Book Name:Khof e Khuda عزوجل

دوبارہ اس گھر کے قریب سے گزرا تو دیکھا کہ ایک میت موجود ہے اور لوگ اس کے کفن ودفن کے انتظام میں مصروف ہیں ۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ’’ یہ مرنے والا کون تھا؟‘‘ تو انہوں نے جواب دیا کہ’’مرنے والا ایک نوجوان تھا جو ساری رات خوفِ خدا کے سبب روتا رہا اور سحری کے وقت انتقال کر گیا ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۵۳۰، رقم الحدیث ۹۳۷)   

  (69) ( کمر جُھک جانے کا سبب… )

        حضرت سَیِّدُنا سفیان ثوری رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کے بارے میں منقول ہے کہ آپ کی کمر جوانی ہی میں جھک گئی تھی ۔ لوگوں نے کئی مرتبہ اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی لیکن آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ کا ایک شاگرد کافی عرصہ تک کسی موقع کی تلاش میں رہا کہ وہ آپ سے اس کا سبب دریافت کر سکے ۔آخر ایک دن اس نے موقع پاکر آپ سے اس بارے میں پوچھ ہی لیا، آپ نے پہلے تو حسبِ سابق کوئی جواب نہ دیالیکن پھر اس کے مسلسل اصرار پر فرمایا ، ’’میرے ایک استاذ جن کا شمار بڑے علماء میں ہوتا تھا اور میں نے ان سے کئی علوم وفنون سیکھے تھے، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو مجھ سے فرمانے لگے ، ’’اے سفیان! کیا تو جانتا ہے کہ میرے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ؟ میں پچاس سال تک مخلوقِ خدا کو رب   تَعَالٰی  کی اطاعت کرنے اور گناہوں سے بچنے کی تلقین کرتا رہا ، لیکن افسوس! آج جب میری زندگی کا چراغ گل ہونے کو ہے تو اللہ   عَزَّوَجَلَّ نے مجھے اپنی بارگاہ سے یہ فرماکر نکال دیا ہے کہ تو میری بارگاہ میں آنے کی اہلیت نہیں رکھتا ۔‘‘

        اپنے استاذ کی یہ بات سن کر بوجھِ عبرت سے میری کمر ٹوٹ گئی، جس کے ٹوٹنے کی آواز وہاں موجود لوگوں نے بھی سنی ۔ میں اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ  کے خوف سے آنسو بہاتا رہا، اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ میرے پیشاب میں بھی خون آنے لگا اور میں بیمار ہوگیا ۔ جب بیماری شدت اختیار کر گئی تو میں ایک نصرانی حکیم کے پاس گیا ۔ پہلے پہل تو اسے میری بیماری کا پتہ نہ چل سکا پھر اس نے غور سے میرے چہرے کا جائز ہ لیا اور میری نبض دیکھی اور کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگا ، ’’میرا خیال ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں اس جیسا نوجوان کہیں نہ ہوگا کہ اس کا جگر خوفِ الٰہی کی وجہ سے پھٹ چکا ہے ۔‘‘ (حکایات الصالحین، ص ۴۶)

  (70) ( آہ! میرا کیا بنے گا؟… )

        منقول ہے کہ حضرت سَیِّدُنا حسن بصری رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ چالیس برس تک نہیں ہنسے ۔ جب ان کو بیٹھے ہوئے دیکھا جاتا تو یوں معلوم ہوتا گویا ایک قیدی ہیں جسے گردن اڑانے کے لئے لایا گیا ہو، اور جب گفتگو فرماتے تو انداز ایسا ہوتا گویا آخرت کو آنکھوں سے دیکھ دیکھ کر بتا رہے ہیں ، اور جب خاموش رہتے تو ایسا محسوس ہوتا گویا ان کی آنکھوں میں آگ بھڑک رہی ہے ۔ جب ان سے اس قدر غمگین وخوف زدہ رہنے کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا ، ’’مجھے اس بات کا خوف ہے کہ اگر اللہ   تَعَالٰی  نے میرے بعض ناپسندیدہ اعمال کو دیکھ کر مجھ پر غضب فرمایااور یہ فرمادیا کہ جاؤ! میں تمہیں نہیں بخشتا۔تو میرا کیا بنے گا؟‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۳۱)

 ہر خطا تو درگزر کر بے کس ومجبور کی

 یاالٰہی  عَزَّوَجَلَّ مغفرت کر بے کس ومجبور کی 

                                                نامۂ بدکار میں حُسنِ عمل کوئی نہیں

                                                لاج رکھنا روزِ محشر بے کس ومجبور کی

  (71)( خون کے آنسو… )

        حضرت سَیِّدُنا فتح موصلی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  جو کہ بہت متقی وپرہیز گار تھے ، ان کا معمول تھا کہ روزانہ رات کو ایک فلس(یعنی پرانے زمانے کا ایک سکہ) راہِ خدا میں خرچ کیا کرتے تھے ۔ ایک دن آپ اپنے مصلّے پر بیٹھے خوفِ خدا کے سبب آنسو بہا رہے تھے، کہ آپ کا ایک عزیز شاگرد حاضرِ خدمت ہوا۔ اس نے دیکھا کہ آپ نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا رکھا ہے اورآپ کی انگلیاں سرخ آنسوؤں سے تر ہیں ۔     اس نے آپ کو رب   تَعَالٰی  کا واسطہ دے کر پوچھا کہ’’آپ کب سے خون کے آنسو رو رہے ہیں ؟‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا ، ’’اگر تو نے خدا  عَزَّوَجَلَّ  کا واسطہ نہ دیا ہوتا تو میں کبھی نہ بتاتا ، (پھر فرمایا) سنو!میں ساٹھ سال سے خون کے آنسو رو رہا ہوں ، میرے بچپن ہی میں آنکھوں سے آنسوؤں کے ساتھ ساتھ خون بھی نکل آتا تھا ۔‘‘

        پھر جب آپ کا وصال ہو گیا تو کسی نے آپ کو خواب میں دیکھا اور پوچھا ، ’’مَافَعَلَ اللّٰہُ بِکَیعنی اللہ   تَعَالٰی  نے آپ کے ساتھ کیا سلوک فرمایا۔‘‘ آپ نے جواب دیا ، ’’میرے رب نے مجھ سے اپنی شان کے لائق سلوک فرمایا ، اس نے مجھے عرش کے سائے میں کھڑا کر کے پوچھا ، ’’اے میرے بندے ! تو اس قدر کیوں رویا کرتا تھا؟‘‘ تو میں نے عرض کی ، ’’اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ ! محض تیرے خوف اور اپنی خطاؤں پر ندامت کے سبب۔…‘‘ اللہ   تَعَالٰی  نے ارشاد فرمایا ، ’’چالیس سال سے روزانہ تیرا نامۂ اعمال میرے سامنے پیش ہوتا ہے لیکن اس میں کوئی گناہ نہیں ہوتا ۔‘‘

(حکایات الصالحین، ص ۴۷)

  (72)( مٹی ہوجانا پسند کروں گا… )

        حضرت سَیِّدُنا عبداللہ  مطرف رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ ’’اگر کوئی مجھے رب   تَعَالٰی  کی طرف سے یہ اختیار دے کہ یا تو میں اپنا دوزخی یا جنتی ہونا جان لوں ، یا پھر مٹی میں مل کر خاک ہوجاؤں تو میں وہیں مٹی ہوجانا پسند کروں گا۔‘‘ (شعب الایمان ج۱، ص۵۲۰، رقم الحدیث ۹۱۲)   

  (73)(نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا گناہوں گا؟… )

        حضرت سَیِّدُنا مالک بن دیناررَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ   ایک مرتبہ قبرستان کے پاس سے گزررہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ لوگ ایک مردے کو دفن کر رہے ہیں ۔یہ دیکھ کر آپ بھی ان کے قریب جاکر کھڑے ہو گئے اور قبر کے اندر جھانک کر دیکھنے لگے۔ اچانک آپ نے رونا شروع کر دیا اور اتنا روئے کہ غش کھا کر زمین پر گر پڑے ۔لوگ مردے کو دفن کرنے کے بعد آپ کو چارپائی پر ڈال کر گھر لے آئے ۔

        کچھ دیر بعد حالت سنبھلی اور آپ ہوش میں آئے تو لوگوں سے فرمایا ، ’’اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ مجھے پاگل سمجھیں گے اور گلی کے بچے میرے پیچھے شور مچائیں گے تو میں پھٹے پرانے



Total Pages: 42

Go To