Book Name:Khof e Khuda عزوجل

کپڑے پہنتا، سر میں خاک ڈالتا اور بستی بستی گھوم کر لوگوں سے کہتا ، ’’اے لوگو! جہنم کی آگ سے بچو۔‘‘ اور لوگ میری یہ حالت دیکھنے کے بعد اللہ   تَعَالٰی  کی نافرمانی نہ کرتے ۔‘‘

   پھر جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو اپنے شاگردوں کو یہ وصیت فرمائی کہ

        ’’میں نے تمہیں جو کچھ سکھایا ، اس کا حق ادا کرنا ، اور جب میں مر جاؤں تو میری پیشانی پر (بغیر روشنائی کے)یہ لکھوا دینا، ’’یہ مالک بن دینار ہے جو اپنے آقا کا بھاگا ہوا غلام ہے ۔‘‘ پھر مجھے قبرستان لے جانے کے لئے چارپائی پر مت ڈالنا بلکہ میری گردن میں رسی ڈال کر ہاتھ پاؤں باندھ کر اس طرح لے جانا جیسے کسی بھاگے ہوئے غلام کو باندھ کر منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے اُس کے آقا کے پاس لے جایا جاتا ہے اور قیامت کے دن جب مجھے قبر سے اٹھایا جائے تو تین چیزوں پر غور کرنا ، پہلی چیز کہ اس دن میرا چہرہ سیاہ ہوتا ہے یا سفید ، دوسری چیز کہ جب اعمال نامے تقسیم کئے جارہے ہوں تو مجھے نامہ ٔ اعمال دائیں ہاتھ میں ملتا ہے یا بائیں میں ، تیسری چیز یہ کہ جب میں میزانِ عد ل کے پاس کھڑا کیا جاؤں تو میری نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا گناہوں کا ؟‘‘

        یہ کہہ کر آپ زارو قطار رونے لگے اور کافی دیر آنسو بہانے کے بعد ارشاد فرمایا ، ’’کاش ! میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا کہ مجھے قیامت کی ہولناکیوں اور ہلاکتوں کی خبر ہی نہ ہوتی اور نہ ہی مجھے ان کا سامنا کرنا پڑتا ۔‘‘پھرجب رات کا وقت ہوا تو آپ کی حالت غیر ہونے لگی ، اسی وقت غیب سے آواز آئی کہ ’’مالک بن دینار رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  قیامت کی ہولناکیوں اور دہشتوں سے امن پاگیا۔‘‘ آپ کے ایک شاگرد نے یہ آواز سنی تو دوڑ کر آپ کے پاس پہنچا ، اس نے دیکھا کہ آپ پر نزع کی کیفیت طاری تھی اور آپ انگشتِ شہادت آسمان کی طرف بلند کر کے کلمہ طیبہ کا ورد کر رہے تھے، آپ نے آخری مرتبہ ’’لاالہ الا اللہ  محمد رسول اللہ  ‘‘کہا اور آپ کی روح پرواز کر گئی ۔(حکایات الصالحین، ص ۴۸)

  (74)(روزانہ کا ایک گناہ بھی ہو تو؟… )

        پچھلی امتوں میں سے ایک بزرگ جن کا نام زید بن صمت (علیہ الرحمۃ)تھا ، ایک دن اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے ، ’’میرے دوستو! آج جب میں نے اپنی عمر کا حساب لگایا تو میری عمر ساٹھ سال بنتی ہے اور ان سالوں کے دن بنائے جائیں تو اکیس ہزار چھ سو بنتے ہیں ۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ اگر ہر روز میں نے ایک گناہ بھی کیا ہوتو قیامت کے دن مجھے نہایت مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا کہ میں تو کسی ایک گناہ کا بھی حساب نہ دے پاؤں گا۔‘‘ یہ کہنے کے بعد انہوں نے سر سے عمامہ اتار ا اور زاروقطار رونا شروع کر دیا ، یہاں تک کہ بے ہوش ہو گئے ۔ کچھ دیر بعد انہیں افاقہ ہوا تو پھر رونے لگے اور اتنی شدت سے گریہ وزاری کی کہ ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔(حکایات الصالحین، ص ۴۹)   

  (75)(چالیس سال تک آسمان کی طرف نہ دیکھا… )

        حضرت سَیِّدُنا عطاء سلمی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  جنہوں نے خوفِ خدا کی وجہ سے چالیس سال تک آسمان کی طرف نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی نے انہیں مسکراتے ہوئے دیکھا ، اِن کے بارے میں منقول ہے کہ جب آپ رونا شروع کرتے تو تین دن اور تین رات مسلسل روتے رہتے ۔ اسی طرح جب کبھی آسمان پر بادل ظاہر ہوتے اور بجلی کڑکتی تو آپ کے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ، بدن کانپنا شروع ہو جاتا ، آپ بے تاب ہوکر کبھی بیٹھ جایا کرتے اور کبھی کھڑے ہوجاتے اور ساتھ ہی روتے ہوئے کہتے ، ’’شاید میری لغزشوں اور گناہوں کی وجہ سے اہلِ زمین کو کسی مصیبت میں مبتلاء کیا جانے والا ہے ، جب میں مر جاؤں گا تو لوگوں کو بھی سکون حاصل ہو جائے گا ۔‘‘

        اس کے علاوہ آپ روزانہ اپنے نفس کو مخاطب کر کے فرماتے ، ’’اے نفس! تو اپنی حد میں رہ اور یاد رکھ تجھے قبر میں بھی جانا ہے ، پلِ صراط سے بھی گزرنا ہے ، دشمن (یعنی آنکڑے)تیرے ارد گرد موجود ہوں گے جو تجھے دائیں بائیں کھینچیں گے ، اس وقت قاضی ، رب   تَعَالٰی  کی ذات ہو گی اور جیل ، جہنم ہو گی جبکہ اس کا داروغہ سَیِّدُنا مالک ں ہوں گے ۔اس دن کا قاضی ناانصافی کی طرف مائل نہیں ہوگا اور نہ داروغہ کوئی رشوت قبول کرے گا (معاذ اللہ ) اور نہ ہی جیل توڑنا ممکن ہوگا کہ تو وہاں سے فرار ہو سکے ، قیامت کے دن تیرے لئے ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔ اس کا بھی علم نہیں کہ فرشتے مجھے کہاں لے جائیں گے ، عزت وآرام کے مقام جنت میں یا حسرت اور تنگی کی جگہ جہنم میں ؟…‘‘ اس دوران آپ کی چشمانِ مبارک سے آنسو بھی بہتے رہتے ۔     

        جب آپ کا انتقال ہوگیا تو حضرت صالح مری رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے آپ کو خواب میں دیکھا اور پوچھا ، ’’مَافَعَلَ اللّٰہُ بِکَ ۔یعنی اللہ   تَعَالٰی  نے آپ کے ساتھ کیا سلوک فرمایا؟‘‘ تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ ’’رب   تَعَالٰی  نے مجھے ابدی عزت عطا کی ہے اور بہت سے نعمتوں سے نوازا ہے ۔‘‘ یہ سن کر حضرت صالح مری رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے کہا ، ’’آپ دنیا میں تو بڑے غم زدہ اور پریشان رہا کرتے تھے اور ہر وقت روتے رہتے تھے ، بتائیے ! اب کیا حال ہے ؟‘‘ تو آپ نے جواب دیا ، ’’اب تو اللہ   عَزَّوَجَلَّ کے فضل سے بہت خوش ہوں اور مسکراتا رہتا ہوں ، میرے رب  عَزَّوَجَلَّ  نے مجھ سے فرمایا ، ’’اے نیک بندے! تو اس قدر گریہ وزاری کیوں کیا کرتا تھا ؟‘‘ میں نے عرض کی ، ’’اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ ! صرف اور صرف تیرے خوف کی وجہ سے ۔‘‘ تو اللہ   تَعَالٰی  نے ارشاد فرمایا ، ’’میرے بندے! کیا تجھے علم نہ تھا کہ میں بڑا غفور اور مہربان ہوں ۔‘‘(اور میری بخشش فرما دی)(حکایات الصالحین، ص ۵۰)

  (76)( قیامت کا امتحان… )

        مروی ہے کہ ایک شخص کا چھوٹا بچہ اس کے ساتھ بستر پر سویا کرتا تھا ۔ ایک رات وہ بچہ بہت بے چین ہوا اور سویا نہیں ۔ اس کے باپ نے پوچھا ، ’’پیارے بیٹے!کیا کہیں تکلیف ہے؟‘‘ تو بچے نے عرض کی، ’’اباجان!نہیں ، لیکن کل جمعرات ہے جس میں پورے ہفتے کے دوران پڑھائے جانے والے اسباق کا امتحان ہوتا ہے ، اور مجھے یہ خوف کھائے جارہا ہے کہ اگر میں نے سبق صحیح نہ سنایا تو استاذ صاحب مجھ سے ناراض ہوں گے اور سزا دیں گے ۔‘‘ یہ سن کر اس شخص نے زور سے چیخ ماری اور اپنے سر پر مٹی ڈال کر رونے لگا اور کہنے لگا، ’’مجھے اس بچے کی نسبت زیادہ خوفزدہ ہونا چاہئے کہ کل قیامت کے دن مجھے دنیا میں کئے گئے گناہوں کا حساب اپنے رب   تَعَالٰی  کی بارگاہ میں دینا ہے ۔‘‘(درۃ الناصحین ، المجلس الخامس والستون ، ص۲۹۵)

دل مِرا دنیا پہ شیدا ہوگیا

اے میرے اللہ   عَزَّوَجَلَّ یہ کیا ہو گیا

کچھ مرے بچنے کی صورت کیجئے

اب تو جو ہونا تھا مولیٰ ہو گیا  (ذوقِ نعت )

 



Total Pages: 42

Go To