Book Name:Khof e Khuda عزوجل

گرے ہوں ۔(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۰۱)

(رونا نہ آئے تو…)

        حضرت عبداللہ  بن عمرو بن العاصرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا، ’’رویا کرو! اگر رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کرو، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر تم میں سے کسی کو علم ہوتا تو وہ اس قدر چیختا کہ اس کی آواز ٹوٹ جاتی اور اس طرح نماز پڑھتا کہ اس کی پیٹھ ٹوٹ جاتی۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۳۰)

(اس امت کو عذاب نہیں ہوتا…)

        حضرت سَیِّدُناابوسلیمان دارانی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں ، ’’جو آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبائیں گی ، اس چہرے پر قیامت کے دن غبار اور ذلت نہیں چڑھے گی ، اگر اس کے آنسو جاری ہو جائیں تو اللہ   تَعَالٰی  اُن آنسوؤں کے پہلے قطرے کے ساتھ آگ کے کئیسمندر بجھا دیتا ہے ، اور جس امت میں سے کوئی شخص (خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ سے)روتا ہے ، اس امت کو عذاب نہیں ہوتا ۔‘‘ (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۰۱)

(ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے بہتر…)

        حضرت سَیِّدُنا عبداللہ  بن عمر رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے فرمایا، ’’اللہ   تَعَالٰی  کے خوف سے ایک آنسو کا بہنا میرے نزدیک ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے بہتر ہے ۔‘‘

(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۵۰۲، رقم الحدیث ۸۴۲، )

 (ایک قطرے کی وجہ سے جہنم سے آزادی…)

        مروی ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو بارگاہِ خداوندی میں لایا جائے گا اور اسے اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا تو وہ اس میں کثیر گناہ پائے گا ۔ پھر عرض کرے گا، ’’یاالٰہی! میں نے تو یہ گناہ کئے ہی نہیں ؟‘‘اللہ   عَزَّوَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا ، ’’میرے پاس اس کے مضبوط گواہ ہیں ۔‘‘ وہ بندہ اپنے دائیں بائیں مڑ کر دیکھے گا لیکن کسی گواہ کو موجود نہ پائے گا اور کہے گا ، ’’یارب  عَزَّوَجَلَّ ! وہ گواہ کہاں ہیں ؟‘‘ تو اللہ   تَعَالٰی  اس کے اعضاء کو گواہی دینے کا حکم دے گا۔کان کہیں گے، ’’ہاں ! ہم نے (حرام)سنا اور ہم اس پر گواہ ہیں ۔‘‘ آنکھیں کہیں گی، ’’ہاں !ہم نے(حرام)دیکھا۔‘‘ زبان کہے گی، ’’ہاں ! میں نے (حرام) بولاتھا۔‘‘اسی طرح ہاتھ اور پاؤں کہیں گے، ’’ہاں ! ہم (حرام کی طرف)بڑھے تھے۔‘‘شرم گاہ پکارے گی ، ’’ہاں ! میں نے زنا کیا تھا۔‘‘

        وہ بندہ یہ سب سن کر حیران رہ جائے گا ۔ پھرجب اللہ   تَعَالٰی  اس کے لئے جہنم میں جانے کا حکم فرمادے گا تو اس شخص کی سیدھی آنکھ کا ایک بال ‘رب   تَعَالٰی  سے کچھ عرض کرنے کی اجازت طلب کرے گا اور اجازت ملنے پر عرض کرے گا، ’’یااللہ   عَزَّوَجَلَّ ! کیاتونے نہیں فرمایا تھا کہ میرا جو بندہ اپنی آنکھ کے کسی بال کو میرے خوف میں بہائے جانے والے آنسوؤں میں تر کرے گا ، میں اس کی بخشش فرما دوں گا ؟‘‘اللہ   تَعَالٰی  ارشاد فرمائے گا ، ’’کیوں نہیں !‘‘تو وہ بال عرض کر ے گا، ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا یہ گناہ گار بندہ تیرے خوف سے رویا تھا ، جس سے میں بھیگ گیا تھا ۔‘‘ یہ سن کر اللہ   تَعَالٰی  اس بندے کو جنت میں جانے کا حکم فرما دے گا ۔ ایک منادی پکار کر کہے گا ، ’’سنو! فلاں بن فلاں اپنی آنکھ کے ایک بال کی وجہ سے جہنم سے نجات پا گیا۔‘‘

(درۃ الناصحین ، المجلس الخامس والستون ، ص۲۹۴)

(اشکوں کا پیالہ…)

        منقول ہے کہ بروزِ قیامت جہنم سے پہاڑ کے برابر آگ نکلے گی اور امتِ مصطفی کی طرف بڑھے گی توسرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   اسے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے حضرت جبرائیل ں کو بلائیں گے کہ’’ اے جبرائیل اس آگ کو روک لو ، یہ میری امت کو جلانے پر تُلی ہوئی ہے۔‘‘ حضرت جبرائیلں ایک پیالے میں تھوڑا سا پانی لائیں گے اور آپ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں پیش کر کے عرض کریں گے ، ’’اس پانی کو اس آگ پر ڈال دیجئے ۔‘‘ چنانچہ سرورِ عالم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اس پانی کو آگ پر انڈیل دیں گے ، جس سے وہ آگ فوراً بجھ جائے گی ۔پھر آپ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  حضرت جبرائیل ں سے دریافت کریں گے ، ’’اے جبرائیل ! یہ کیسا پانی تھاجس سے آگ فوراً بجھ گئی ؟‘‘ تو وہ عرض کریں گے کہ ، ’’یہ آپ کے ان امتیوں کے آنسوؤں کا پانی ہے جو خوفِ خدا کے سبب تنہائی میں رویا کرتے تھے، مجھے رب   تَعَالٰی  نے اس پانی کو جمع کرکے محفوظ رکھنے کا حکم فرمایا تھا تاکہ آج کے دن آپ کی امت کی طرف بڑھنے والی اس آگ کو بجھایا جا سکے ۔‘‘(درۃ الناصحین ، المجلس الخامس والستون ، ص۲۹۵)

 (جہنم کے کس کونے میں ڈالے گا…)

        مروی ہے کہ ایک گناہ گاروفاسق شخص بصرہ کے گردو نواح میں کسی جگہ فوت ہوگیا ۔ اس کی بیوی کو کوئی بھی ایسا شخص نہ ملا جو اس کاجنازہ اٹھائے حتی کہ پڑوسیوں میں سے بھی کوئی شخص آگے نہ بڑھا کیونکہ یہ شخص بڑا فاسق تھا۔ چنانچہ اس عورت نے دومزدوراجرت پر لئے جو اسے جنازہ گاہ تک لے گئے مگر کسی نے بھی اس کا جنازہ نہ پڑھا۔ پھر وہ اسے دفن کرنے کی غرض سے صحراء کی طرف روانہ ہوئے ۔اس صحراء کے قریب ایک پہاڑ تھا جس پر بڑے زاہد وعابد بزرگ رہتے تھے ۔ اس عورت نے دیکھا کہ وہ یوں کھڑے ہیں جیسے اسی جنازے کا انتظار کر رہے ہوں ۔ اس بزرگ نے اس شخص کی نمازِ جنازہ پڑھنے کی خواہش ظاہر کی تو یہ خبر پورے شہر میں پھیل گئی کہ وہ بزرگ فلاں کا جنازہ پڑھیں گے ۔

        لوگ یہ سن کر اس جگہ اکٹھے ہوگئے اور بزرگ کے ہمراہ نمازِ جنازہ ادا کی ۔ لوگوں نے بزرگ کے اس شخص کا جنازہ پڑھنے پر بڑی حیرت کا اظہار کیا تو انہوں نے بتایا، ’’ مجھے خواب میں حکم دیا گیا تھا کہ اس جگہ جاؤ جہاں تمہیں ایک جنازہ ملے گا جس کے ساتھ ایک عورت ہوگی ، اس کی نمازِ جنازہ پڑھو کہ وہ مغفرت یافتہ ہے ۔ ‘‘ یہ سن کر لوگوں کی حیرانی میں مزید اضافہ ہوگیا ۔ پھر اس بزرگ نے اس شخص کی بیوی سے اس کے کردار وغیرہ کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے کہا کہ یہ دن بھر بدمستی کرنے اور شراب خوری میں مشہور تھا۔ بزرگ نے دوبارہ کہا، ’’یاد کرو! کیا تم نے کبھی اس میں کوئی بھلائی کی بات دیکھی ؟‘‘ تو اس نے عرض کی، ’’جی ہاں ! تین باتیں ہیں ، (پہلی) :  یہ کہ جب صبح کے وقت اس کا نشہ اترتا تو یہ اپنے کپڑے تبدیل کرتا اور وضو کر کے صبح کی نماز جماعت سے پڑھتا اور پھر سے فسق وفجور میں کھو جاتا، (دوسری) :  یہ کہ یہ ہمیشہ اپنے گھر میں ایک یا دو یتیم بچوں کو رکھتا اور اپنے بچوں سے بڑھ کر ان کا خیال رکھتا تھا ، (تیسری) :  جب رات گئے وہ نشے سے کچھ دیر کے لئے ہوش میں آتا تو رونے لگتا اور کہا کرتا، ’’اے میرے رب! تونے مجھ خبیث کو جہنم کے کس کونے میں ڈالنے کا ارادہ فرمایا ہے؟‘‘ یہ سن کر وہ بزرگ واپس ہو لئے کہ عُقدہ کھل چکا تھا ۔

 



Total Pages: 42

Go To