Book Name:Khof e Khuda عزوجل

آہ! سلبِ ایماں کا خوف کھائے جاتا ہے

کاش! میری ماں نے ہی مجھ کو نہ جنا ہوتا

آکے نہ پھنسا ہوتا میں بطورِ انسان کاش!

کاش! میں مدینے کا اونٹ بن گیا ہوتا

اونٹ بن گیا ہوتااور عیدِ قرباں میں

کاش! دستِ آقاصَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے میں نحر ہوا ہوتا

کاش! میں مدینے کا کوئی دنبہ ہوتا یا

سینگ والا چتکبرا مینڈھا بن گیا ہوتا

آہ! کثرت ِعصیاں ، ہائے ! خوف دوزخ کا

 کاش! اس جہاں کا میں نہ بشر بنا ہوتا

(ارمغانِ مدینہ از امیر اہلِ سنت مدظلہ العالی ، ص ۱۲۷)   

        محترم اسلامی بھائیو!یہ تمام واقعات ان نفوس ِقدسیہ کے تھے ، جن میں بعض وہ ہیں جو مرتبۂ نبوت پر فائز ہیں اور بعض وہ ہیں جن کے سروں پر اللہ   عَزَّوَجَلَّ  نے اپنی ولایت کا تاج رکھا۔یہ وہی پاکیزہ لوگ ہیں جن کا ذکر کرتے ہی ہماری زبان پر بے اختیار ‘صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔۔یا۔۔ علیہ السلام ۔۔یا ۔۔رضی اللہ   تَعَالٰی  عنہ ۔۔یا۔۔ رَحْمَۃُ اللہ   تَعَالٰی  عَلَیْہِ۔۔یا مدظلہ العالی …جیسے الفاظ جاری ہوجاتے ہیں اور ہماری نگاہیں فرطِ ادب سے جھک جاتی ہیں اوردل تعظیم کی خاطر فرشِ راہ بن جاتا ہے ۔مقامِ غور ہے کہ جب ان بزرگ وبرتر ہستیوں کے خوف خدا  عَزَّوَجَلَّ  کا یہ عالم ہے تو ہم جیسے پاپی وگناہ گاروں کو رب   تَعَالٰی   عَزَّوَجَلَّ کی بے نیازی ، ناراضگی ، گرفت اور اس کے عذاب سے کتنا ڈرنا چاہئے !اس کا اندازہ کوئی بھی ذی فہم بآسانی لگا سکتا ہے ۔

(4)خود احتسابی کی عادت اپنانے کی کوشش کرتے ہوئے’’ فکرِ مدینہ‘‘ کرنا :

       ذکرکردہ دیگر امور اپنانے کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کا محاسبہ کرنے کی عادت اپنالینے سے بھی خوف ِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کے حصول کی منزل پر پہنچنا قدرے آسان ہو جاتا ہے ، اور اس عادت کو اپنانے کے لئے روزانہ فکر ِ مدینہ کرنے کی ترکیب بنالینا بے حد مفید ثابت ہوگا۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ

        فکرِ مدینہ کا آسان سامطلب یہ ہے کہ، ’’ انسان اُخروی اعتبار سے اپنے معمولات ِ زندگی کا محاسبہ کرے ، پھر جو کام اس کی آخرت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہوں ، انہیں درست کرنے کی کوشش میں لگ جائے اور جو امور اُخروی اعتبار سے نفع بخش نظر آئیں ، ان میں بہتری کے لئے اقدامات کرے ۔‘‘فکرِ مدینہ کی برکت سے انسان کے دل میں خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  بیدار ہوتا ہے ، جس کی وجہ سے نیک اعمال کی زبردست رغبت پیدا ہوتی ہے نیز گناہوں سے وحشت محسوس ہوتی ہے اور سابقہ زندگی میں ہو جانے والے گناہوں پر توبہ کی توفیق بھی حاصل ہوجاتی ہے۔خود ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ہمیں فکر مدینہ کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’پانچ سے قبل ، پانچ کو غنیمت جانو۔

 (1) جوانی کو بڑھاپے سے پہلے۔(2) صحت کو بیماری سے پہلے۔

 (3) مالداری کو تنگدستی سے پہلے۔ (4) زندگی کو موت سے پہلے۔۔۔اور۔۔۔

 (5) فراغت کو مصروفیت سے پہلے۔‘‘(المنبھات علی الاستعداد لیوم المعاد ، ص ۵۸)

        اور۔۔ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ ’’اے لوگو! اپنے اعمال کا حساب کر لو ، اس سے پہلے کہ قیامت آجائے اور تم سے ان کا حساب لیا جائے ۔

(حلیۃ الاولیاء، ج۱، ص۵۶)

        جبکہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں کہ’’دنیا کی فکر دل میں اندھیرا جب کہ آخرت کی فکر روشنی ونور پیدا کرتی ہے۔‘‘(المنبھات علی الاستعداد لیوم المعاد ، ص ۴)

        اورحضرت یحییٰ بن معاذرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں ، ’’کریم ، کبھی اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کی نافرمانی نہیں کرتا اور حکیم(یعنی صاحب ِ عقل) ، کبھی دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دیتا۔‘‘(ایضاً)

        محترم اسلامی بھائیو! فکر ِمدینہ کی برکات سے کامل طور پرمستفید ہونے کے لئے ہمیں چاہئے کہ روزانہ سونے سے پہلے گھر وغیرہ کے کسی کمرے میں تنہا۔۔۔یا۔۔۔ ایسی جگہ جہاں پر مکمل خاموشی ہو، آنکھیں بند کر کے سر جھکائے کم از کم بارہ منٹ فکر ِ مدینہ کرنے کی عادت بنائیں ، اور پھر مدنی انعامات کا رسالہ پُر کریں (جس کی تفصیل آگے آرہی ہے)۔اس کے طریقۂ کار کی وضاحت کے لئے فکر مدینہ کی چند مثالیں توجہ سے ملاحظہ فرمائیں ،

(1)کبھی تواس طرح اپنے روز مرہ کے معمولات کا محاسبہ کیجئے کہ

        ’’کل صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد سے اب تک میں اپنی زندگی کے کتنے گھنٹے گزار چکا ہوں ؟… جس انداز سے میں نے یہ وقت گزرا، اس دوران جو افعال مجھ سے سرزد ہوئے ‘ کیا زندگی بسر کرنے کا میرا یہ انداز ‘ اللہ   عَزَّوَجَلَّ  اور اس کے رسول مقبول صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نزدیک پسندیدہ ہے۔۔۔یا۔۔۔ ناپسندیدہ ؟… افسوس! میرا طرزِ زندگی تو ناپسندیدہ ہی شمار ہوگا کیونکہ ایامِ گزشتہ کی طرح میں نے سب سے پہلا کام تویہ کیاتھا کہ نیند کو عزیز رکھتے ہوئے نمازِ فجر قضا کر دی …، پھر دن چڑھے بیدار ہونے کے بعد سرکار ِدوعالم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیاری اور نورانی سنت ِ مبارکہ ایک مٹھی داڑھی شریف رکھنے کو ترک کردینے کا سلسلہ قائم رکھتے ہوئے اسے مونڈھ یا کاٹ کر (معاذ اللہ  ) گندی نالی تک میں بہا دینے سے دریغ نہیں کیا… ، پھر کپڑے وغیرہ تبدیل کرنے کے دوران ٹیپ ریکاڈر یا کیبل وغیرہ پر گانے سننے کا بھی سلسلہ رہا …، نامحرم عورتوں مثلاً بھابھی وغیرہ سے چھیڑ چھاڑ بھی جاری رہی…، ناشتے میں تاخیر کی وجہ سے والدہ کے سامنے گستاخانہ



Total Pages: 42

Go To