Book Name:Khof e Khuda عزوجل

خوفِ الٰہی  عَزَّوَجَلَّ  کی بھی چند علامات ہیں ، جن کے سبب ہمیں اپنی قلبی کیفیت کا اندازہ کرنے میں دقت پیش نہیں آئے گی ، چنانچہ حضرت سَیِّدُنا فقیہہ ابواللیث سمر قندی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ   تَعَالٰی  کے خوف کی علامت آٹھ چیزوں میں ظاہر ہوتی ہے ،

 (1) انسان کی زبان میں ، وہ اس طرح کہ رب   تَعَالٰی  کا خوف اس کی زبان کو جھوٹ، غیبت، فضول گوئی سے روکے گا اور اُسے ذکر ُاللہ   عَزَّوَجَلَّ  ، تلاوتِ قرآن اور علمی گفتگو میں مشغول رکھے گا ۔

 (2) اس کے شکم میں ، وہ اس طرح کہ وہ اپنے پیٹ میں حرام کو داخل نہ کرے گا اور حلال چیز بھی بقدر ِضرورت کھائے گا ۔

 (3) اس کی آنکھ میں ، وہ اس طرح کہ وہ اسے حرام دیکھنے سے بچائے گا اور دنیا کی طرف رغبت سے نہیں بلکہ حصولِ عبرت کے لئے دیکھے گا ۔

 (4) اس کے ہاتھ میں ، وہ اس طرح کہ وہ کبھی بھی اپنے ہاتھ کو حرام کی جانب نہیں بڑھائے گا بلکہ ہمیشہ اطاعت ِ الٰہی  عَزَّوَجَلَّ  میں استعمال کرے گا ۔

 (5) اس کے قدموں میں ، وہ اس طرح کہ وہ انہیں اللہ   تَعَالٰی  کی نافرمانی میں نہیں اٹھائے گا بلکہ اس کے حکم کی اطاعت کے لئے اٹھائے گا ۔

 (6) اس کے دل میں ، وہ اس طرح کہ وہ اپنے دل سے بغض، کینہ اور مسلمان بھائیوں سے حسد کرنے کو دور کر دے اور اس میں خیرخواہی اور مسلمانوں سے نرمی کا سلوک کرنے کا جذبہ بیدار کرے۔

 (7) اس کی اطاعت وفرمانبرداری میں ، اس طرح کہ وہ فقط اللہ   تَعَالٰی  کی رضا کے لئے عبادت کرے اور ریاء ونفاق سے خائف رہے ۔

 (8) اس کی سماعت میں ، اس طرح کہ وہ جائز بات کے علاوہ کچھ نہ سنے ۔( درۃ الناصحین ، المجلس الثلاثون ، ص۱۲۷)

        اس تفصیل سے بخوبی معلوم ہوگیا کہ قبر وحشر اور حساب ومیزان وغیرہ کے حالات سن کر یا پڑھ کر محض چند آہیں بھر لینا ۔۔۔یا۔۔۔ اپنے سر کوچند مرتبہ اِدھر اُدھر پِھرا لینا ۔۔۔یا۔۔۔ کف ِافسوس مل لینا۔۔۔یا پھر۔۔۔چند آنسو بہا لینا ہی کافی نہیں ، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کے عملی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے گناہوں کا ترک کردینا اور اطاعت ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ  میں مشغول ہوجانابھی اُخروی نجات کے لئے بے حد ضروری ہے ۔

پیارے اسلامی بھائیو!

        ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی جان لیجئے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر وقت دل پر خوف ِخداکی کیفیت غالب رہے ، کیونکہ دل کی کیفیات کسی نہ کسی وجہ سے تبدیل ہوتی رہتی ہیں ، اس پر کبھی ایک کیفیت غالب ہوتی ہے تو کبھی دوسری، …اس کا اندازہ درجِ ذیل واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے ، چنانچہ

        حضرت سَیِّدُنا حنظلہرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ   فرماتے ہیں ، ’’ہم نبی اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھے، آپ نے ہمیں کچھ نصیحتیں ارشاد فرمائیں ، جن کو سن کر ہمارے دل نرم ہوگئے ، ہماری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور ہم نے اپنے آپ کو پہچان لیا۔ پھر جب میں اپنے گھر واپس پہنچا اور میری بیوی میرے قریب آئی تو ہمارے درمیان دنیاوی گفتگو ہونے لگی ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں میرے دل پر جو کیفیت طاری ہوئی تھی‘ تبدیل ہوگئی اورہم دنیا کے کاموں میں مشغول ہوگئے ۔ پھر جب مجھے وہ بات یاد آئی تو میں نے دل ہی دل میں کہا کہ’’ میں تومنافق ہوگیا ہوں کیونکہ جو خوف اور رقت مجھے پہلے حاصل تھی ، وہ تبدیل ہوگئی۔‘‘چنانچہ میں گھبرا کرباہر نکلا اور پکار کر کہنے لگا ،  ’’حنظلہ منافق ہو گیا ہے ۔‘‘ حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  میرے سامنے تشریف لے آئے اور فرمایا ، ’’ہرگز نہیں ! حنظلہ منافق نہیں ہوا ۔‘‘

        بالآخر میں یہی بات کہتے کہتے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں پہنچ گیا۔رحمت ِ عالمیان صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے بھی فرمایا، ’’ہرگز نہیں ! حنظلہ منافق نہیں ہوا۔‘‘ تو میں نے عرض کی ، ’’یارسول اللہ  صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! جب ہم آپ کی خدمت ِ اقدس میں حاضر تھے تو آپ نے ہمیں وعظ فرمایا، جس کو سن کر ہمارے دل دہل گئے ، آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ہم نے اپنے آپ کو پہچان لیا ۔اس کے بعد میں اپنے گھر والوں کی طرف پلٹا اور ہم دنیاوی باتوں میں مشغول ہوگئے جس کے سبب آپ کی بارگاہ میں پیدا ہونے والاسوز وگداز رخصت ہوگیا ۔‘‘(یہ سن کر) سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، ’’اے حنظلہرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ ! اگر تم ہمیشہ اُسی حالت پر رہتے تو فرشتے راستے اور تمہارے بستر پر تم سے مصافحہ کرتے ، لیکن یہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے ۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۰۱)

 پیارے اسلامی بھائیو!

                خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کے احکام اور اس کی مختصر سی وضاحت جان لینے کے بعد ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئیے کہ اب تک ہم اپنی زندگی کی کتنی سانسیں لے چکے ہیں ، اس دنیائے فانی میں اپنی حیات کے کتنے ایام گزارچکے ہیں !بچپن ، جوانی ، بڑھاپے میں سے اپنی عمر کے کتنے اَدوارہم گزار چکے ہیں ؟اوراس دوران کتنی مرتبہ ہم نے اس نعمت عظمیٰ کو اپنے دل میں محسوس کیا؟ کیا کبھی ہمارے بدن پر بھی اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کے ڈر سے لرزہ طاری ہوا ؟ کیا کبھی ہماری آنکھوں سے خشیتِ الٰہی  عَزَّوَجَلَّ  کی وجہ سے آنسو نکلے ؟ کیا کبھی کسی گناہ کے لئے اٹھے ہوئے ہمارے قدم اس کے نتیجے میں ملنے والی سزا کا سوچ کر واپس ہوئے ؟کیا کبھی ہم نے اللہ   تَعَالٰی  کی بارگاہ میں حاضری اور اس کی طرف سے کی جانے والی گرفت کے ڈر سے زندگی کی کوئی رات آنکھوں میں کاٹی ؟ کیا کبھی رب   تَعَالٰی  کی ناراضگی کا سوچ کر ہمیں گناہوں سے وحشت محسوس ہوئی ؟ کیا کبھی اپنے مالک  عَزَّوَجَلَّ  کی رضا کو پا لینے کی خواہش سے ہمارے دل کی دنیا زیروزبر ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

         اگر جواب ہاں میں ہو تو سوچئے کہ اگر ہم نے ان کیفیات کو محسوس بھی کیا تو کیا خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کے عملی تقاضوں پر عمل پیرا ہونے کی سعادت حاصل کی یا محض ان کیفیات کے دل پر طاری ہونے پر مطمئن ہو گئے کہ ہم اللہ   تَعَالٰی  سے ڈرنے والوں میں سے ہیں اور مختلف گناہوں سے اپنا نامۂ اعمال سیاہ کرنے کا عمل بدستورجاری رکھا اور نیکیوں سے محرومی کا تسلسل بھی نہ ٹوٹ سکا؟ صرف یہی نہیں بلکہ ان کیفیات کے بار بار احساس کے لئے کوئی دعا بھی لبوں پر نہ آئی ۔

        اور اگران سوالات کا جواب نفی میں آئے تو غور کیجئے کہیں ایسا تو نہیں کہ گناہوں کی کثرت کے نتیجے میں ہمارا دل سخت سے سخت تر ہوچکاہو جس کی وجہ سے ہم ان کیفیات سے اب تک ناآشنا ہوں ۔اگر واقعی ایسا ہے تومقامِ تشویش ہے کہ ہماری کساوتِ قلبی اوراس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غفلت کہیں ہمیں جہنم کی اتھاہ گہرائیوں میں نہ گرا دے ۔ (والعیاذ باللہ  )

 



Total Pages: 42

Go To