Book Name:Khof e Khuda عزوجل

        امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضٰیرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا، ’’اے بیٹے ! اللہ   تَعَالٰی  سے ایسا خوف رکھو کہ تمہیں گمان ہونے لگے کہ اگر تم تمام اہلِ زمین کی نیکیاں اس کی بارگاہ میں پیش کرو تو وہ انہیں قبول نہ کرے اور اللہ   تَعَالٰی  سے ایسی امید رکھو کہ تم سمجھو کہ اگر سب اہلِ زمین کی برائیاں لے کر اس کی بارگاہ میں جاؤگے تو بھی تمہیں بخش دے گا ۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۰۲)

(ایک شخص کے سواء… )

        امیرالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے فرمایا، ’’اگر آواز دی جائے کہ ایک شخص کے سوا سب جہنم میں چلے جائیں تو مجھے امید ہے کہ وہ (جہنم میں نہ جانے والا)شخص میں ہوں گا اور اگر اعلان کیا جائے کہ ایک آدمی کے علاوہ سب جنت میں داخل ہوجائیں تو مجھے خوف ہے کہ کہیں وہ (جنت میں داخلے سے محروم رہ جانے والا)میں نہ ہوں ۔‘‘

(حلیۃ الاولیاء ، ذکر الصحابۃ من المہاجرین ، ج ۱، ص ۸۵)

(راستے کا کانٹا ہٹانے نے بخشش کرا دی… )

        حضرت سَیِّدُنا منصور بن زکیرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ جب مرض الموت میں مبتلاء ہوئے تو رونے لگے اور اتنا بے قرار ہوئے ، جیسے کوئی ماں اپنے بچے کی موت پر بے قرار ہوتی ہے ۔ لوگوں نے پوچھا ، ’’حضرت ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟جبکہ آپ نے تو بڑی پاکیزہ اور پرہیز گاری کی زندگی بسر کی ہے اور اَسّی برس اپنے رب   تَعَالٰی  کی عبادت وبندگی کی ہے۔‘‘

        آپ نے فرمایا ، ’’میں اپنے گناہوں کی نحوست پر آنسو بہا رہا ہوں ، جن کی وجہ سے میں اپنے رب   تَعَالٰی  کی رحمت سے دور ہوں ۔‘‘یہ فرما کر آپ دوبارہ رونے لگے ۔

   

 پھر کچھ دیر بعد اپنے بیٹے سے مخاطب ہو کر فرمایا، ’’میرے بیٹے! میرا چہرہ قبلہ کی طرف پھیر دو اور جب میری پیشانی سے قطرے نمودار ہونے لگیں او رمیری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں تو میری مدد کرنا اور کلمہ شریف پڑھنا ، شاید مجھے کچھ افاقہ ہو جائے ۔ اورمیرے مرنے کے بعد جب مجھے دفن کر و اور میری قبر پر مٹی ڈال چکو تو وہاں سے روانہ ہونے میں جلدی نہ کرنا بلکہ میری تُربت کے سرہانے کھڑے ہو کر ’’لا الہ الا اللہ  محمد رسول اللہ  ‘‘پڑھنا کہ اس سے مجھے منکر نکیر کے سوالوں کا جواب دینے میں آسانی ہو سکتی ہے، اس کے بعد ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کرنا ، ’’اے مالک ومولا  عَزَّوَجَلَّ ! یہ تیرا بندہ ہے ، اس نے جوگناہ کئے سو کئے ، اگر تو اسے عذاب دے تو یہ اسی کا حق دار ہے اور اگر تُو اسے معاف کردے تو یہ تیرے شایان شان ہے ۔‘‘پھر مجھے الوداع کہتے ہوئے واپس پلٹ آنا۔‘‘

        آپ کے انتقال کے بعد بیٹے نے آپ کی وصیت پر حرف بحرف عمل کیا ۔ پھر اس نے دوسری رات خواب میں آپ کودیکھا تو پوچھا ، ’’ابا جان! کیا حال ہے ؟‘‘ آپ نے جواب دیا ، ’’میرے بیٹے! معاملہ تو اتنا مشکل اور سخت تھا کہ تو تصور بھی نہیں کر سکتا، جب میں اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں حساب کے لئے کھڑا ہوا تو اس نے فرمایا، ’’میرے بندے! بتاؤ، میرے لئے کیا لے کر آئے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کی، ’’یااللہ   عَزَّوَجَلَّ ! ساٹھ حج لایا ہوں ۔‘‘جواب ملا، ’’مجھے ان میں سے ایک بھی قبول نہیں ۔‘‘یہ سن کر مجھ پر لرزہ طاری ہوگیا ۔ اللہ   تَعَالٰی  نے پھر پوچھا ، ’’بتاؤ! اور کیا لائے ہو؟‘‘ میں نے عرض کی ، ’’ایک ہزار درہم کا صدقہ وخیرات۔‘‘ ارشاد فرمایا ، ’’ ان میں سے ایک درہم بھی مجھے قبول نہیں ۔‘‘ میں نے کہا، ’’یا الٰہی  عَزَّوَجَلَّ !پھر تو میں ہلاک ہوگیا اور اب میرے لئے تباہی وبربادی ہے ۔‘‘تو رب   تَعَالٰی  نے فرمایا، ’’کیا تجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ تو اپنے گھر سے باہر کہیں جارہا تھا کہ راستے میں تو نے ایک کانٹا دیکھا اور لوگوں کو اذیت سے محفوظ رکھنے کی نیت سے وہ کانٹا راستے سے ہٹادیا تھا ، میں نے تیرا وہی عمل قبول کیا اور اس کی وجہ سے تیری بخشش کر دی ۔‘‘(حکایات الصالحین، ص ۵۱)

(6)ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا جو اس صفتِ عظیمہ سے متصف ہوں :

        اللہ   تَعَالٰی  کا خوف رکھنے والے نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا بھی انسان کے دل میں خوف ِ الٰہی بیدار کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ پیارے آقا ، مکی مدنی سلطان ، رحمت عالمیان صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، ’’اچھے اور برے مصاحب کی مثال ، مشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے ، کستوری اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی ، جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔‘‘

(صحیح المسلم، ، ص۱۱۱۶، رقم الحدیث ۲۶۲۸)

        واقعی! ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے ، مثال کے طور پر اگر آپ کو کبھی کسی میت والے گھر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو وہاں کی فضا پر چھائی ہوئی اداسی دیکھ کر کچھ دیر کے لئے آپ بھی غمگین ہوجائیں گے اور اگر کسی شادی پر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو خوشیوں بھرا ماحول آپ کو بھی کچھ دیر کے لئے مسرور کر دے گا ۔بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص غفلت کا شکارہو کر گناہوں پر دلیرہوجانے والے لوگوں کی صحبت میں بیٹھے گا ، تو غالب گمان ہے کہ وہ بھی بہت جلد انہی کی مانندہوجائے گا اور اگر کوئی شخص ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرے گا جن کے دل خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ سے معمور ہوں ، ان کی آنکھیں اللہ   تَعَالٰی  کے ڈر سے روئیں تو یقینی طور پر یہی کیفیات اس شخص کے دل میں بھی سرایت کر جائیں گی ۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ

        رہا یہ سوال کہ فی زمانہ ایسی صحبتیں کہاں مل سکتی ہے تو آپ سے گزارش ہے کہ اس سوا ل کا جواب حاصل کرنے کے لئے آپ ان گزارشات پر عمل فرمائیے،

         اپنے شہر میں جمعرات کے دن ہونے والے دعوت ِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کریں ۔( اسلامی بہنیں اپنے اپنے شہر میں اتوار کے دن دوپہر کے وقت ہونے والے اسلامی بہنوں کے اجتماع میں شرکت فرمائیں ) جہاں پر ہونے والی تلاوتِ قرآن، اصلاحی بیانات، اجتماعی طور پر کی جانے والی فکر ِ مدینہ اور اللہ   تَعَالٰی  کا ذکر ، رو رو کر مانگی جانے والی دعائیں ، سرور ِ عالم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں پیش کیا جانے والا درود وسلام، پھرسنتیں سیکھنے اور دعائیں یاد کروانے کے حلقے وغیرہ، یہ سب کچھ آپ کے دل ودماغ میں انقلاب برپا کر دے گا ۔ اس کے علاوہ اجتماع پر آپ کو اس پُر فتن میں بھی ہزاروں ایسے اسلامی بھائی ملیں گے جو سرکار ِ دوعالم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنتوں کی چلتی پھرتی تصویر ہیں ۔ ان کی حیاء سے جھکی ہوئی نگاہیں ، سنت کے مطابق بدن پر سفید لباس اورسر پر زلفیں نیز گنبد ِ خضریٰ کی یاد دلا دینے والا سبز سبزعمامہ، چہرے پر شریعت کے مطابق ایک مٹھی داڑھی ، بقدرِ ضرورت گفتگو کا باادب انداز ، خوش اخلاقی کا نمایاں وصف اورکردار کی پاکیزگی آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دے گی کہ مجھے سفرِ آخرت کی کامیابی کے لئے ایسا ہی مدنی ماحول درکار ہے ۔ قوی گمان ہے کہ ان ہی میں سے کوئی آگے بڑھ کر آپ سے ملاقات کرے ، جس کے نتیجے میں آپ دعوت ِ اسلامی کے ماحول کی افادیت کے مزید قائل ہوجائیں اور آپ بھی یہ مدنی مقصد لے کر گھر لوٹیں کہ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی



Total Pages: 42

Go To