Book Name:Khof e Khuda عزوجل

(مکاشفۃ القلوب ، ص۳۱۵)

(حُور کے چہرے کا نور…)

        حضرت سَیِّدُناابو سلیمان درّانی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں اپنی عبادت گاہ میں کھڑا اپنے وظائف مکمل کر رہا تھا کہ مجھ پر نیند کا غلبہ طاری ہوا چنانچہ میں بیٹھ گیا اور بیٹھے بیٹھے میری آنکھ لگ گئی ۔ میں نے خواب میں ایک نہایت ہی خوبصورت حور کو دیکھا، جس کے رخساروں سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں ۔ میں اس حسن وجمال کو دیکھ کر دنگ رہ گیا ، اتنے میں اس نے مجھے اپنے پاؤں سے ہلکی سی ٹھوکر لگائی اور کہنے لگی، ’’بڑے افسوس کی بات ہے ! میں جنت میں تیرے لئے بنی سنوری بیٹھی ہوں اور تم سورہے ہو؟‘‘ یہ سن کر میں نے اسی وقت نذر مان لی کہ اب کبھی نہیں سوؤں گا۔

         میری یہ حالت دیکھ کر حور مسکرا دی جس سے میرا سارا کمرہ نور سے جگمگا اٹھااور میں بڑی حیرانی سے اس پھیلے ہوئے نور کو دیکھنے لگا۔ اس نے میری حیرت کو بھانپ لیا  اور کہنے لگی، ’’جانتے ہو کہ میرا چہرہ اتنا روشن کیوں ہے ؟‘‘ میں نے کہا، ’’ نہیں ۔‘‘وہ کہنے لگی کہ’’تمہیں یاد ہوگا کہ ایک مرتبہ سخت سردیوں کی رات تھی ، تم نے اٹھ کروضو کیا ، اس کے بعد نماز ادا کرنا شروع کی تھی اور پھر اللہ   تَعَالٰی  کے خوف کی وجہ سے تمہاری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے ، اسی وقت رب  عَزَّوَجَلَّ  کی طرف مجھے حکم دیا گیا کہ فردوس بریں سے سینہ ٔ زمین پر اتر کر تمہارے اِن آنسوؤں کو اپنے دامن میں سمیٹ لوں ۔پھر میں نے تیرے آنسوؤں کا ایک قطرہ اپنے چہرے پر مل لیا تھا ، میرے چہرے کی یہ چمک تمہارے انہی آنسوؤں کی وجہ سے ہے ۔‘‘(حکایات الصالحین، ص ۳۹)

(ہنستے ہوئے جنت میں …)

         کسی بزرگ کا قول ہے ، ’’جو ہنستے ہوئے گناہ کرے گا تو رب   تَعَالٰی  اسے اس حال میں جہنم میں ڈالے گا کہ وہ رو رہا ہو گااور جو روتے ہوئے نیکی کرے ، تو اللہ   تَعَالٰی  اسے اس حال میں جنت میں داخل فرمائے گا کہ وہ ہنس رہا ہو گا۔‘‘(المنبہات علی الاستعداد لیوم المعاد، ص۵ ) 

میرے اشک کاش! گرتے رہیں ٹپ ٹپ

تیرے خوف سے !  یاخدا  عَزَّوَجَلَّ  یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ

پیارے اسلامی بھائیو!

                 لیکن یہ ذہن میں رہے کہ جہاں خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  سفرآخرت کی کامیابی کے لئے اہمیت رکھتا ہے وہیں رحمتِ الٰہی کی برسات کی امیدرکھنا بھی نویدِ کامرانی ہے ۔بلکہ یوں سمجھئے کہ انسان گویا ایک ایسا پرندہ ہے جسے سفرِ آخرت کامیاب بنانے کے لئے خوف خدا اور رحمت ِ الٰہی کی امیدکے دو پروں کی ضرورت ہے ۔رحمت ِ خداوندی کس طرح اپنے امیدوارکو آغوش میں لیتی ہے ، اس کا اندازہ درجِ ذیل روایات سے لگائیے…

(میں رحمت ِ خداوندی کا امیدوار ہوں … )

         ایک مرتبہ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے کسی شخص کو نزع کے عالم میں دیکھ کر اس سے دریافت فرمایاکہ ’’تو خود کو کس حال میں پاتا ہے ؟‘‘اس نے عرض کی کہ’’میں گناہوں سے ڈرتا ہوں اور رحمت ِ خداوندی کا امیدوار بھی ہوں ۔‘‘ تب حضوراکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ، ’’ایسے وقت میں جس شخص کے دل میں یہ دو باتیں جمع ہوتی ہیں ، رب   تَعَالٰی  اسے ڈر سے نجات دیتا ہے اور اس کی امید بَر لاتا ہے ۔ ‘‘( شعب الایمان، جلد۲، ص۴ ، رقم الحدیث ۱۰۰۱)

(زمین بھر رحمت … )

        حدیث ِ قدسی ہے کہ اللہ   تَعَالٰی  ارشاد فرماتا ہے کہ’’ اگر میرا بندہ آسمان بھر کے گناہ کربیٹھے ، پھر مجھ سے بخشش چاہے اور امید ِمغفرت رکھے تو میں اسکو بخش دوں گا اور اگر بندہ زمین بھر کے گناہ کرے تو بھی میں اسکے واسطے زمین بھر رحمت رکھتا ہوں ۔ ‘‘(کیمیائے سعادت، ج۲، باب فضیلۃ الرجائ، ص۸۱۳)

(رحمت ، غضب پر سبقت لے گئی … )

         رحمت ِ عالمیان صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ رب   تَعَالٰی  کا فرمان عظمت نشان ہے کہ’’ میری رحمت ، میرے غضب پر سبقت لے گئی ۔ ‘‘   

                                                                                                                  (شعب الایمان ، ج۲، ص۱۵، رقم الحدیث ۱۰۳۸)

(رحمت ِ الٰہی کی مثال … )

        مکی مدنی سرکارصَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ، ’’حق  تَعَالٰی  اپنے بندوں پر اس سے کہیں زیادہ مہربان ہے ، جتنا کہ ایک ماں اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے ۔‘‘     

(مسلم، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ  ، ص ۱۱۶۰، رقم الحدیث ۲۷۶۴)

(ہنسنے والا اعرابی … )     

         ایک اعرابی نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں عرض کی کہ’’ قیامت کے دن بندوں کے اعمال کا حساب کون کرے گا ؟‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا، ’’اللہ   عَزَّوَجَلَّ  !‘‘اس نے عرض کی ، ’’کیا وہ خود ہی حساب فرمائے گا ؟‘‘ جواب دیا ’’ہاں ۔‘‘ یہ سنکر وہ اعرابی ہنسنے لگا۔ آقا صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وجہ دریافت کی تو عرض کرنے لگا کہ’’ میں اس لئے ہنس رہا ہوں کہ ’’کریم جب غالب ہوتا ہے تو وہ بندے کی تقصیر معاف فرما دیتا ہے اور حساب آسانی سے لیتاہے ۔‘‘رحمتِ دوعالم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’اعرابی نے سچ کہا ، رب کریم سے زیادہ کوئی کریم نہیں ہے ، یہ اعرابی بہت بڑا فقیہ اور دانش مند ہے ۔ ‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۱۸۳)

(بروزِ قیامت رب  تَعَالٰی ٰ کی رحمت … )

        سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ ، ’’ اللہ   تَعَالٰی  قیامت کے دن اس قدر ، بخشش فرمائے گا جس کا کسی کے دل میں تصور بھی نہ ہوگا ، یہاں تک کہ ابلیس بھی اس کا  

 



Total Pages: 42

Go To