Book Name:Khof e Khuda عزوجل

  (83)( ہنستے ہوئے نہیں دیکھا… )

        حضرت سَیِّدُنا حسن بصری رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ ایک جوان کے پاس سے گزرے جو لوگوں کے درمیان بیٹھا ہنسنے میں مشغول تھا ۔ آپ نے فرمایا ، ’’اے نوجوان! کیا تو پلِ صراط پار کر چکا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کی ، ’’نہیں ۔‘‘فرمایا ، ’’کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم جنت میں جاؤ گے یا جہنم میں ؟‘‘ اس نے کہا ، ’’جی نہیں ۔‘‘تو آپ نے پوچھا، ’’پھر یہ ہنسی کیسی ہے؟‘‘ اس کے بعد اس نوجوان کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۷)

  (84)( کیا جہنم سے نکلنے میں کامیاب ہوجائیں گے… )

        حضرت ابن میسرہرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو فرماتے ، ’’کاش! میری ماں مجھے نہ جنتی ۔‘‘ ان کی والدہ نے ایک مرتبہ فرمایا، ’’ اے میسرہ ! کیا اللہ   تَعَالٰی  نے تجھ سے اچھا سلوک نہیں کیا کہ تجھے اسلام کی دولت عطا فرمائی ؟‘‘ انہوں نے عرض کی ، ’’جی ہاں ! یہ ٹھیک ہے لیکن اللہ   تَعَالٰی  نے یہ تو فرمایا ہے کہ ہم جہنم میں جائیں گے (یعنی پلِ صراط سے گزریں گے ) لیکن یہ نہیں فرمایا کہ اس سے نکلنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے ۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۸)

  (85)(گناہ یاد آگیا … )

        حضرت سَیِّدُنا عطا رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ ہم چند لوگ ایک مرتبہ باہر نکلے ۔ ہم میں بوڑھے بھی تھے اور نوجوان بھی جو فجر کی نماز عشاء کے وضو سے پڑھتے تھے حتی کہ طویل قیام کی وجہ سے ان کے پاؤں سوج گئے تھے اور آنکھیں اندر کو دھنس چکی تھیں ، ان کی جلد کا چمڑا ہڈیوں سے مل گیا تھا اور رگیں باریک تاروں کی مثل معلوم ہوتی تھیں ۔ ان کی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ گویا ان کی جلد تربوز کا چھلکا ہو اور وہ قبروں سے نکل کر آرہے ہوں ۔ ہمارے درمیان یہ گفتگو چل رہی تھی کہ کس طرح اللہ   تَعَالٰی  نے اطاعت گزار لوگوں کو عزت بخشی اور نافرمان لوگوں کو ذلیل کیا، کہ اسی دوران ان میں سے ایک نوجوان بے ہوش ہو کر گر گیا اور اس کے دوست اسکے گرد بیٹھ کر رونے لگے ۔ سخت سردی کے باوجود اس کے ماتھے پر پسینہ آیا ہوا تھا ۔ پانی لاکر اس کے چہرے پر چھڑکا گیا تو اسے افاقہ ہوا ۔ جب اس سے ماجرا پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ’’مجھے یہ یاد آگیا تھا کہ میں نے اس جگہ اللہ   تَعَالٰی  کی نافرمانی کی تھی ۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۹)

  (86)( انتقال کر گئے… )

        حضرت سَیِّدُنا زُرارہ بن ابی اوفی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے یہ آیت پڑھی،

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ(۸) فَذٰلِكَ یَوْمَىٕذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ(۹)

ترجمۂ کنزالایمان : پھر جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن کرّا(سخت) دن ہے ۔‘‘( المدثر :  ۸، ۹

تو آپ بے ہوش ہو کر گر پڑے اور انتقال کر گئے ۔(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۹)

  (87)(تیرے کس رخسار کو کیڑوں نے کھایا ہوگا؟… )

        حضرت سَیِّدُناداؤد طائی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے ایک خاتون کو دیکھا جو اپنے بچے کی قبر کے سرہانے رو رہی تھی اور کہہ رہی تھی ، ’’اے میرے بیٹے ! معلوم نہیں تیرے کس رخسار کو کیڑوں نے پہلے کھایا ہو گا؟‘‘ یہ سن کر حضرت داؤد طائی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے ایک چیخ ماری اور اسی جگہ گر گئے ۔(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۹)

  (88)(جنت کا دروازہ کھلتا ہے یا دوزخ کا؟… )

        حضرت سَیِّدُناسروق الاجوع تابعی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  اتنی لمبی نماز ادا فرماتے کہ ان کے پاؤں سوج جایا کرتے تھے اور یہ دیکھ کر ان کے گھر والوں کو ان پر ترس آتا اور وہ رونے لگتے۔ ایک دن ان کی والدہ نے کہا، ’’میرے بیٹے!تو اپنے کمزور جسم کا خیال کیوں نہیں کرتا؟ اس پر اتنی مشقت کیوں لادتا ہے ؟ تجھے اس پر ذرا رحم نہیں آتا ؟ کچھ دیر کے لئے آرام کر لیا کرو ، کیا اللہ   تَعَالٰی  نے جہنم کی آگ صرف تیرے لئے پیدا کی ہے کہ تیرے علاوہ کوئی اس میں پھینکا نہیں جائے گا ؟‘‘انہوں نے جواباً عرض کی ، ’’امی جان! انسان کو ہر حال میں مجاہدہ کرنا چاہئے کیونکہ قیامت کے دن دو ہی باتیں ہوں گی ، یا تو مجھے بخش دیا جائے گا یا پھر میری پکڑ ہوجائے گی، اگر میری مغفرت ہوگئی تو یہ محض اللہ   تَعَالٰی  کا فضل اور اس کی رحمت ہوگی اور اگر میں پکڑا گیا تو یہ اس کا عدل ہو گا ، لہذا اب میں آرام نہیں کروں گا اور اپنے نفس کو مارنے کی پوری کوشش کرتا رہوں گا ۔

        جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے گریہ وزاری شروع کر دی ۔ لوگوں نے پوچھا، ’’آپ نے تو ساری عمر مجاہدوں اور ریاضتوں میں گزاری ہے ، اب کیوں رو رہے ہیں ؟‘‘ تو آپ نے فرمایا، ’’مجھ سے زیادہ کس کو رونا چاہئیے کہ میں ستر سال تک جس دروازے کو کھٹکھٹاتا رہا ، آج اسے کھول دیا جائے گا لیکن یہ نہیں معلوم کہ جنت کا دروازہ کھلتا ہے یا دوزخ کا … ، کاش! میری ماں نے مجھے جنم نہ دیا ہوتا اور مجھے یہ مشقت نہ دیکھنا پڑتی ۔‘‘(حکایات الصالحین، ص۳۶)

  (89)( اپنے رب  تَعَالٰی ٰ کو راضی کر لو… )

        مروی ہے کہ حضرت رابعہ بصریہ رضی اللہ  عنہا  کا معمول تھا کہ جب رات ہوتی اور سب لوگ سو جاتے تو اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتیں ، ’’اے رابعہ (ہوسکتا ہے کہ)یہ تیری زندگی کی آخری رات ہو ، ہو سکتا ہے کہ تجھے کل کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہو چنانچہ اٹھ اور اپنے رب   تَعَالٰی  کی عبادت کر لے تاکہ کل قیامت میں تجھے ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے ، ہمت کر ، سونا مت ، جاگ کر اپنے رب کی عبادت کر…۔‘‘

        یہ کہنے کے بعد آپ اٹھ کھڑی ہوتیں اور صبح تک نوافل ادا کرتی رہتیں ۔ جب فجر کی نماز ادا کر لیتیں تو اپنے آپ کو دوبارہ مخاطب کر کے فرماتیں ، ’’اے میرے نفس!تمہیں مبارک ہو کہ گزشتہ رات تونے بڑی مشقت اٹھائی لیکن یاد رکھ کہ یہ دن تیری زندگی کا آخری دن ہو سکتا ہے۔‘‘یہ کہہ کر پھر عبادت میں مشغول ہو جاتیں اور جب نیند کا غلبہ ہوتا تو اٹھ کر گھر میں ٹہلنا شروع کر دیتیں اور ساتھ ساتھ خود سے فرماتی جاتیں ، ’’رابعہ! یہ بھی کوئی نیند ہے، اس کا کیا لطف؟ اسے چھوڑ دو اور قبر میں مزے سے لمبی مدت کے لئے سوتی رہنا، آج تو تجھے زیادہ نیند نہیں آئی لیکن آنے والی رات میں نیند خوب آئے گی ، ہمت کرو اور اپنے رب کو راضی کر لو۔‘‘

 



Total Pages: 42

Go To