Book Name:Khof e Khuda عزوجل

نصیحت فرمائیں ۔‘‘ لیکن وہ خاموش رہے ۔ جب آپ نے دوبارہ عرض کی کہ ، ’’اہل ِ بیت ہونے کے اعتبار سے اللہ   تَعَالٰی  نے آپ کو جو فضیلت بخشی ہے ، اس لحاظ سے نصیحت کرنا آپ کے لئے ضروری ہے ۔‘‘ یہ سن کر امام جعفر رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے فرمایا ، ’’مجھے تو خود یہ خوف لاحق ہے کہ کہیں قیامت کے دن میرے جد ِ اعلی صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   میرا ہاتھ پکڑ کر یہ نہ پوچھ لیں کہ تو نے خود میری پیروی کیوں نہیں کی ؟ کیونکہ نجات کا تعلق نسب سے نہیں اعمال ِ صالحہ پر موقوف ہے ۔ ‘‘ یہ سن کر حضرت داؤو طائی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کو بہت عبرت ہوئی کہ جب اہل ِ بیت کے خوف ِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کا یہ عالم ہے تو میں کس گنتی میں آتا ہوں ؟‘‘(تذکرۃ الاولیائ، ج ، ص  ۸ )

  (102)( نیند کیسے آسکتی ہے؟… )

        حضرت سیدنااحمد حرب رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  عمربھر شب بیدار رہے ۔ جب کبھی لوگ آپ سے آرام کرنے کے لئے اصرار کرتے تو فرماتے ، ’’جس کے لئے جہنم بھڑکائی جارہی ہو اور بہشت کو آراستہ کیاجارہا ہو ، لیکن اس کو علم نہ ہو کہ ان دونوں میں اس کا ٹھکانہ کہاں ہے ، اس کو نیند کیسے آسکتی ہے ؟‘‘(تذکرۃ الاولیائ، ج ا، ص۲۲۰  )

  (103)(میرے پاس کوئی جواب نہ ہوگا… )

        حضرت یحییٰ بن معاذرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ   اپنی مناجات اس طرح شروع کرتے ،

        ’’اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ ! اگرچہ میں بہت گناہ گار ہوں پھر بھی تجھ سے مغفرت کی امید رکھتا ہوں کیونکہ میں سرتاپا معصیت اور تو معاف کرنے والا ہے ، …اے اللہ  عَزَّوَجَلَّ ! تو نے فرعون کے دعویٰ ٔ خدائی کے باوجود حضرت موسی وہارون (علیھما السلام) کو نرمی کا حکم دیا تھا ، لہذا! جب تو ’’اَنَارَبُّکُمُ الْاَعْلٰی(میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں ۔النازعات : ۲۴) کہنے والے پر کرم فرما سکتا ہے توان پر تیرے لطف وکرم کا اندازہ کون کرسکتا ہے جو ’’سبحان ربی الاعلی(پاکی بیان کرتا ہوں میں اپنے اونچے رب کی )‘‘کہتے ہیں ، … اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ  ! میرے پاس اس کمبل کے سوا کچھ نہیں لیکن اگر یہ بھی کوئی طلب کرے تو میں تیری خاطر دینے کے لئے تیار ہوں ، … اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ !تیرا ہی ارشاد ہے کہ نیکی کرنے والوں کو نیکی کی وجہ سے بہتر صلہ دیا جاتا ہے ، میں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں جس سے افضل دنیا میں کوئی نہیں ہے ، لہذا! اس کے صلے میں مجھے اپنے دیدار سے نواز دے ، … اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ ! چونکہ تو گناہوں کو بخشنے والا ہے اور میں گناہ گار ہوں ، اس لئے تجھ سے بخشش کا سوالی ہوں ، …اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ ! تیری غفاری اور اپنی کمزوری کی بناء پر معصیت کا ارتکاب کر بیٹھتا ہوں ، اس لئے اپنی غفاری یا میری کمزوری کے پیش ِ نظر مجھے بخش دے ، … اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ  ! جب میدانِ محشر میں مجھ سے پوچھا جائے گا کہ دنیا سے کیا لایا؟ تو میرے پاس کوئی جواب نہ ہوگا ۔‘‘(تذکرۃ الاولیاء )   

  (104)( دم توڑدینے والا مدنی مُنّا… )

        ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابوورّاق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کے مدنی منّے قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے ، …

اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖﰳ

ترجمۂ کنزالایمان : اگر کفر کرو اس دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا ۔ (المزمل : ۱۷)

تو خوفِ الٰہی کا اس قدر غلبہ ہوا کہ دم توڑ دیا ۔(تذکرۃ الاولیاء، ج۲، ص۸۷)

  (105)(آپ اسے مار ڈالیں گے… )

        حضرت سَیِّدُنا فضیل بن عیاض رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کو جب یہ علم ہوتا کہ ان کا بیٹا بھی ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے تو خوف وغم کی آیات تلاوت نہ کرتے ۔ ایک مرتبہ انہوں نے سمجھا کہ وہ ان کے پیچھے نہیں ہے اور یہ آیت پڑھی

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ

کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے ۔(ترجمۂ کنزالایمان ۔پ۱۸، المؤمنون ۱۰۶)

        تو ان کا بیٹا یہ آیت سن کر بے ہوش کر گرگیا ۔ جب آپ کو اس کا اندازہ ہوا تو تلاوت مختصر کردی ۔ جب ان کی ماں کو یہ ساری بات معلوم ہوئی تو انہوں نے آکر اپنے بیٹے کے چہرے پر پانی چھڑکا اور اسے ہوش میں لائیں ۔ انہوں نے حضرت فضیل رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  سے عرض کی ’’اس طرح تو آپ اسے مار ڈالیں گے ۔۔۔۔‘‘ایک مرتبہ پھر ایسا ہی اتفاق ہوا کہ آپ نے یہ آیت تلاوت کی ،

-وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ   

اور  انہیں اللہ  کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی ۔(ترجمۂ کنزالایمان ۔پ۲۴، الزمر ۴۷)

یہ آیت سن کر وہ پھربے ہوش ہو کر گرگیا ۔ جب اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی گئی تو وہ دم توڑ چکا تھا۔(کتاب التوابین ، ص۲۰۹ )

  (106)(اے میرے رب   عَزَّوَجَلَّ کیوں نہیں ؟… )

        حضرت سَیِّدُنا جعفر بن حرب رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  پہلے پہل بہت مالدار شخص تھے اور اسی کے بل بوتے پر بادشاہ کے وزیر بھی بن گئے اور لوگوں پر ظلم وستم ڈھانا شروع کر دیا ۔ ایک دن آپ نے کسی کویہ آیت پڑھتے ہوئے سنا،

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ

کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ  کی یاد (کے لئے)۔ (ترجمۂ کنزالایمان ، پ۲۷، الحدید۱۶)

         یہ سن کر آپ نے ایک چیخ ماری اور کہا، ’’اے میرے رب  عَزَّوَجَلَّ  !کیوں نہیں ؟‘‘ آپ بار بار یہی کہتے جاتے اور روتے جاتے ۔ پھر اپنی سواری سے اتر کر اپنے کپڑے اتارے اور دریائے



Total Pages: 42

Go To