Book Name:Khof e Khuda عزوجل

جائے گا ؟‘‘تو فرمایا، ’’ ہاں ! وہ شخص جو اپنے گناہوں کو یاد کر کے روئے ۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۰۰)

(آگ نہ چھوئے گی…)

        حضرت سَیِّدُنا عبداللہ  بن عباس رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا، ’’دو آنکھوں کو آگ نہ چھوئے گی ، ایک وہ جو رات کے اندھیرے میں رب  عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے روئے اور دوسری وہ جو راہ خدا  عَزَّوَجَلَّ  میں پہرہ دینے کے لئے جاگے۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۴۷۸، رقم الحدیث ۷۹۶  )

(پسندیدہ قطرہ…)

         رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا، ’’اللہ   تَعَالٰی  کو اس قطرے سے بڑھ کر کوئی قطرہ پسند نہیں جو(آنکھ سے) اس کے خوف سے بہے یا خون کا وہ قطرہ جو اس کی راہ میں بہایا جاتا ہے ۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۰۰)

(مدنی تاجدار صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی دعا…)

        مدنی تاجدارصَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اس طرح دعا مانگتے ، ’’اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِیْ عَیْنَیْنِ ھَطَالَتَیْنِ تُشْفَیَانِ بِذُرُوْفِ الدَّمْعِ قَبْلَ اَنْ تَصِیْرَ الدُّمُوْعَ دَمَأً وَالْاَضْرَاسُ جمرَأً۔ اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ ! مجھے ایسی دو آنکھیں عطا فرماجو کثرت سے آنسو بہاتی ہوں اور آنسوگرنے سے تسکین دیں ، اس سے پہلے کہ آنسو‘خون بن جائیں اور داڑھیں انگاروں میں بدل جائیں ۔‘‘

(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۰۰)

   

(فرشتوں کی دعا…)

        ایک مرتبہ سرور ِ کونین صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے خطبہ دیا تو حاضرین میں سے ایک شخص رو پڑا ۔ یہ دیکھ کر آپ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، ’’اگر آج کی اس محفل میں تم میں سے ہر ایک پر پہاڑکے برابر بھی گناہ ہوتے تو اس شخص کی آہ وبکاء کے صدقے معاف کر دئیے جاتے ، کیونکہ ملائکہ بھی رو رو کر دعا کر رہے ہیں ، ’’اے اللہ  عَزَّوَجَلَّ !  گریہ وزاری کرنے والوں کی شفاعت نہ رونے والوں کے حق میں قبول فرما۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۴۹۴، رقم الحدیث ۸۱۰، )

(خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ سے رونے والا…)

        حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی،

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ(۵۹) وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ

تو کیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو ، اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ۔(ترجمہ کنزالایمان ، پ۲۷، النجم۵۹، ۶۰)

          تو اصحابِ صُفَّہرَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عَنہم اس قدر روئے کہ ان کے رخسار آنسوؤں سے تر ہو گئے ۔ انہیں روتا دیکھ کر رسول اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  بھی رونے لگے ۔آپ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے بہتے ہوئے آنسو دیکھ کر وہ اور بھی زیادہ رونے لگے ۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا، ’’وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جو اللہ   تَعَالٰی  کے ڈر سے رویا ہو ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۴۸۹، رقم الحدیث ۷۹۸)

(دونوں رونے لگے…)

        حضرت ِسَیِّدُنا زکریا ں کے بیٹے حضرت سَیِّدُنایحییٰ ں ایک مرتبہ کہیں کھو گئے ۔ تین دن کے بعد آپ ان کی تلاش میں نکلے تو دیکھاکہ حضرت سَیِّدُنا یحییٰ ں نے ایک قبر کھود رکھی ہے اور اس میں کھڑے ہوکررو رہے ہیں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا، ’’اے میرے بیٹے!میں تمہیں تین دن سے ڈھونڈ رہا ہوں اور تم یہاں قبر میں کھڑے آنسو بہارہے ہو؟‘‘ تو انہوں نے عرض کی کہ، ’’اباجان! کیا آپ نے مجھے نہیں بتایا کہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک خشک وادی ہے جسے رونے والوں کے آنسو ہی بھر سکتے ہیں ؟‘‘ تو آپ نے فرمایا، ’’ضرور ضرور! میرے بیٹے۔‘‘اور خود بھی ان کے ساتھ مل کر رونے لگے ۔(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۴۹۴، رقم الحدیث ۸۰۹، )

(رونے جیسی صورت بنا لے…)

         امیرالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے فرمایا، ’’جو شخص رو سکتا ہو تو روئے اور اگر رونا نہ آتا ہو تو رونے جیسی صورت بنا لے ۔‘‘

(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۰۱)

(آنسو نہ پونچھو…)

         امیرالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے فرمایا، ’’جب تم میں سے کسی کو رونا آئے تو وہ آنسوؤں کو کپڑے سے صاف نہ کرے بلکہ رخساروں پر بہہ جانے دے کہ وہ اسی حالت میں رب   تَعَالٰی  کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۴۹۴، رقم الحدیث ۸۰۸ )   

(آگ نہ چھوئے گی… )

        حضرت سَیِّدُنا کعب الاحبار رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے فرمایا ، ’’خوف خدا سے آنسو بہانا مجھے اس سے بھی زیادہ محبوب ہے کہ میں اپنے وزن کے برابر سونا صدقہ کروں اس لئے کہ جو شخص اللہ   عَزَّوَجَلَّ کے ڈر سے روئے اور اس کے آنسووؤں کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرجائے تو آگ اس کو نہ چھوئے گی۔‘‘(درۃ الناصحین ، المجلس الخامس والستون ، ص۲۹۳)

(آنسوؤں کو داڑھی سے صاف کرتے…)

        حضرت سَیِّدُنا محمد بن منکدررَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  جب روتے تو آنسو کو اپنے چہرے اور داڑھی سے صاف کرتے اور فرماتے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آگ اس جگہ کو نہ چھوئے گی جہاں آنسو



Total Pages: 42

Go To