہ عمل کبیرہ گناہ ہے۔ (فیض القدیر ، ۲ / ۶۰۱ ، تحت الحدیث:۲۳۴۰)

پِیپ اور خون میں رکھے گا

            شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، تاجدارِ رسالت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا : جو کسی مسلمان کے بارے میں ایسی بات کہے جو اُس میں نہیں پائی جاتی تواللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس کو  رَدْغَۃُ الْخَبَال میں رکھے گا یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نکل آئے۔

(ابوداوٗد،کتاب الاقضیہ،باب فیمن یعین۔۔۔الخ ، ۳ / ۴۲۷ ، حدیث : ۳۵۹۷ )

رَدْغَۃُ الْخَبَال جہنم میں ایک جگہ ہے جہاں جہنمیوں کا خون اور پیپ جمع ہوگا۔  (مراٰ ۃ المناجیح ، ۵ / ۳۱۳)

ہلاکت میں گرفتار ہوا(حکایت:8)

          پاک دامن عورتوں پر بدکاری کی تہمت دھرنے والے اس حکایت کو غور سے پڑھیں اور اپنے کئے پر توبہ کریں ، چنانچہحضرتِ علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطی شافِعی علیہ ر حمۃ  اللّٰہِ  القوی شرحُ الصُّدور میں نَقْل کرتے ہیں : ایک شخص نے خواب میں جَرِیْر خَطَفی  کو دیکھا تو پوچھا :  ما فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے آپ ساتھ کیامُعامَلہ کیا؟ تو اُنہوں نے کہا : میری مغفِرت کر دی۔ میں نے پوچھا : مغفِرت کا کیا سبب بنا؟ کہا : اس تکبیر کہنے پر جو میں نے ایک جنگل میں کہی تھی۔ میں نے پوچھا : فَرَزْدَقکا کیا ہوا؟ تو اُنہوں نے کہا : افسوس! پاک دامن عورَتوں پرتہمت لگانے کے باعِث وہ ہلاکت میں گرفتار ہوا۔  (غیبت کی تباہ کاریاں ، ص ۲۹۶بحوالہ شَرْحُ الصُّدُور ، ص۲۸۵ ، البدایۃوالنّھایۃ ، ۶ / ۴۰۹)

آہ! ہم نے نہ جانے زندگی میں کتنوںپر بُہتان باندھے ہونگے !

ہر جُرم پہ  جی  چاہتا ہے  پھوٹ کے روؤں

افسوس  مگر  دل  کی  قَساوَت  نہیں  جاتی

 



Total Pages: 42

Go To