Book Name:Khof e Khuda عزوجل

منتظر ہوگا کہ شاید مجھے بخش دیا جائے ۔ ‘‘(کیمیائے سعادت، ج۲، باب فضیلۃ الرجاء، ص۸۱۵)

( اللہ   عَزَّوَجَلَّ   کی سو(100)رحمتیں … )

        نورِ مجسم، شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ ، ’’اللہ   تَعَالٰی  کی سو رحمتیں ہیں ، ننانوے رحمتیں ، اس نے قیامت کے لئے رکھی ہیں اور دنیا میں فقط ایک رحمت ظاہر فرمائی ہے ۔ ساری مخلوق کے دل اسی ایک رحمت کے باعث رحیم ہیں ۔ ماں کی شفقت و محبت اپنے بچے پر اور جانوروں کی اپنے بچے پر مامتا ، اسی رحمت کے باعث ہے۔ قیامت کے دن ان ننانوے رحمتوں کے ساتھ اس ایک رحمت کو جمع کر کے مخلوق پر تقسیم کیا جائے گا، اور ہر رحمت آسمان و زمین کے طبقات کے برابر ہوگی ۔ اور اس روز سوائے ازلی بد بخت کے اور کوئی تباہ نہ ہوگا ۔ ‘‘(کنز العمال ، ج ۴، صفحہ  ۱۱۸ )

(جنتیوں کی صفّوں میں … )

        حضرت جابر بن عبداللہ  رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  روایت کرتے ہیں کہ رحمت ِ کونین صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا، ’’مجھے جبرائیل ں نے بتایا، ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  !اللہ   تَعَالٰی  بروزِقیامت مجھ سے دریافت فرمائے گا…، ’’اے جبرائیل ں ! کیا بات ہے، میں فلاں بن فلاں کو جہنمیوں کی صفّوں میں دیکھ رہا ہوں ؟‘‘ تو میں عرض کروں گا ، ’’یاالٰہی  عَزَّوَجَلَّ  ! ہم نے اس کے نامہ اعمال میں کوئی ایسی نیکی نہ پائی جو آج کے دن اس کے کام آسکے ۔‘‘ اللہ   عَزَّوَجَلَّ  فرمائے گا ، ’’اس نے دنیا میں مجھے ’’یاحنّان، یامنّان‘‘کہہ کر پکارا تھا ، …کیا میرے علاوہ بھی کوئی حنّان ومنّان ہے ؟‘‘یہ کہنے کے بعد اس شخص کو جنتیوں کی صفّوں میں شامل فرما دے گا ۔(الدرالمنثور ، ج۷، ص۲۰۶)

(بڑے گناہ نظر نہیں آرہے؟ … )

        سرورِ کونین صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایاکہ’’میں جنتیوں میں سے آخری داخل ہونے والے جنتی اور دوزخیوں میں سے نکلنے والے آخری شخص کو جانتا ہوں کہ وہ شخص ہوگا جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائیگا کہ ’’اس پر اسکے چھوٹے گناہ پیش کرو اور بڑے گناہ چھپائے رکھو۔ ‘‘ چنانچہ اسکے چھوٹے گناہ پیش کئے جائینگے اور کہا جائے گا کہ’’ تو نے فلاں دن فلاں گناہ اور فلاں دن فلاں گناہ کئے ؟ ‘‘وہ انکار کرنے کی ہمت نہ کرسکے گا اور  کہے گا ، ’’ہاں !‘‘ اس وقت وہ اپنے بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہوگا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بھی پیش کر دیئے جائیں ۔ جب اسے بتایا جائے گا کہ تیرے لئے ہر گناہ کے بدلے میں نیکی ہے ، تو وہ کہے گا کہ ’’میں نے تو اور بڑے بڑے گناہ بھی تو کئے ہیں وہ یہاں نظر نہیں آرہے ؟ ‘‘حضرت ابو ذررَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ میں نے آقاصَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو دیکھا کہ آپ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مسکراہٹ کے باعث داڑھیں چمک گئیں ۔ (مشکوۃ المصابیح ، باب الحوض والشفاعۃ ، ص۲۱۶، رقم الحدیث ۵۵۸۷ )

(میں تجھ پر ظلم نہیں کروں گا … )

        سرورِ کونین صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا، ’’قیامت کے دن میری امت میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا اور اس کے ننانونے اعمال نامے ساتھ ہوں گے ، جن میں سے ہر ایک حد ِ نگاہ تک طویل ہوگا ۔ اس شخص کو اس کے سارے گناہ بتائے جائیں گے اور اللہ   تَعَالٰی  اس سے پوچھے گا ، ’’کیا تم ان میں سے کسی تقصیر کا انکار کر سکتے ہو؟کہیں فرشتوں نے اس کے لکھنے میں تجھ پر ظلم تو نہیں کیا؟ ‘‘ وہ شخص جواب دے گا ، ’’یا رب  عَزَّوَجَلَّ ! نہیں ‘‘ پھر ربُّ العالمین دریافت فرمائے گا ، ’’کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے ؟ـــ‘‘ وہ عرض کرے گا ’’اے میرے رب  عَزَّوَجَلَّ !نہیں ۔‘‘اور وہ سمجھے گا کہ اب تو مجھے دوزخ میں جانا پڑے گا ۔ تب رب   تَعَالٰی  فرمائے گا ، ’’اے بندے ! تیری ایک نیکی میرے پاس ہے ، میں تجھ پر ظلم نہیں کروں گا ۔‘‘پھر ایک رقعہ لایا جائے گا جس پر اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ لکھا ہوگا۔ اسے دیکھ کر وہ شخص حیران ہوکرپوچھے گا ، ’’یارب  عَزَّوَجَلَّ ! یہ رقعہ ان بڑے بڑے دفاتر ِ گناہ کے کیونکر ہم پلہ ہو سکتا ہے ؟ـــ‘‘اللہ   تَعَالٰی  فرمائے گا ، ’’میں تجھ پر ظلم نہیں کروں گا۔‘‘ پھر گناہوں پر مشتمل ان تمام اعمال ناموں کو ایک پلڑے میں رکھا جائے گا جبکہ اس رقعہ کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تورقعے والاپلڑا ان تمام پر بھاری ہوجائے گا ۔(کیمیائے سعادت، ج۲، باب فضیلۃ الرجائ، ص۸۱۵)

(محبت کا عجب انداز … )

        مروی ہے کہ سرورِ کونین صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عہد ِ مسعود میں کسی جنگ میں قید ہوجانے والوں میں ایک بچہ بھی شامل تھا ۔سخت گرمی کے دن تھے کہ قیدیوں کے ایک خیمے سے کسی عورت کی نگاہ اس بچے پر پڑی اور وہ دوڑتی ہوئی آئی ۔ خیمے کے دوسرے لوگ بھی اس کے پیچھے دوڑے ۔ اس عورت نے دوڑکر اس بچے کو اٹھا لیا اوراپنے سینے سے لگا کر اپنا سایہ اس پر ڈالا تاکہ وہ دھوپ سے محفوظ رہ سکے ۔ لوگ عورت کی محبت کا یہ عجیب انداز دیکھ کر حیران رہ گئے اور رونے لگے ۔ جب یہ واقعہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو آپ اس عورت کی شفقت اور ان لوگوں کی گریہ وزاری سے شاد ہو کر فرمانے لگے ، ’’کیا تمہیں اس عورت کی شفقت پر تعجب ہے ؟‘‘لوگوں نے عرض کی، ’’جی ہاں !‘‘یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا، ’’ اللہ   تَعَالٰی  اس سے کہیں زیادہ تم سے محبت فرماتا ہے جتناکہ اس عورت کو بچے سے محبت ہے۔‘‘تمام مسلمان یہ خوش خبری سن کر شاداں وفرحاں واپس لوٹے۔

(کیمیائے سعادت، ج۲، باب فضیلۃ الرجائ، ص۸۱۶)

(جنت میں جانے کا حکم … )

        حضرت ِسعید ابن ہلال رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں کہ دو شخصوں کو جہنم سے باہر لایا جائے گا۔ حق  تَعَالٰی  ارشادفرمائے گا’’ جو عذاب تم نے دیکھا وہ تمھارے ہی عملوں کے سبب سے تھا ، میں اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہوں ۔ ‘‘ پھر ان کو دوبارہ جہنم میں ڈالے جانے کا حکم دے دیا جائے گا ۔ ان میں سے ایک شخص زنجیریں پڑی ہونے سے باوجود ، جلدی جلدی ، دوزخ کی طرف جائے گا اور کہتا جائے گا کہ ’’میں گناہوں کے بوجھ سے اتنا ڈر گیا ہوں کہ اب اس حکم کو پورا کرنے میں کوتاہی نہیں کر سکتا ۔‘‘

         اور دوسرا کہے گا کہ’’ یاالٰہی عَزَّوَجَلَّ  ! میں نیک گمان رکھتا تھا اور مجھے امید تھی کہ ایک مرتبہ دوزخ سے نکالنے کے بعد ، دوبارہ دوزخ میں ڈالنا ، تیری رحمت گوارانہ کرے گی۔‘‘ تب اللہ   تَعَالٰی  کی رحمت جوش میں آئیگی اور ان دونوں کو جنت میں جانے کا حکم دے دیا جائے گا ۔ ( ترمذی، کتاب صفۃ الجھنم ، جلد۴، ص۲۶۹)

 (صاحب زادے کو نصیحت … )

 



Total Pages: 42

Go To