Book Name:Khof e Khuda عزوجل

قلب پتھر سے بھی سختی میں بڑھا جاتا ہے

دل پہ اِک خول سیاہی کا  چڑھا جاتا ہے

        پیارے اسلامی بھائیو! اس سے پہلے کہ ہماری سانسوں کی آمدورفت رک جائے اور سوائے احساس ِ زِیاں کے ہمارے دامن میں کچھ بھی نہ ہو، ہم اپنی آخرت کی بہتری کے لئے اس صفت ِعظیمہ کو اپنانے کی جدوجہد میں لگ جائیں ۔خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کی اس عظیم نعمت کے حصول کے لئے عملی کوشش کے سلسلے میں درجِ ذیل امور مدد گار ثابت ہوں گے ۔اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ  

 (1)رب   تَعَالٰی  کی بارگاہ میں سچی توبہ اوراس نعمت کے حصول کی دعا کرنا ۔

 (2)قرآن ِعظیم واحادیث مبارکہ میں وارد ہونے والے خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کے فضائل  پیش ِنظر رکھنا۔   

 (3) اپنی کمزوری وناتوانی کو سامنے رکھ کر جہنم کے عذابات پر غور وتفکر کرنا۔

 (4)خوف ِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کے حوالے سے اسلاف کے حالات کا مطالعہ کرنا۔

 (5)خود احتسابی کی عادت اپنانے کی کوشش کرتے ہوئے فکرِ مدینہ کرنا (اس کی تفصیل آگے آرہی ہے )۔     

 (6)ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا جو اس صفتِ عظیمہ سے متصف ہوں ۔

(اِن اُمور کی تفصیل )

(1)رب  تَعَالٰی ٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرنا اوراس نعمت کے حصول کی دعا کرنا :

       جس طرح طویل دنیاوی سفر پر تنہاروانہ ہوتے وقت عموماًہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ کم سے کم سامان اپنے ساتھ رکھیں تاکہ ہمارا سفر قدرے آرام سے گزرے اور ہمیں زیادہ پریشانی کا سامنا نہ کر نا پڑے ، بالکل اسی طرح سفرِ آخرت کو کامیابی سے طے کرنے کی خواہش رکھنے والے کو چاہئیے کہ روانگی سے قبل گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتارنے کی کوشش کرے کہ کہیں یہ بوجھ اسے تھکا کر کامیابی کی منزل پر پہنچنے سے محروم نہ کر دے ۔اور اس بوجھ سے چھٹکارے کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار  عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرے کیونکہ سچی توبہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتی ہے جیسے کبھی کئے ہی نہ تھے ۔ جیسا کہ سرور ِ عالم ، نور مجسم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا، ’’اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّاذَنْبَ لَہٗ۔یعنی گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے کہ گویا اس نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔‘‘(کنزالعمال، ج۴، ص۹۲، رقم الحدیث ۱۰۲۴۵)   

       اوریہ بھی ذہن میں رہے کہ سچی توبہ سے مراد یہ ہے کہ بندہ کسی گناہ کو اللہ   تَعَالٰی  کی نافرمانی جان کر اس پر نادِم ہوتے ہوئے رب  عَزَّوَجَلَّ سے معافی طلب کرے اور آئندہ کے لئے اس گناہ سے بچنے کا پختہ ارادہ کرتے ہوئے ، اس گناہ کے ازالہ کے لئے کوشش کرے، یعنی نماز قضا کی تھی تو اب ادا بھی کرے ، چوری کی تھی یا رشوت لی تھی تو بعد ِ توبہ وہ مال اصل مالک کو واپس کرے یا اس سے معاف کروا لے یا مالک نہ ملنے کی صورت میں اس کی طرف سے راہِ خدا میں صدقہ کر دے۔علی ھذا القیاس  (ماخوذ من الفتاوٰی الرضویۃ جلد ۱۰، ص۹۷، النصف الاول)

       اور دعا اس طرح کرے ،

        ’’اے میرے مالک  عَزَّوَجَلَّ ! تیرا یہ کمزور وناتواں بندہ دنیا وآخرت میں کامیابی کے لئے تیرے خوف کو اپنے دل میں بسانا چاہتاہے۔ اے میرے رب  عَزَّوَجَلَّ ! میں گناہوں کی غلاظت سے لتھڑا ہوا بدن لئے تیری پاک بارگاہ میں حاضر ہوں ۔اے میرے پرورد گار  عَزَّوَجَلَّ !مجھے معاف فرمادے اور آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے کے لئے اس صفت کو اپنانے کے سلسلے میں بھرپور عملی کوشش کرنے کی توفیق عطافرمادے اور اس کوشش کو کامیابی کی منزل پر پہنچادے۔ اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ !مجھے اپنے خوف سے معمور دل، رونے والی آنکھ اور لرزنے والا بدن عطا فرما ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

یارب   عَزَّوَجَلَّ  ! میں تیرے خوف سے روتا رہوں ہر دم

  دیوانہ شہنشاہِ مدینہ صلی اللہ  علیہ وسلم کا بنا دے   

(2) قرآن عظیم اوراحادیث مبارکہ میں وارد ہونے والے خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کے فضائل پیش ِ نظر رکھنا :

               فطری طور پر انسان ہر اس چیز کی طرف آسانی سے مائل ہوجاتا ہے جس میں اسے کوئی فائدہ نظر آئے ۔ اس تقاضے کے پیش نظر ہمیں چاہئے کہ قرآن پاک میں بیان کردہ خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ کے فضائل سے متعلق درجِ ذیل آیات کا بغور مطالعہ کریں ۔

(دوجنتوں کی بشارت۔۔۔۔۔)

         سورۂ رحمن میں خوف خدا  عَزَّوَجَلَّ رکھنے والوں کے لئے دو جنتوں کی بشارت سنائی گئی ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ،

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ

تر جمۂ کنز الایمان :  اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہو نے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں ۔ ( پ ۲۷، الرحمٰن ۴۶  )

(آخرت میں کامیابی۔۔۔۔۔)

         اللہ   تَعَالٰی  سے ڈرنے والوں کو آخرت میں کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے،

وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠

 



Total Pages: 42

Go To