Book Name:Khof e Khuda عزوجل

دجلہ میں چھپ گئے ۔ ایک شخص جو آپ کے حالات سے واقف تھا، دریائے دجلہ کے قریب سے گزرا تو آپ کو پانی میں کھڑے ہوئے پایا۔ چنانچہ اس نے آپ کو ایک قمیض اور تہبند بھجوایا ۔ آپ نے ان کپڑوں سے اپنا بدن ڈھانپا اور پانی سے باہر نکل آئے ۔ لوگوں سے ظلماً لیا گیا مال واپس کر دیااور بچ رہنے والا مال صدقہ کر دیا ۔اس کے بعد آپ تحصیل ِ علم اور عبادت میں مشغول ہو گئے ، حتی کہ انتقال کر گئے۔ (کتاب التوابین ، ص۱۶۳ )  

  (107)(میری امیدوں کو مت توڑنا… )

        اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک کو کوفہ کی ایک بڑھیا کی نوجوان کنیز کے بارے میں بتایاگیاجو نہایت حسین ، ذہین ، ادب آشناہونے کے ساتھ ساتھ شعر وشاعری سے بھی دل چسپی رکھتی تھی ۔ اس نے یہ اوصاف سن کر حکم دیا کہ والی ٔکوفہ کو خط لکھو کہ’’ اس کنیز کو اس کی مالکن سے خرید کر میرے پاس بھیج دے ۔‘‘ ایک خادم یہ خط لے کر کوفہ روانہ ہوگیا ۔ جب والی کو یہ حکم نامہ ملا تو اس نے بڑھیا کے پاس ایک آدمی بھیج کر اس کنیز کو دولاکھ درہم اورپانچ سو مثقال کھجوروں کی سالانہ پیداوار کے حامل کھجوروں کے باغ کے بدلے خرید لیا اور اسے ہشام کی خدمت میں روانہ کر دیا ۔ ہشام نے اس کے رہنے کے لئے الگ انتظام کیا جہاں زرق برق لباس ، قیمتی زیورات اور اعلیٰ بچھونے موجود تھے ۔ ایک دن وہ خوشبو سے مہکے ہوئے کمرے میں نہایت خوشگوار موڈ میں اس کے ساتھ باتوں میں مگن تھا کہ اسے چیخوں کی آواز سنائی دی ۔ اس نے آواز کی جانب نگاہیں دوڑائیں تو اسے ایک جنازہ نظر آیا جس کے پیچھے عورتیں چِلّا رہی تھیں اور ایک عورت کہہ رہی تھی ، ’’میرے باپ کوکندھوں پر سوار کر کے مُردوں کے پاس لے جایا جارہا ہے ، عنقریب اسے ویران قبرستان میں تنہا دفن کر دیا جائے گا ۔ اے اباجان! کیا آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوا ہے جو اپنا جنازہ اٹھانے والوں سے کہتے ہیں ، ’’ذرا جلدی لے چلو۔‘‘ ۔۔۔یا۔۔۔آپ کو ان لوگوں میں شامل کیا گیا ہے جو یہ کہتے ہیں ، ’’مجھے واپس لے چلو!مجھے کہاں لے جارہے ہو؟‘‘اس کی یہ بات سن کر ہشام کی آنکھیں بھر آئیں اور وہ اپنی لذت کو بھول کر کہنے لگا، ’’موت نصیحت کے لئے کافی ہے ۔‘‘ اس کنیز نے کہا ، ’’اس عورت نے میرا دل چیر کر رکھ دیا ہے ۔‘‘ ہشام نے کہا ، ’’ہاں ! کچھ ایسی ہی بات ہے ۔‘‘   

 پھر اس نے خادم کو آواز دی اور بالاخانے سے نیچے اتر گیا جبکہ وہ کنیز وہیں بیٹھی بیٹھی سو گئی۔

        اس نے خواب میں دیکھا کہ’’ایک شخص اس سے کہہ رہا ہے ، ’’آج تم اپنے حسن سے دوسروں کو آزمائش میں ڈالتی ہو اور اپنی اداؤں سے دوسروں کوغافل کر دیتی ہو۔اس دن جب صور پھونکا جائے گا جب قبریں شق ہوں گی اور لوگ ان سے باہر نکلیں گے اور انہیں اپنی کرنی کا پھل بھگتنا پڑے گا …تو کیا ہوگا؟ ‘‘ وہ کنیز گھبراہٹ کے عالم میں بیدار ہوئی اور پانی پی کر اپنا حلق تر کیا ۔ پھر پانی منگوا کر غسل کیا اور زرق برق لباس اور زیورات کی بجائے اونی کپڑے پہنے ، ایک لاٹھی ہاتھ میں تھامی اور ہشام کے دربار میں پہنچ گئی ۔جب ہشام اس کو نہ پہچان سکا تو اس نے کہا، ’’میں تمہاری وہی پسندیدہ کنیز ہوں جسے ایک ناصح کی نصیحت نے جھنجھوڑ ڈالا ہے اور میں تمہارے پاس اس لئے آئی ہوں کہ تم مجھ سے اپنی خواہش پوری کر چکے ہو لہٰذا ! اب مجھے غلامی سے آزاد کر دو۔‘‘ہشام نے کہا، ’’میں نے اللہ   تَعَالٰی  کی رضا کے لئے تجھے آزاد کیا ، اب تم کہاں جانے کا ارادہ رکھتی ہو؟‘‘ اس نے جواب دیا، ’’میں کعبۃ اللہ  کی طرف جاؤں گی۔‘‘ ہشام نے کہا ، ’’بہت خوب! اب تیری راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ۔‘‘

         کنیز وہاں سے مکہ شریف پہنچی اور وہیں مقیم ہوگئی۔وہ سوت کات کر گزر بسر کرتی اورجب شام ہوجاتی تو طواف کرتی، اس کے بعد حطیم میں داخل ہو کر عرض کرتی ، ’’اے میرے رب  عَزَّوَجَلَّ ! تو ہی میرا سہارا ہے ، میری امیدوں کو مت توڑنا ، مجھے مقامِ امن عطا فرمانا اور اپنی رحمتیں مجھ پر چھماچھم برسانا۔‘‘یہ کنیز اسی طرح شب وروز ریاضت وعبادت میں مصروف رہی حتی کہ اس محنت ومشقت اور دھوپ کی تمازت نے اس کی جلد کی رنگت کو تبدیل کر دیا اور نماز میں طویل قیام کی وجہ سے اس کا بدن کمزور ونحیف ہو گیا ، زیادہ رونے کے سبب اس کی آنکھیں خراب ہوگئیں اور سوت کاتنے کی وجہ سے اس کی انگلیوں میں زخم ہوگئے ۔ بالآخرایک دن اسی حالت میں اس کا انتقال ہوگیا ۔ (کتاب التوابین ، ص۱۵۱)

  (108)(میرا کیا بنے گا؟… )

        حضرت سَیِّدُنا ابراہیم بن ادھم رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  ایک مرتبہ غسل فرمانے کے لئے کسی حمام میں گئے ۔ حمام کے مالک نے آپ کو روکا اور کہنے لگا ، ’’اگر درہم نہیں دو گے تو اندر داخل نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ اس کی یہ بات سن کر آپ نے رونا شروع کر دیا ۔ وہ آپ کو روتا دیکھ کر پریشان ہوگیا اور عرض کرنے لگا ، ’’اگر آپ کے پاس درہم نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں ، آپ یونہی غسل فرما لیجئے۔ ‘‘ آپ نے فرمایاکہ ’’میں تمہارے روکنے کی وجہ سے نہیں رویا بلکہ مجھے تو اس بات نے رلا دیا کہ آج درہم نہ ہونے کی وجہ سے مجھے اس حمام میں جانے سے روک دیا گیا ہے جس میں نیک وبد سبھی نہاتے ہیں تو اگر کل نیکیاں نہ ہونے کے سبب مجھے اس جنت سے روک لیا گیا جو صرف نیکوں کا مقام ہے تو میرا کیا بنے گا ؟‘‘(رسالہ : میں سدھرنا چاہتا ہوں ، ص ۱۶ )

  (109)   (فناء ہوجانے والی کو ترجیح نہ دو… )

        حضرت سَیِّدُنا ابراھیم بن بشاررَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت سَیِّدُنا ابراھیم بن ادھم رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے ساتھ صحراء میں محوِ سفر تھا کہ اچانک ہمیں ایک قبرنظر آئی ۔ حضرت سَیِّدُنا ابراھیم بن ادھم رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  اس قبر پر تشریف لے گئے اور قبر والے کے لئے دعائے مغفرت کی ، پھر رونے لگے۔ میں نے عرض کی، ’’یہ قبر کس کی ہے؟‘‘ تو جواب دیا، ’’یہ قبر حمید بن ابراہیم (علیہ الرحمۃ)کی ہے جوپہلے ہمارے شہروں کے امیروں میں سے تھے اور دنیا کی محبت میں غرق تھے ، اللہ   تَعَالٰی  نے انہیں بچا لیا۔‘‘اتنا کہنے کے بعد فرمایا، ’’مجھے پتہ چلا کہ یہ ایک دن اپنی مملکت کی وسعت اور دنیاوی مال ودولت کی کثرت سے بہت خوش تھے ، اسی دوران جب یہ سوئے تو خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی، ان کے سرہانے آن کھڑا ہوا ۔ حمید نے اس شخص سے کتاب لے کر اسے کھولا تو اس میں جلی حروف سے لکھاتھا، ’’فنا ہوجانے والی کو باقی رہ جانے والی پر ترجیح نہ دے اور اپنی مملکت، حکومت، بادشاہت، خدام ، غلام اور لذات وخواہشات میں کھو کر غافل مت ہوجا ، بے شک جس میں تو مگن ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ، بظاہر جو تیری ملکیت ہے وہ حقیقتاً ہلاکت ہے ، جو فرح وسرور ہے وہ حقیقت میں لہو وغرور ہے ، جوآج ہے اس کا کل کچھ پتہ نہیں ، اللہ   تَعَالٰی  کی بارگاہ میں جلدی حاضر ہوجاؤ کیونکہ اس کا فرمان ہے ،

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُۙ-اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ(۱۳۳)

اور دوڑو اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان اور زمین آجائیں ، پرہیز گاروں کے لئے تیار کر رکھی ہے ۔(ترجمۂ کنزالایمان ، پ۴، اٰل عمران ۱۳۳)

        جب یہ نیند سے بیدار ہوئے تو بے اختیار ان کے منہ سے نکلا ، ’’یہ اللہ   تَعَالٰی  کی طرف سے تنبیہہ اور نصیحت ہے ۔‘‘پھر کسی کو کچھ بتائے بغیر یہ اپنے ملک سے نکل آئے اور ان پہاڑوں میں



Total Pages: 42

Go To