Book Name:Khof e Khuda عزوجل

  (77)(جَنَّتی حور کے تبسم کا نور… )

        حضرت سَیِّدُنا سفیان ثوری رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کے شاگردوں نے آپ کے خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ ، کثرتِ عبادت اورفکرِ آخرت کو دیکھ کر عرض کی ، ’’اے استاذِ محترم! آپ اس سے کم درجے کی کوشش کے ذریعے بھی اپنی مراد پالیں گے ، اِنْ شَآءَ اللہ   عَزَّوَجَلَّ ۔‘‘یہ سن کر آپ نے فرمایا، ’’میں کیسے زیادہ کوشش نہ کروں جبکہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اہلِ جنت اپنے مقام اور منازل میں موجود ہوں گے کہ اچانک ان پر نور کی ایک تجلی پڑے گی جس سے آٹھوں جنتیں جگمگا اٹھیں گی ۔ جنتی گمان کریں گے کہ یہ اللہ   تَعَالٰی  کی ذات کا نور ہے اور سجدے میں گر جائیں گے پھر انہیں نداء کی جائے گی ، ’’اے لوگو! اپنے سر کو اٹھاؤ، یہ وہ نہیں جس کا تمہیں گمان ہوا بلکہ یہ جَنَّتی عورت کے اس تبسم کا نور ہے جو اس نے اپنے شوہر کے سامنے کیا ہے ۔‘‘     

پھر حضرت سفیان ثوری رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے یہ اشعار پڑھے

ماضر من کانت الفردوس مسکنہ                                  ماذا تحمل من بؤس واقتار

تراہ یمشی کئیبا خائفا وجلا                                                             الی المساجد یمشی بین اطمار

یانفس مالک من صبر علی لھب                                 قد حان ان تقبلی من بعد ادبار

یعنی

٭مشقت وتنگی برداشت کرنا اس کے لئے نقصان دہ نہیں ، جس کا مسکن اور جائے قرار جنت الفردوس ہے ۔

٭ایسا شخص دنیا میں غم زدہ ، خائف اور معاملاتِ آخرت سے ڈرتا رہتا ہے ۔ عاجزی ومسکینی کا لباس زیبِ تن کئے ادائے نماز کے لئے مسجدکی طرف اس کی آمدو رفت جاری رہتی ہے۔

٭ اے نفس ! تجھ میں آتشِ دوزخ کے شعلے برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے اور برے اعمال کی وجہ سے قریب ہے کہ تجھے ذلیل وخوار ہونے کے بعد وہ عذاب برداشت کرنا پڑے ۔

(منہاج العابدین، ص ۱۵۲)

  (78) ( اظہار کس سے کروں ؟… )

        حضرت سَیِّدُنا ذوالنون مصری رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نماز کی نیت کرتے وقت بارگاہِ خداوندی میں عرض کرتے ، ’’اے مالک ومولا !تیری بارگاہ میں حاضری کے لئے کون سے پاؤں لاؤں ، کن آنکھوں سے قبلہ کی جانب نظر کروں ، تعریف کے وہ کون سے لفظ ہیں جن سے تیری حمد کروں ؟ لہذا! مجبوراً حیاء کو ترک کر کے تیرے حضور حاضر ہو رہا ہوں ۔‘‘پھر آپ نماز کی نیت باندھ لیتے ۔ اکثر اللہ   تَعَالٰی  سے یہ بھی عرض کرتے ، ’’آج مجھے جن مصائب کا سامنا ہے ، وہ تیرے سامنے عرض کردیتا ہوں ، لیکن کل میدانِ محشر میں میری بداعمالیوں کی وجہ سے جو اذیت پہنچے گی ، اس کا اظہار کس سے کروں ؟ لہٰذا ! اے رب العالمین ! مجھے عذاب کی ندامت سے چھٹکارا عطا فرما دے ۔‘‘(تذکرۃ الاولیاء ، ص۱۱۹)

  (79)(میں مجرموں میں سے ہوں … )

        حضرت سَیِّدُنا مسور بن محزمہ رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ   شدتِ خوف کی وجہ سے قرآن پاک میں کچھ سننے پر قادر نہ تھے ، یہاں تک کہ ان کے سامنے ایک حرف یا کوئی آیت پڑھی جاتی تو چیخ مارتے اور بے ہوش ہوجاتے ، پھر کئی دن تک ان کو ہوش نہ آتا۔ایک دن قبیلہ خشعم کا ایک شخص ان کے سامنے آیا اور اس نے یہ آیت پڑھی ،

یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ(۸۵) وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا

ترجمۂ کنزالایمان : جس دن ہم پرہیز گاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بنا کر ، اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے ۔۱۶، مریم ۸۵، ۸۶)

        یہ سن کر آپ نے فرمایا ، ’’آہ!میں مجرموں میں سے ہوں اور متقی لوگوں میں سے نہیں ہوں ، اے قاری ! دوبارہ پڑھو ۔‘‘اس نے پھر پڑھا تو آپ نے ایک نعرہ مارا اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔(احیاء العلوم ء ج ۴، ص ۲۲۶)

  (80)( چارماہ بیمار رہے… )

        حضرت سَیِّدُنا یحییٰ بکاء (یعنی بہت رونے والے)رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی ،  

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْؕ

اور کبھی تم دیکھو جب اپنے رب کے حضور کھڑے کئے جائیں گے۔(ترجمۂ کنزالایمان ، پ ۷، الانعام ۳۰)

تو یہ آیت سن کر ان کی چیخ نکل گئی اور وہ چار ماہ تک بیمار رہے حتی کہ بصرہ کے اطراف کے لوگ آپ کی عیادت کو آتے رہے ۔(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)

  (81)( سرپر ہاتھ رکھ کر پکار اٹھے… )

        حضرت مالک بن دینار رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ بیت اللہ  شریف کا طواف کررہا تھا کہ میں نے ایک عبادت گزار کنیز کو دیکھا جو کعبۂ مشرفہ کے پردوں سے لٹکی ہوئی تھی اور کہہ رہی تھی ، ’’ کتنی ہی خواہشات ہیں جن کی لذت چلی گئی اور سزا باقی ہے ، اے میرے رب  عَزَّوَجَلَّ  ! کیا تیرے ہاں جہنم کے سوا کوئی اور عذاب نہیں ہے ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مسلسل روتی رہی حتی کہ فجر کا وقت ہوگیا ۔ جب میں نے اس کی یہ حالت دیکھی تو اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر چلا اٹھا، ’’مالک پر اس کی ماں روئے ۔(یعنی ہمارا کیا بنے گا؟)‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)

  (82)(تجھ سے حیاء آتی ہے… )

        منقول ہے کہ یوم عرفہ میں لوگ دعا مانگنے میں مصروف تھے اور حضرت فضیل رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  بھی گمشدہ بچے کی دل جلی ماں کی طرح رو رہے تھے ۔ جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوا تو آپ نے اپنی داڑھی پکڑ کر آسمان کی طرف دیکھا اور کہا، ’’اگر تو مجھے بخش بھی دے تو پھر بھی مجھے تجھ سے بہت حیاء آتی ہے ۔‘‘پھر لوگوں کے ہمراہ واپس ہولئے ۔     

 (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)

 



Total Pages: 42

Go To