Book Name:Khof e Khuda عزوجل

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ

تو کیا جو لوگ بڑے مکر کرتے ہیں ، اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ  انہیں زمین میں دھنسا دے ۔(ترجمۂ کنزالایمان ، پ۱۴، النحل ۴۵)

        پھر اسی قسم کی دوسری آیات وعید قاری سے پڑھواتے رہے اور حاضرین کو عذاب ِ الٰہی سے ڈراتے رہے ۔ خود ان پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی کہ خوفِ خدا سے لرزنے اور کانپنے لگے اور آپ کے پیٹ میں ایسا درد اٹھا کہ بے چین ہوگئے ۔کچھ لوگ آپ کو اٹھا کر گھر لے آئے اور طبیبوں نے بہت علاج کیا مگر درد میں کوئی کمی نہ واقع ہوئی۔ بالآخر اسی حالت میں آپ رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کا انتقال ہوگیا ۔(اولیائے رجال الحدیث ص۱۵۳ )

  (63)( پھوٹ پھوٹ کر روتے… )

        حضرت سَیِّدُنا ابو بِشر صالح مُرّی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  بڑے نامو رمحدث تھے ۔ آپ بہت ہی سحر بیان واعظ بھی تھے ۔ وعظ کے دوران خود ان کی یہ کیفیت ہوتی تھی کہ خوفِ الٰہی سے کانپتے اور لرزتے رہتے اور اس قدر پھوٹ پھوٹ کر روتے جیسے کوئی عورت اپنے اکلوتے بچے کے مر جانے پر روتی ہے ۔ کبھی کبھی تو شدتِ گریہ اور بدن کے لرزنے سے آپ کے اعضاء کے جوڑ اپنی جگہ سے ہل جاتے تھے ۔ اور آپ کے بیان کا سننے والوں پر ایسا اثر ہوتا کہ بعض لوگ تڑپ تڑپ کر بے ہوش ہو جاتے اور بعض انتقال کر جاتے ۔ آپ کے خوفِ خدا کا یہ عالم تھا کہ اگر کسی قبر کو دیکھ لیتے تو دو دو، تین تین دن مبہوت وخاموش رہتے اور کھانا پینا چھوڑ دیتے ۔(اولیائے رجال الحدیث ص۱۵۱)

  (64)( مجھے شرم آتی ہے… )

        حضرت شقیق بن ابی سلمہ رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  ، حضرت سَیِّدُنا عبداللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے خاص شاگرد ہیں ۔ آپ پر خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کا بڑا غلبہ تھا ۔ جب حرم کعبہ میں جاتے تو کہتے ، ’’میں کس طرح کعبہ کا طواف کروں ؟ ہائے! مجھے بڑی شرم آتی ہے کہ جو قدم گناہ کی طرف چل چکے ہوں ، میں ان گنہگار قدموں کو خدا کے مقدس گھر کے پاس کس طرح رکھوں ؟‘‘ یہ کہہ کر آپ زاروقطار رونے لگتے ۔ آپ کے سامنے کوئی اللہ   تَعَالٰی  کے قہر وجلال کا تذکرہ کر دیتا تو آپ مرغ بسمل کی طرح زمین پر تڑپنے لگتے ۔ ایک مرتبہ آپ کے سامنے کسی نے کہہ دیا کہ فلاں آدمی بڑا متقی ہے تو آپ نے فرمایا، ’’خاموش رہو!تم نے کسی متقی کو کبھی دیکھا بھی ہے؟ ارے نادان! متقی کہلانے کا حق دار وہ شخص ہے کہ اگر اس کے سامنے جہنم کا ذکر کر دیا جائے تو خوفِ الٰہی کے سبب اس کی روح پرواز کر جائے ۔‘‘ (اولیائے رجال الحدیث ص۱۴۰ )

  (65)( روح پرواز کر گئی… )

        حضرت زُرارہ بن ابی اوفی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نہایت ہی عابد وزاہد اور خوفِ الٰہی میں ڈوبے ہوئے عالم باعمل تھے ۔ تلاوت ِ قرآن کے وقت وعید وعذاب کی آیات پڑھ کر لرزہ براندام بلکہ کبھی کبھی خوفِ خدا سے بے ہوش ہوجاتے تھے ۔ ایک دن فجر کی نماز میں جیسے ہی آپ نے یہ آیت تلاوت کی،

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ(۸) فَذٰلِكَ یَوْمَىٕذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ(۹)

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن کرّا (یعنی سخت)دن ہے ۔(ترجمۂ کنزالایمان ، پ ۲۹، المدثر ۸، ۹)

         تو نماز کی حالت میں ہی آپ پر خوف ِ الٰہی کا اس قدر غلبہ ہوا کہ لرزتے کانپتے ہوئے زمین پر گر پڑے اور آپ کی روح پرواز کر گئی ۔(اولیائے رجال الحدیث ص۱۲۳ )   

  (66)( بدن پر لرزہ طاری ہوجاتا… )

        حضرت سَیِّدُنا ثابت بن اسلم بُنانی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  تابعین بصرہ کے بڑے باوقار اور نامور علمائے حدیث میں سے تھے ۔ آپ پر خوفِ الٰہی کا بڑا غلبہ تھا ۔ جب بھی آپ کے سامنے جہنم کا تذکرہ کیا جاتا تو ایسے مضطرب ہوتے کہ تڑپنے لگتے اور بدن پر اتنا لرزہ طاری ہوجاتا کہ جسم کا کوئی نہ کوئی عضو الگ ہو جاتا ۔(اولیائے رجال الحدیث ص۹۱)

  (67)( آنکھ کی بینائی جاتی رہی… )

        حضرت سَیِّدُنا اسود بن یزیدرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ   نہایت جلیل القدر تابعی ہیں اور عبادت وریاضت میں ان کا مقام بہت بلند ہے ۔ آپ خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  سے راتوں کو اس قدر رویا کرتے تھے کہ آپ کی ایک آنکھ کی بینائی رونے کی وجہ سے جاتی رہی اور اتنے لاغر ہوگئے کہ بدن پر گویا ہڈی اور کھال کے علاوہ کوئی بوٹی باقی نہیں رہ گئی تھی ۔(اولیائے رجال الحدیث ص۳۷ )

  (68)( خوفِ خدا کے سبب انتقال کرنے والا… )

        حضرت منصور بن عماررَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ میں کوفہ میں رات کے وقت ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک درد بھری آواز میری سماعت سے ٹکرائی ، اس آواز میں اتنا کرب تھا کہ میرے اٹھتے ہوئے قدم رک گئے اور میں ایک گھر سے آنے والی اس آواز کو غور سے سننے لگا ۔

        میں نے سنا کہ اللہ   تَعَالٰی  کا کوئی بندہ ان الفاظ میں اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں مناجات کر رہا تھا، ’’اے اللہ  عَزَّوَجَلَّ  ! تو ہی میرا مالک ہے ! تو ہی میرا آقا ہے ! تیرے اس مسکین بندے نے تیری مخالفت کی بناء پر سیاہ کاریوں اور بدکاریوں کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ نفس کی خواہشات نے مجھے اندھا کر دیا تھا اور شیطان نے مجھے غلط راہ پر ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے میں گناہوں کی دلدل میں پھنس گیا ، اے اللہ  !اب تیرے غضب اور عذاب سے کون مجھے بچائے گا ؟‘‘

        (یہ سن کر)میں نے باہر کھڑے کھڑے یہ آیت کریمہ پڑھی ،

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶)

اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ، اس پر سخت کرّے (یعنی طاقتور)فرشتے مقرر ہیں جو اللہ  کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں ۔ (ترجمۂ کنزالایمان ، پ ۲۸، التحریم ۶)

        جب اس نے یہ آیت سنی تو اس کے غم کی شدت میں اور اضافہ ہوگیا اور وہ شدتِ کرب سے چیخنے لگا اور میں اسے اسی حالت میں چھوڑ کر آگے بڑھ گیا ۔ دوسرے دن صبح کے وقت میں



Total Pages: 42

Go To