Book Name:Khof e Khuda عزوجل

میں ہمیشہ آشوبِ چشم جیسی سرخی رہتی تھی ۔ یہ دیکھ کر بعض لوگوں نے عرض کی، ’’حضور! آپ کی آنکھوں کا علاج یہی ہے کہ آپ رونا چھوڑ دیں ۔‘‘ تو آپ نے فرمایا، ’’اگر یہ آنکھیں اللہ  کے خوف سے رونا چھوڑ دیں تو پھر ان میں کون سی بھلائی باقی رہ جائے گی ؟‘‘(اولیائے رجال الحدیث ص۲۵۷ )

  (57)( اب توبہ کا وقت آگیا ہے… )

        حضرت سَیِّدُنا فضیل بن عیاض رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  بہت نامور محدث اور مشہور اولیائے کرام میں سے ہیں ۔ یہ پہلے زبردست ڈاکو تھے ۔ ایک مرتبہ ڈاکہ ڈالنے کی غرض سے کسی مکان کی دیوار پر چڑھ رہے تھے کہ اتفاقاً اس وقت مالک مکان قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول تھا ۔ اس نے یہ آیت پڑھی ،

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ

کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ  کی یاد (کے لئے )۔(ترجمۂ کنزالایمان ، پ۲۷، الحدید۱۶)

        جونہی یہ آیت آپ کی سماعت سے ٹکرائی ، گویا تاثیر ِ ربانی کا تیر بن کر دل میں پیوست ہوگئی اور اس کا اتنا اثر ہوا کہ آپ خوفِ خدا سے کانپنے لگے اور بے اختیار آپ کے منہ سے نکلا ، ’’کیوں نہیں میرے پروردگار! اب اس کا وقت آگیا ہے ۔‘‘ چنانچہ آپ روتے ہوئے دیوار سے اتر پڑے اور رات کو ایک سنسان اور بے آباد کھنڈر نما مکان میں جاکر بیٹھ گئے ۔ تھوڑی دیر بعد وہاں ایک قافلہ پہنچا تو شرکائے قافلہ آپس میں کہنے لگے کہ’’رات کو سفر مت کرو ، یہاں رک جاؤ کہ فضیل بن عیاض ڈاکو اسی اطراف میں رہتا ہے ۔‘‘ آپ نے قافلے والوں کی باتیں سنیں تو اور زیادہ رونے لگے کہ’’افسوس ! میں کتنا گناہ گار ہوں کہ میرے خوف سے امت ِ رسول صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قافلے رات میں سفر نہیں کرتے اور گھروں میں عورتیں میرا نام لے کر بچوں کو ڈراتی ہیں ۔‘‘ آپ مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور آپ نے سچی توبہ کر کے یہ ارادہ کیا کہ اب ساری زندگی کعبۃ اللہ  کی مجاوری اور اللہ   تَعَالٰی  کی عبادت میں گزاروں گا ۔ چنانچہ آپ نے پہلے علمِ حدیث پڑھنا شروع کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں ایک صاحبِ فضیلت محدث ہوگئے اور حدیث کا درس دینا بھی شروع کر دیا ۔(اولیائے رجال الحدیث ص۲۰۶ )

  (58)( دن رات روتے رہتے… )

        حضرت علی بن بکّار بصری رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  بہت بڑے محدث اور زہد وتقوٰی سے متصف بزرگ تھے ۔ آپ کے دل پر خوف ِ خدا کا اتنا غلبہ تھا کہ دن رات روتے رہتے حتی کہ آنکھوں کی بینائی جاتی رہی۔(اولیائے رجال الحدیث ص۱۹۶ )

  (59)( جہنم کا نام سن کر بے ہوش ہو گئے… )

        حضرت سَیِّدُنا عبداللہ  بن وہب فہری رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ کو ایک لاکھ احادیث زبانی یاد تھیں ۔ آپ پر خوفِ الٰہی کا بڑا غلبہ تھا ۔ایک دن حمام میں تشریف لے گئے تو کسی نے یہ آیت     

پڑھ دی ،

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ

اور جب وہ آگ میں باہم جھگڑیں گے ۔(ترجمۂ کنزالایمان، پ۲۴ ، المؤمن ۴۷)

         جہنم کا نام سنتے ہی آپ بے ہوش ہو کر غسل خانے میں گر پڑے اور بہت دیرکے بعد آپ کو ہوش آیا ۔ اسی طرح ایک شاگرد نے آپ کی کتاب’’ جامع ابن وھب‘‘میں سے قیامت کا واقعہ پڑھ دیا تو آپ خوف کی وجہ سے بے ہوش ہو کر گر پڑے اور لوگ آپ کو اٹھا کر گھر لے آئے ۔ جب بھی آپ کو ہوش آتا تو بدن پر لرزہ طاری ہوجاتا اور پھر بے ہوش ہو جاتے ، اسی حالت میں آپ کا انتقال ہو گیا۔(اولیائے رجال الحدیث ص۱۹۱ )

  (60)(’’لبیک‘‘کیسے کہوں ؟… )

         حضرت سَیِّدُنا امام علی بن حسین زین العابدین رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ   علمِ حدیث میں اپنے والد ِ ماجد حضرت سَیِّدُنا امام حسین ودیگر صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عَنہمکے وارث ہیں ۔ آپ بڑے خدا ترس تھے اور آپ کا سینۂ مبارک خشیت ِ الٰہی کا سفینہ تھا ۔ ایک مرتبہ آپ نے حج کا احرام باندھا تو تلبیہ (یعنی لبیک)نہیں پڑھی ۔ لوگوں نے عرض کی ، ’’حضور! آپ لبیک کیوں نہیں پڑھتے ؟‘‘ آبدیدہ ہو کر ارشاد فرمایا، ’’مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں لبیک کہوں اور اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کی طرف سے ’’لاَ لَبَّیْکْ‘‘کی آواز نہ آجائے ، یعنی میں تو یہ کہوں کہ’’ اے میرے مالک ! میں بار بار تیرے دربار میں حاضر ہوں ۔‘‘ اور ادھر سے یہ آواز نہ آجائے کہ’’ نہیں نہیں ! تیری حاضری قبول نہیں ۔‘‘لوگوں نے کہا ، ’’حضور! پھر لبیک کہے بغیر آپ کا احرام کیسے ہوگا؟‘‘ یہ سن کر آپ نے بلند آواز سے لَبَّیْکْ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکْ لَبَّیْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکْ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْک لاَشَرِیْکَ لَکْ  پڑھا  لیکن ایک دم خوفِ خد  عَزَّوَجَلَّ  سے لرز کر اونٹ کی پشت سے زمین پر گر پڑے اور بے ہوش ہو گئے ۔ جب ہوش میں آتے تو ’’لبیک‘‘ پڑھتے اور پھر بے ہوش ہوجاتے ، اسی حالت میں آپ نے حج ادا فرمایا۔(اولیائے رجال الحدیث ص۱۶۴ )

  (61) (بُھنی ہوئی سری دیکھ کربے ہوش ہوگئے… )

        حضرت سَیِّدُنا طاؤس بن کیسان رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  ایک عظیم محدث اور تابعی تھے ۔ آپ علم وعمل کے اعتبار سے اپنے زمانے کے سردار تھے ۔ آپ پر خوفِ خداوندی کا بڑا غلبہ تھا اور بہت خدا ترس اور رقیق القلب تھے ۔ جب کسی بھڑکتی ہوئی آگ کو دیکھ لیتے تو جہنم کو یاد کر کے حواس باختہ ہو جاتے۔ ایک مرتبہ کسی ہوٹل والے نے ان کے سامنے تنور میں سے بکری کا سر بھون کر نکالا تو آپ اس کو دیکھ کر بے ہوش ہوگئے۔(اولیائے رجال الحدیث ص۱۵۶ )

  (62) (درد میں کمی واقع نہ ہوئی… )

        حضرت سَیِّدُنا ابوعثمان اسماعیل صابونی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  بہت بڑے واعظ اور باکمال مفسر تھے ۔ ایک دن وعظ کے دوران کسی نے ان کے ہاتھ میں ایک کتاب دی جس میں خوفِ الٰہی سے متعلق مضامین تھے ۔آپ نے اس کتاب کی چند سطریں مطالعہ فرمائیں اورایک قاری سے کہا کہ یہ آیت پڑھو،

 



Total Pages: 42

Go To