Book Name:Khof e Khuda عزوجل

                 پیارے آقا ، احمد مجتبیٰ ، محمد مصطفی صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زبانِ حق ترجمان سے نکلنے والے ان مقدس کلمات کو بھی ملاحظہ فرمائیں جن میں آپ نے اس صفت ِ عظیمہ کو اپنانے کی تاکیدفرمائی ہے ، چنانچہ   

 (1) رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت عبداللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے فرمایا، ’’اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے بعد خوف زیادہ رکھنا۔‘‘

(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص۱۹۸)

 (2) نبی اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا، ’’حکمت کی اصل اللہ   تَعَالٰی  کاخوف ہے۔‘‘  (شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۴۷۰، رقم الحدیث ۷۴۳ )

 (3) حضرت سَیِّدُنا عبداللہ  بن عمررَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا، ’’دو نہایت اہم چیزوں کو نہ بھولنا، جنت اور دوزخ ۔‘‘ یہ کہہ کر آپ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رونے لگے حتی کہ آنسوؤں سے آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی ۔ پھر فرمایا، ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو جنگلوں میں نکل جاؤ اور اپنے سروں پر خاک ڈالنے لگو۔‘‘(مکاشفۃ القلوب ، ص۳۱۶)

 پیارے اسلامی بھائیو!

        قرآن عظیم اور احادیث کریمہ کے ساتھ ساتھ اکابرین ِاسلام کے اقوال میں بھی خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کے حصول کی نصیحتیں موجود ہیں ، جیسا کہ

 (1) حضرت سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے اپنے بیٹے کو فرمایا، ’’اے میرے بیٹے ! تم سَفْلَہ بننے سے بچنا ۔‘‘اس نے عرض کی کہ، ’’سَفْلَہ کون ہے ؟‘‘فرمایا، ’’ وہ جو رب   تَعَالٰی  سے نہیں ڈرتا۔‘‘

(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۴۸۰، رقم الحدیث ۷۷۱، )

 (2) حضرت سَیِّدُنا عبداللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کا وقت ِ وفات قریب آیا تو کسی نے عرض کی، ’’مجھے کچھ وصیت ارشاد فرمائیں ۔‘‘ارشاد فرمایا، ’’میں تمہیں اللہ   عَزَّوَجَلَّ  سے ڈرنے ، اپنے گھر کو لازم پکڑنے ، اپنی زبان کی حفاظت کرنے اور اپنی خطاؤں پر رونے کی وصیت کرتا ہوں ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱ ، ص۵۰۳، رقم الحدیث ۸۴۴ )

 (3) حضرت وہب بن منبہرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں ، ’’توریت میں لکھا ہے کہ جو بارگاہِ الٰہی میں سمجھ دار بننا چاہے تو اسے چاہئیے کہ دل میں اللہ   تَعَالٰی  کا حقیقی خوف پیدا کرے۔‘‘

(المنبہات علی الاستعداد لیوم المعاد، ص۱۳۴)

 (4) حضرت سَیِّدُنا اِمام ابوالفرج ابن ِجوزی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں ، ’’خوفِ الٰہی ہی ایسی آگ ہے جو شہوات کو جلا دیتی ہے ۔اس کی فضیلت اتنی ہی زیادہ ہوگی جتنا زیادہ یہ شہوات کو جلائے اور جس قدر یہ اللہ   تَعَالٰی  کی نافرمانی سے روکے اور اطاعت کی ترغیب دے اور کیوں نہ ہو ؟ کہ اس کے ذریعہ پاکیزگی ، ورع، تقویٰ اور مجاہدہ نیزاللہ   تَعَالٰی  کا قرب عطا کرنے والے اعمال حاصل ہوتے ہیں ۔‘‘(مکاشفۃ القلوب ، ص۱۹۸)

 (5) حضرت سَیِّدُنا سلیمان دارانی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے فرمایا، ’’جس دل سے خوف دور ہوجاتا ہے وہ ویران ہوجاتا ہے ۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۱۹۹)

 (6) حضرت سَیِّدُنا ابوالحسن رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے تھے ، ‘‘ نیک بختی کی علامت بدبختی سے ڈرنا ہے کیونکہ خوف اللہ   تَعَالٰی  اور بندے کے درمیان ایک لگام ہے ، جب یہ لگام ٹوٹ جائے تو بندہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوجاتا ہے ۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۱۹۹)

 (7) حضرت سَیِّدُنا ابوسلیمان رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے فرمایا  ، ‘‘ خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  دنیا اور آخرت کی ہر بھلائی کی اصل ہے ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۵۱۰، رقم الحدیث ۸۷۵ )

 پیارے اسلامی بھائیو!

                قرآن پاک ، احادیث مبارکہ اور بزرگانِ دین کے اقوال میں خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  سے متعلق احکامات ملاحظہ کرنے کے بعد اس کے حصول کا طریقہ سیکھنے سے قبل یہ جان لینا مفید رہے گا کہ حضرت سَیِّدُنا اِمام محمد غزالی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کی تحقیق کی روشنی میں خوف کے تین درجات ہیں ،

        (پہلا)ضعیف(یعنی کمزور)، یہ وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت نہ رکھتا ہومثلاً جہنم کی سزاؤں کے حالات سن کر محض جھرجھری لے کر رہ جانااور پھرسے غفلت ومعصیت میں گرفتار ہوجانا …

        (دوسرا)مُعْتَدَل(یعنی متوسط) ، یہ وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت رکھتا ہومثلاً عذابِ آخرت کی وعیدوں کوسن کران سے بچنے کے لئے عملی کوشش کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ رب   تَعَالٰی  سے امید ِ رحمت بھی رکھنا…

        (تیسرا) قوی(یعنی مضبوط)، یہ وہ خوف ہے ، جوانسان کو ناامیدی ، بے ہوشی اور بیماری وغیرہ میں مبتلاء کردے ۔ مثلاًاللہ   تَعَالٰی  کے عذاب وغیرہ کا سن کر اپنی مغفرت سے ناامید ہوجانا…

        یہ بھی یاد رہے کہ ان سب میں بہتر درجہ’’ معتدل‘‘ ہے کیونکہ خوف ایک ایسے تازیانے کی مثل ہے جو کسی جانور کو تیز چلانے کے لئے مارا جاتا ہے ، لہذا!اگر اس

   

تازیانے کی ضرب اتنی ’’ضعیف‘‘ ہوکہ جانور کی رفتار میں ذرّ ہ بھر بھی اضافہ نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ، اور اگر یہ ضرب اتنی ’’قوی‘‘ ہو کہ جانور اس کی تاب نہ لاسکے اور اتنا زخمی ہوجائے کہ اس کے لئے چلنا ہی ممکن نہ رہے تو یہ بھی نفع بخش نہیں ، اور اگر یہ ’’معتدل‘‘ہو کہ جانور کی رفتار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوجائے اور وہ زخمی بھی نہ ہو تو یہ ضرب بے حد مفید ہے ۔

(ماخوذ من احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، ج ۴ )

        ہوسکتا ہے کہ آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  تو ایک قلبی کیفیت کانام ہے ، ہمیں کس طرح معلوم ہو کہ ہمارے دل میں رب   تَعَالٰی  کا خوف موجود ہے اور اگر ہے تو بیان کردہ درجات میں سے کس نوعیت کا ہے ؟تو یاد رکھئے کہ عموماًہر کیفتِ قلبی کی کچھ علامات ہوتی ہے جن کی بناء پر پتہ چلایا جاسکتا ہے کہ وہ کیفیت دل میں پائی جارہی ہے یا نہیں ؟ اسی طرح



Total Pages: 42

Go To