Book Name:Khof e Khuda عزوجل

داخل ہوئے تو پہاڑ کے اوپر سے ایک چٹان ٹوٹ کر غار کے منہ پر آن گری ، جس سے غار کا منہ بند ہو گیا۔ انہوں نے سوچا کہ ’’اس چٹان سے چھٹکارا پانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہ پیش کر کے اللہ   تَعَالٰی  سے دعا مانگیں ۔‘‘

        ان میں سے ایک شخص نے خدمت ِ والدین کووسیلہ بنا کر دعا کی توچٹان تھوڑی سی سرک گئی لیکن وہ ابھی باہر نہ نکل سکتے تھے ۔دوسرے نے اس طرح دعا کی ’’یا اللہ   عَزَّوَجَلَّ  !میری ایک چچا زاد بہن تھی جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی میں نے کئی مرتبہ اس سے بری خواہش کا اظہا ر کیا مگر اس نے انکار کر دیا ۔ یہاں تک کہ وہ قحط سالی میں مبتلا ہوئی اورمدد حاصل کرنے میرے پاس آئی۔ میں نے اسے سو دینار اس شرط پر دئیے کہ وہ میرے ساتھ تنہائی میں جائے ، لہٰذا وہ مجبوراً اس پر تیار ہوگئی ۔جب ہم تنہائی میں پہنچے اور میں نے اپنی خواہش پوری کرنا چاہی تو اس نے کہا ’’اللہ   تَعَالٰی  سے ڈر اور یہ گناہ مت کر ۔‘‘یہ سن کر میں اس گناہ سے رک گیا اوروہ دینار بھی اسی کو دے دئیے ۔ اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ !اگر میرا یہ عمل تیری رضا کے لئے تھا توہماری یہ مصیبت دور کر دے ۔‘‘چٹان کچھ اور سرک گئی ‘مگر وہ ابھی بھی باہر نہ نکل سکتے تھے ۔

تیسرے نے ایک مزدور کو اس کی امانت لوٹا دینے کو وسیلہ بنایا اور عرض کی ، ’’اے اللہ   تَعَالٰی ٰ! اگر میرا یہ عمل محض تیری رضا جوئی کے لئے تھا تو ہمیں اس پریشانی سے نجات دلا دے ۔‘‘ چنانچہ چٹان مکمل طور پر ہٹ گئی اور وہ نکل کر چل پڑے ۔(ملخصًا)(صحیح المسلم ، باب قصۃ اصحاب الغار الثلاثۃ ، ص ۱۱۵۵، رقم الحدیث ۲۴۴۳)

  (51)(مجھے جلا دینا… )

        حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  سے مروی ہے کہ رسول اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے زندگی بھر کبھی کوئی نیکی نہ کی تھی ۔ اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ ’’جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا اور میری آدھی راکھ جنگل میں اڑا دینا جبکہ آدھی دریا کے سپرد کر دینا ، رب   تَعَالٰی  کی قسم ! اگر اللہ   تَعَالٰی  نے میری گرفت کی تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا کہ پورے جہان میں سے کسی کو نہ دیا ہوگا۔‘‘

        جب اس شخص کا انتقال ہو گیا تو اس کی رضا کے مطابق گھر والوں نے اس کی وصیت پوری کر دی ۔ اللہ   تَعَالٰی  نے دریا کو اس کی راکھ جمع کرنے کا حکم ارشاد فرمایا تو اس نے اپنے اندر موجود تمام راکھ جمع کردی ۔ پھر جنگل کو بھی یہی حکم دیا ، اس نے بھی ایسا ہی کیا ۔ پھراللہ   عَزَّوَجَلَّ سے اس شخص سے سوال کیا کہ’’بتاؤ ! تم نے ایسا کیوں کیا؟‘‘ اس نے عرض کی ، ’’اے میرے رب  عَزَّوَجَلَّ ! تو جانتا ہے کہ میں نے یہ سب کچھ فقط تیرے خوف کی وجہ سے کیا تھا ۔‘‘ یہ سن کر اللہ   تَعَالٰی  نے اس کی بخشش فرما دی ۔(شعب الایمان ، جلد ۱، ص۱۹ ، رقم الحدیث ۱۰۳۷)

  (52)( دعا کے وقت چہرہ زرد ہوجاتا… )

        حضرت سَیِّدُنا فضل بن وکیل رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں ، ’’میں نے تابعین میں سے کسی شخص کو امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کی طرح شدتِ خشوع سے نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ دعا مانگتے وقت خوفِ خداوندی سے آپ کا چہرہ زرد ہوجاتا اور کثرت ِ عبادت کی وجہ سے آپ کا بدن کسی سالخوردہ مشک کی طرح مرجھایا ہوا معلوم ہوتا ۔ایک مرتبہ آپ نے رات کو نماز میں قرآن کریم کی یہ آیت مبارکہ تلاوت کی،

بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ

بلکہ ان کا وعدہ قیامت پر ہے اور قیامت نہایت کڑی ہے اورسخت کڑوی ۔(ترجمۂ کنزالایمان ، پ ۲۷، القمر۴۶)

        پھر باربار اسی آیت کو دہراتے رہے یہاں تک کہ مؤذن نے صبح کی اذان کہہ دی ۔(تذکرۃ المحدثین ، ص۵۷)

  (53) ( ہوش وحواس جاتے رہے… )

        ایک مرتبہ کسی شخص نے امام شافعی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے سامنے یہ آیت تلاوت کی،

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ(۳۵) وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ(۳۶)

ترجمۂ کنزالایمان : یہ دن ہے کہ وہ نہ بول سکیں گے اور نہ انہیں اجازت ملے کہ عذر کریں ۔ ( المرسلت ۳۵، ۳۶)

        اس آیت کو سنتے ہی امام شافعی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا اور جسم پر لرزہ طاری ہوگیا ۔ خوفِ خدا کی شدت سے آپ کے ہوش وحواس جاتے رہے اور وہیں سجدے میں گر گئے ۔ پھر جب ہوش آیا تو کہنے لگے ، ’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ مَّقَامِ الْکَذَّابِیْنَ وَمِنْ اِعْرَاضِ الْجَاھِلِیْنَ ھَبْ لِیْ مِن رَّحْمَتِکَ وَجَلِّلْنِیْ بِسِتْرِکَ وَاعْفُ عَنِّیْ بِکَرَمِکَ وَلاتکلنی اِلٰی غَیْرِکَ وَلاتقنطنی مِنْ خَیْرِکَ ۔اے اللہ ! میں کذّابوں کے مقام اور جاھلوں کے اعراض سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، مجھ اپنی رحمت عطا فرمادے ، میرے عیوب پر پردہ ڈال دے ، مجھے اپنے کرم کے صدقے معاف فرما دے ، مجھے غیر کے حوالے نہ فرما ، مجھے اپنی رحمت سے مایوس نہ کرنا ۔(تذکرۃ المحدثین بحوالہ مرقاۃ ج ۱ ، ص۲۱  )

  (54)( مجھے بھوک ہی نہیں لگتی… )

        حضرت سَیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کا فرمان ہے کہ’’خوفِ خد ا عَزَّوَجَلَّ مجھے کھانے پینے سے روک رہا ہے اور مجھے بھوک ہی نہیں لگتی۔‘‘

(مکاشفۃ القلوب باب الخوف من الذنب، ص ۱۹۷)

  (55)( آنکھوں کی خوبصورتی جاتی رہی… )

        حضرت سَیِّدُنا یزید بن ہارون واسطی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  حافظِ حدیث تھے ۔ ان کی آنکھیں نہایت خوب صورت تھیں مگر یہ دن رات خوفِ الٰہی سے اس قدر رویا کرتے تھے کہ مستقل طور پر آشوبِ چشم کی شکایت پیدا ہوگئی یہاں تک کہ آنکھوں کی خوبصورتی وروشنی دونوں جاتی رہیں ۔(اولیائے رجال الحدیث ص۲۶۳ )   

  (56)( رونا کیسے چھوڑ دوں ؟… )

        حضرت سَیِّدُنا یحییٰ بن عبدالملک رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ بہت ہی بارعب شیخ الحدیث تھے ، لیکن آپ پر خوفِ خداوندی کا بڑا غلبہ تھا ۔آپ دن رات روتے رہتے یہاں تک کہ آپ کی آنکھوں



Total Pages: 42

Go To