Book Name:Khof e Khuda عزوجل

ہنساؤں گا۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۴۹۰، رقم الحدیث ۷۹۹ )

  (39) (میں کون سی مٹھی میں ہوں گا؟… )

        حضرت سَیِّدُنامعاذبن جبل رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کی وفات کا وقت قریب آیا تو رونے لگے ۔ ان سے پوچھا گیا، ’’آپ کو کس چیز نے رُلایا ؟‘‘ فرمایا، خدا  عَزَّوَجَلَّ  کی قسم! میں نہ تو موت کی گھبراہٹ سے رو رہاہوں اور نہ ہی دنیا سے رخصتی کے غم میں آنسو بہارہاہوں بلکہ میں تو اس لئے روتا ہوں کہ میں نے حضور اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سنا کہ’’دو مٹھیاں ہیں ، ایک جہنم میں جائے گی اور دوسری جنت میں ۔۔۔۔‘‘ اور مجھے نہیں معلوم کہ میں کون سی مٹھی میں ہوں گا۔(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۵۰۲، رقم الحدیث ۸۴۱ )

  (40)( میں دنیا کے چھوٹنے پر نہیں روتا… )

        حضرت سَیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کی موت کا وقت جب قریب آیا تو رو دئیے اور شدید گھبراہٹ کا اظہار ہونے لگا ۔لوگوں نے ان سے رونے کا سبب پوچھا تو فرمایا، ’’میں دنیا چھوٹنے پر نہیں روتا کیونکہ موت مجھے محبوب ہے ، بلکہ میں تو اس لئے رورہا ہوں کہ میں اللہ   تَعَالٰی  کی رضا پر دنیا سے جارہاہوں یا ناراضگی میں ؟‘‘(اسد الغابۃ ج۱، ص۵۷۴)

  (41)( میں نہیں جانتا… )

        حضرت سَیِّدُنا عبداللہ  بن رواحہ رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ   اپنی زوجہ محترمہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ اچانک رونے لگے ، ان کو روتا دیکھ کر زوجہ بھی رونے لگیں ۔ آپ نے زوجہ سے پوچھا ، ’’تم کیوں روتی ہو؟‘‘ انہوں نے جواب دیا، ’’آپ کو روتا دیکھ کر مجھے بھی رونا آگیا۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا ، ’’مجھے تو اللہ   تَعَالٰی  کا یہ قول یاد آگیا تھا،

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ

اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو۔(ترجمہ کنزالایمان ، پ۱۶، مریم ۷۱)

 اور میں نہیں جانتا کہ اس سے بعافیت گزر جاؤں گا یا نہیں ۔‘‘(المستدرک للحاکم، الحدیث : ۸۷۴۸، جلد۴، ص۶۳۱ و التخویف من النار، ص۲۴۹)

  (42)(ایک حبشی کا خوفِ خدا   عَزَّوَجَلَّ … )

         ایک حبشی نے سرکارمدینہ ، سُرور قلب وسینہ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں عرض کی ، ’’یارسول اللہ  صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  !میرے گناہ بے شمار ہیں ، کیا میری توبہ بارگاہِ الٰہی  عَزَّوَجَلَّ  میں قبول ہو سکتی ہے ؟‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا ، ’’کیوں نہیں ۔‘‘اس نے عرض کی ، ’’کیا وہ مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھتا بھی رہا ہے ؟‘‘ ارشاد فرمایا ، ’’ہاں ! وہ سب کچھ دیکھتا رہا ہے ۔‘‘یہ سن کر حبشی نے ایک چیخ ماری اور زمین پر گرتے ہی جاں بحق ہوگیا ۔(کیمیائے سعادت، ج۲، ص۸۸۶ )

  (43)(کیا اللہ    عَزَّوَجَلَّ  کو بھی خبر نہیں ؟… )

        حضرت سیدنا عبداللہ  بن دینار رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ   فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کے ہمراہ مکہ مکرمہ کی طرف جارہا تھا کہ ایک جگہ ہم تھوڑی دیر آرام کے لئے رکے ۔ اتنے میں ایک چرواہا ادھر سے بکریاں لئے ہوئے گزرا۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے اس سے کہا کہ’’ایک بکری میرے ہاتھ فروخت کردو۔‘‘ اس نے عرض کی، ’’ یہ بکریاں میری ذاتی ملک نہیں ہیں ، بلکہ میں تو کسی کا غلام ہوں ۔‘‘ آپ نے (بطورِ آزمائش )فرمایا، ’’مالک سے کہہ دینا کہ ایک بکری کو بھیڑیا اٹھا کر لے گیا ، اُسے کیا پتہ چلے گا ۔‘‘ چرواہے نے جواب دیا ، ’’ اگر اسے نہ بھی معلوم ہو تو کیا خدا  عَزَّوَجَلَّ  کو بھی خبر نہیں ہے ؟‘‘یہ سن کر حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  زاروقطار رونے لگے اور اس چرواہے کے مالک کو بلوا کر اس کی قیمت ادا کی اور اسے آزاد کردیا ۔ (کیمیائے سعادت، ف۲، ص۸۸۶ )

  (44)( چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا… )

        حضرت امام زین العابدین رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  جب وضو کرتے تو خوف کے مارے آپ کے چہرے کا رنگ زرد پڑ جاتا ۔ گھر والے دریافت کرتے ، ’’یہ وضو کے وقت آپ کو کیا ہوجاتا ہے؟‘‘ تو فرماتے ، ’’تمہیں معلوم ہے کہ میں کس کے سامنے کھڑے ہونے کا ارادہ کر رہا ہوں ؟‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)

  (45(  پُلِ صراط سے گزرو… )

         امیر المؤمنین سَیِّدُناعمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کی ایک کنیز آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی ، ’’عالی جاہ! میں نے خواب میں عجیب معاملہ دیکھا۔‘‘آپ کے دریافت کرنے پر وہ یوں عرض گزار ہوئی کہ’’میں نے دیکھاکہ جہنم کو بھڑکایا گیااور اس پر پل صراط رکھ دیا گیا پھر اُموی خلفاء کو لایا گیا ۔ سب سے پہلے خلیفہ عبدالملک بن مروان کو اس پل ِ صراط سے گزرنے کا حکم دیاگیا ، چنانچہ وہ پلِ صراط پر چلنے لگالیکن افسوس! وہ تھوڑا سا چلا کہ پل الٹ گیا اور وہ جہنم میں گر گیا۔‘‘حضرت عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے دریافت کیا، ’’پھر کیا ہوا؟‘‘ کنیز نے کہا ، ’’ پھر اس کے بیٹے ولید بن عبدالملک کو لایا گیا ، وہ بھی اسی طرح پلِ صراط پار کرنے لگا کہ اچانک پلِ صراط پھر الٹ گیا، جس کی وجہ سے وہ دوزخ میں جاگرا ۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے سوال کیاکہ ، ’’اس کے بعدکیا ہوا؟‘‘ اس نے عرض کی، ’’ اس کے بعد سلیمان بن عبدالملک کو حاضر کیا گیا ، اسے بھی حکم ہوا کہ پلِ صراط سے گزرو ، اس نے بھی چلنا شروع کیا لیکن یکایک وہ بھی دوزخ کی گہرائیوں میں اتر گیا ۔ ‘‘آپ رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے پوچھا، ’’مزید کیا ہوا؟‘‘اس نے جواب دیا ، ’’یا امیر المؤمنین !ان سب کے بعد آپ کو لایا گیا … ‘‘

        کنیز کا یہ جملہ سنتے ہی سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے خوف زدہ ہو کر چیخ ماری اور زمین پر گر گئے ۔ کنیز نے جلد ی سے کہا ’’اے امیر المؤمنین ! رحمن  عَزَّوَجَلَّ  کی قسم ! میں نے دیکھا کہ آپ نے سلامتی کے ساتھ پلِ صراط پار کر لیا ۔‘‘لیکن سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کنیز کی بات نہ سمجھ پائے کیونکہ آپ پر خوف کا ایسا غلبہ طاری تھا کہ آپ بے ہوشی کے عالم میں بھی اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار رہے تھے ۔(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۳۱)

  (46)(بے ہوش ہو کر گر گئے… )

        حضرت سَیِّدُنا یزید رقاشی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کی کہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیں ۔



Total Pages: 42

Go To