Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

فِرِشْتَوں کی زِیارَت

          حضرتِ سیِّدُنا شَیْخ احمد بن ثابِت مَغْرِبی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویفرماتے ہیں : میں قِبْلہ رُخ بیٹھ کر دُرُود پاک کے موضوع پر مضمون ترتیب دے رہا تھا۔ اچانک مجھ پر غُنُودَگی طاری ہوئی اورمیری آنکھ لگ گئی ۔ میں نے خواب میں اللّٰہ  تعالیٰ کے مُقَرَّب فِرِشْتَوں حضرتِ سیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلام ، حضرتِ سیِّدُنا میکائیل عَلَیْہِ السَّلام ، حضرتِ سیِّدُنا اِسرافیل عَلَیْہِ السَّلاماورحضرتِ سیِّدُنا عِزْرائیل عَلَیْہِ السَّلام کی زِیارَت کی ۔ (تین مقرب فرشتوں سے گفتگو کا ذکرکرنے کے بعد شیخ احمد بن ثابت رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : ) میں نے حضرتِ سیِّدُنا عِزْرائیل عَلَیْہِ السَّلام سے عَرْض کی : میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّاور اس کے پِیارے حبیب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا واسِطہ دے کر اِلْتِجاکرتا ہوں کہ آپ میری جان نکالتے وَقْت مجھ پر نَرْمی فرمائیں۔ فرمایا : رسولِ اَکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر کثرت سے دُرُود پاک پڑھا کرو۔ (سعادۃ الدارین ، ص۱۲۴ملخصاً )

آس ہے کوئی نہ پاس ایک تمہاری ہے آس

بس ہے یہی آسرا تم پہ کروڑوں دُرود

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

لکڑی کا باکس(حکایت:1)

          ایک شخص مال کمانے کی غرض سے بیرونِ ملک گیا ، وہاں اس نے لکڑی کا ایک پراناباکس(Box) خرید کر اسے تالا لگایا اوراپنی رہائش گاہ میں رکھ لیا اور جو کچھ کماتا اپنی ضروریات کے لئے رقم الگ کرنے کے بعد بقیہ کمائی ایک سوراخ کے ذریعے باکس میں ڈال دیا کرتا ، جب کافی عرصہ گزر گیا تو اس نے سوچا اب تو اچھی خاصی رقم جمع ہوگئی ہوگی ، چنانچہ اس نے خوشی خوشی اپنا باکس کھولا تو یہ دیکھ کر سر پکڑ لیا کہ اس میں دِیمک(Termites) لگی ہوئی تھی جس نے اس کے کرنسی نوٹوں میں سے کچھ کو مکمل اور بقیہ کو جزوی طور پر چاٹ کر تباہ کر ڈالا تھا اور وہ نوٹ اب اس کے کسی کام کے نہیں رہے تھے۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس فرضی حکایت سے ہمیں یہ درس ملا کہ کمانے کے بعد کمائی کو بچانا بھی ضروری ہے اوراس کے لئے اسے ہرایسی چیز سے دور رکھنا چاہئے جو اس کو ختم یا کم کرسکتی ہو ، یہی معاملہ نیکیاں کمانے کا ہے کہ نیکیاں کمانے کے بعد ان نیکیوں کو اُخروی زندگی کے لئے محفوظ رکھا جائے اور ہر ایسے کام سے بچا جائے جس کی وجہ سے نیکیوں کا ثواب ضائع یا کم ہوسکتا ہو۔ نفس وشیطان انسان کو نیکی سے روکنے کے لئے پورا زور لگاتے ہیں ، اگر انسان ان کے وار ناکام کرکے نیکی کرنے میں کامیاب ہوبھی جائے تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ انسان کی نیکی ذخیرۂ آخرت میں جمع نہ ہونے پائے ، اس لئے وہ انسان سے ایسی غلطی کروا دیتے ہیں جس کی وجہ سے نیکی کا ثواب بالکل ختم یا کم ہوجاتا ہے ۔ قراٰن کریم اور مکی مدنی سلطانصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فرامین میں ایسی کئی چیزوں کو بیان کیا گیا ہے ، مثلاً فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ہے : اِیَّاکُمْ وَالْحَسَدَ فَاِنَّ الْحَسَدَ یَأْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَأْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَیعنی   حَسَد سے بچو وہ نیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے جیسے آگ خشک لکڑ ی کو۔ (ابوداوٗد ، کتاب الادب ، باب فی الحسد ، ۴ / ۳۶۰ ، حدیث : ۴۹۰۳)

 



Total Pages: 42

Go To