Book Name:Khof e Khuda عزوجل

         اس عورت نے بھی توبہ کی اور اس عابد کے شہر میں پہنچ گئی ، جب وہ پتہ معلوم کرتی ہوئی عابد کے سامنے پہنچی تواِسے دیکھ کر اُس نے ایک زور دار چیخ ماری اور اس کا دم نکل گیا۔عورت نے لوگوں سے پوچھا کہ’’ اس کا کوئی قریبی رشتہ دار ہے ؟‘‘بتایا گیا کہ ’’اس کا ایک بھائی ہے جو بہت غریب ہے۔‘‘ عورت اس کے بھائی کے پاس پہنچی اور اس سے کہا کہ ’’میں تیرے بھائی کی محبت کی بناء پر تجھ سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔‘‘ چنانچہ انھوں نے شادی کر لی ۔پھر اس عورت کے سات بیٹے ہوئے اور سب کے سب نیک و صالح بنے۔(کتاب التوابین ، ص۷۴  )

  (95)( انگلیاں جلا ڈالیں … )

        بنی اسرائیل کا ایک عابد اپنے عبادت خانے میں عبادت کیا کرتا تھا ۔گمراہوں کا گروہ ایک طوائف کے پاس پہنچا اور اس سے کہا کہ’’تم کسی نہ کسی طرح اس عابد کو بہکا دو۔‘‘چنانچہ وہ فاحشہ ایک اندھیری رات میں ، جب کہ بارش برس رہی تھی ، اس عابد کے پاس آئی اور اس کو پکارا۔عابد نے جھانک کر دیکھا ، تو عورت نے کہا کہ ’’اے اللہ !کے بندے مجھے اپنے پاس پناہ دے ۔‘‘لیکن عابد نے اس کی پرواہ نہ کی اور نماز میں مشغول ہو گیا۔وہ طوائف اسے بارش اور اندھیری رات یاد دلا کر پناہ طلب کرتی رہی حتی کہ عابد نے رحم کھا کر اسے اندر بلا لیا ۔وہ عابد سے کچھ فاصلے پر جا کر لیٹ گئی اور اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش شروع کر دی۔یہاں تک کہ عابد کا دل بھی اس کی طرف مائل ہو گیا ۔

        لیکن اسی لمحہ اللہ   عَزَّوَجَلَّ کے خوف نے اس کے دل میں جوش مارا، عابدنے خود کو مخاطب کر کے کہا ، ’’واللہ  !ایسا نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو دیکھ لے کہ آگ پر کتنا صبر کرسکتا ہے۔‘‘پھر وہ چراغ کے پاس گیا اور اپنی ایک انگلی اس کے شعلے میں رکھ دی ، حتی کہ وہ جل کر کوئلہ ہو گئی ۔پھر اس نے نماز کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کی لیکن اس کے نفس نے دوبارہ فاحشہ کی طرف بڑھنے کا مشورہ دیا۔یہ چراغ کے پاس گیا اور اپنی دوسری انگلی بھی جلا ڈالی، پھر اس کا نفس اسی طرح خواہش کرتا رہا اور وہ اپنی انگلیاں جلاتا رہا ، حتی کہ اس نے اپنی ساری انگلیاں جلا ڈالیں ، عورت یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی، چنانچہ خوف و دہشت کے باعث اس نے ایک چیخ ماری اور مر گئی۔(ذم الھوٰی، ص۱۹۹)

  (96)( بادل سایۂ فگن ہوگیا… )

        حضرت شیخ ابو بکر بن عبد اللہ  حزنی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کہتے ہیں کہ ایک قصاب اپنے پڑوسی کی لونڈی پر عاشق تھا ۔ایک دن وہ لونڈی کسی کام سے دوسرے گاؤں کو جا رہی تھی ، قصاب نے موقع غنیمت جان کر اس کا پیچھاکیا اور کچھ دور جا کر اسے پکڑ لیا ۔ تب کنیز نے کہا کہ’’اے نوجوان!میرا دل بھی تیری طرف مائل ہے لیکن میں اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ  سے ڈرتی ہوں ۔‘‘جب اس قصاب نے یہ سنا تو بولا، ’’جب تو اللہ   تَعَالٰی  سے ڈرتی ہے تو کیا میں اس ذاتِ پاک سے نہ ڈروں ؟‘‘یہ کہہ کر اس نے توبہ کر لی اور وہاں سے پلٹ پڑا۔راستے میں پیاس کے مارے دم لبوں پر آ گیا ۔اتفاقاً اس کی ملاقات ایک شخص سے ہو گئی جو کہ کسی نبی کا قاصد تھا ۔اس مردِ قاصد نے پوچھا، اے جوان کیا حال ہے؟‘‘قصاب نے جواب دیا، ’’پیاس سے نڈھال ہوں ۔‘‘قاصد نے کہا کہ’’ آؤ ہم دونوں مل کر خدا سے دعا کریں تاکہ اللہ   تَعَالٰی  ابر کے فرشتے کو بھیج دے اور وہ شہر پہنچنے تک ہم پر اپنا سایہ کئے رکھے ۔‘‘نوجوان نے کہا کہ’’میں نے تو خدا کی کوئی قابلِ ذکر عبادت بھی نہیں کی ہے ، میں کس طرح دعا کروں ؟تم دعا کرو میں آمین کہوں گا۔‘‘اس شخص نے دعا کی ، بادل کا ایک ٹکڑا ان کے سروں پر سایہ فگن ہو گیا ۔

        جب یہ دونوں راستہ طے کرتے ہوئے ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو وہ بادل قصاب کے سر پر آ گیا اور قاصد دھوپ میں ہو گیا ۔قاصد نے کہا، ’’اے جوان!تو نے تو کہا تھا کہ تو نے اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کی کچھ بھی عبادت نہیں کی ، پھر یہ بادل تیرے سر پر کس طرح سایہ فگن ہو گیا؟تو مجھے اپنا حال سنا۔‘‘نوجوان نے کہا ، ’’اور تو مجھے کچھ معلوم نہیں لیکن ایک کنیز سے خوفِ خدا کی بات سن کر میں نے توبہ ضرور کی تھی ۔‘‘قاصد بولا، ’’تو نے سچ کہا، اللہ   تَعَالٰی  کے حضور میں جو مرتبہ و درجہ تائب(توبہ کرنے والے) کا ہے وہ کسی دوسرے کا نہیں ہے۔‘‘ (کتاب التوابین ، ص۷۵ )

  (97)(مجھے اپنے رب  تَعَالٰی ٰ کا خوف ہے… )

        کوفہ میں ایک خوبصورت نوجوان بہت زیادہ عبادت وریاضت کیا کرتا تھا ۔ ’’نخع‘‘ علاقے کے کچھ لوگ اس کے پڑوس میں آکر رہنے لگے ۔ ایک دن اچانک اس کی نگاہ ان کی لڑکی پر پڑ گئی اور یہ دل ودماغ ہار بیٹھا اور وہ لڑکی بھی اس پر فریفتہ ہوگئی ۔ اس نوجوان نے لڑکی کے باپ کو پیغامِ نکاح بھیجا تو اس نے بتایا کہ اس لڑکی کی منگنی اپنے چچا زاد کے ساتھ ہو چکی ہے ۔ اس انکار کے باوجود یہ دونوں بے حد بے چین رہنے لگے۔ آخر کار لڑکی نے اس نوجوان کو کسی قاصد کے ذریعے یہ پیغام بھجوایا کہ’’مجھے تمہاری حالت کا اندازہ ہے اور خود میری حالت بھی تم سے مختلف نہیں ہے ، اب یاتو تم میرے پاس چلے آؤ یا پھر میں تمہارے پاس آجاؤں ؟‘‘ اس نوجوان نے پیغام لانے والے کو جواب دیاکہ’’یہ دونوں باتیں ممکن نہیں ، کیونکہ مجھے خوف ہے کہ میں اپنے رب کی نافرمانی کرکے بڑی گھبراہٹ (یعنی قیامت)کے دن عذاب میں مبتلاء ہوجاؤں ، اور میں اُس آگ سے ڈرتا ہوں جس کے شعلے کبھی ٹھنڈے نہیں پڑتے ۔‘‘جب قاصد نے جاکر یہ ساری بات اس لڑکی کو بتائی تو وہ کہنے لگی ، ’’اتنی شدت سے چاہنے کے باوجود وہ اللہ   تَعَالٰی  سے ڈرتا ہے اور وہ ڈرنے کا حق دار بھی ہے اور بندے اس معاملے میں برابر ہیں ۔‘‘ پھر وہ لڑکی بھی دنیا سے کنارہ کش ہو کر عبادت میں مشغول ہو گئی یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا ۔(کتاب التوابین ، ص۲۶۷ )

  (98)( بوسیدہ ہڈیوں کی نصیحت… )

        ایک شخص جسے دینار’’عیار‘‘کہا جاتا تھا ، اس کی ماں اسے بری حرکتوں سے منع کرتی لیکن وہ باز نہ آتا تھا۔ ایک دن اس کا گزرایک قبرستان سے ہوا جہاں بہت سی بوسیدہ ہڈیاں بکھری پڑی تھیں ۔ اس نے آگے بڑھ کر ایک ہڈی اٹھائی تو وہ اس کے ہاتھ میں بکھر گئی ۔ یہ دیکھ کر وہ سوچ میں پڑ گیا اور خود سے کہنے لگا ، ’’تیری ہلاکت ہو! ایک دن تُو بھی ان میں شامل ہوجائے گا اور تیری ہڈیاں بھی اسی طرح بوسیدہ ہوجائیں گی جبکہ جسم مٹی میں مل جائے گا ، اس کے باوجود تُو گناہوں میں مشغول ہے؟‘‘اس کے بعد اس نے توبہ کی اور کہنے لگا، ’’اے میرے رب  عَزَّوَجَلَّ ! میں خود کو تیری بارگاہ میں پیش کرتا ہوں ، مجھ پر رحم کر اور مجھے قبول فرما لے۔‘‘     

        پھر وہ نوجوان زرد چہرے اور شکستہ دل کے ساتھ اپنی ماں کے پاس پہنچا اور کہنے لگا، ’’امی جان!بھاگا ہوا غلام جب پکڑا جائے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ؟‘‘ماں نے جواب دیاکہ، ’’اسے کھردرا لباس، سوکھی روٹی دی جاتی ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے جاتے ہیں ۔‘‘اس نے عرض کی ، ’’آپ میرے ساتھ وہی سلوک کریں جو بھاگے ہوئے غلام کے ساتھ کیا جاتا ہے، شاید کہ میری اس ذلت کو دیکھ کر میرا مالک مجھے معاف فرما دے۔‘‘ اس کی ماں نے اس کی یہ خواہش پوری کر دی ۔جب رات ہوتی تو یہ روتا اور آہ وزاری شروع کر دیتا اور کہتا، ’’اے دینار !تو ہلاک



Total Pages: 42

Go To