Book Name:Khof e Khuda عزوجل

  (9)(تم کیوں روتے ہو؟… )

        نبی محترم، شفیع معظم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُناجبرائیل ں کو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں تو آپ نے دریافت فرمایا، ’’اے جبرائیلں ! تم کیوں روتے ہو حالانکہ تم بلندترین مقام پر فائز ہو؟‘‘انہوں نے عرض کی، ’’میں کیوں نہ روؤں کہ میں رونے کا زیادہ حق دار ہوں کہ کہیں میں اللہ   تَعَالٰی  کے علم میں اپنے موجودہ حال کے علاوہ کسی دوسرے حال میں نہ ہوں اور میں نہیں جانتا کہ کہیں ابلیس کی طرح مجھ پر ابتلاء نہ آجائے کہ وہ بھی فرشتوں میں رہتا تھا اور میں نہیں جانتا کہ مجھ پرکہیں ہاروت وماروت کی طرح آزمائش نہ آجائے ۔ ‘‘ یہ سن کر رسول اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی رونے لگے ۔ یہ دونوں روتے رہے یہاں تک کہ نداء دی گئی ، ’’اے جبرائیل ں اور اے محمد صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !اللہ   تَعَالٰی  نے تم دونوں کو نافرمانی سے محفوظ فرمادیا ہے ۔‘‘پھر حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَامچلے گئے اور رسول اللہ  صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ باہر تشریف لے آئے ۔(مکاشفۃ القلوب ، ص۳۱۷)

  (10)(کانپ رہے ہوتے… )

        تاجدارِ حرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، ’’حضرت جبرائیل ں جب بھی میرے پاس آئے تو اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کے خوف کی وجہ سے کانپ رہے ہوتے ۔‘‘

(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۳)

  (11)(تم اسی حالت پر رہنا… )

        منقول ہے کہ جب ابلیس کے مردود ہونے کا واقعہ ہوا تو حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل ں رونے لگے تو رب   تَعَالٰی  نے دریافت کیا کہ ’’تم کیوں روتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کی، ’’اے رب  عَزَّوَجَلَّ ! ہم تیری خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہیں ۔‘‘ رب   تَعَالٰی  نے ارشاد فرمایا، ’’تم اسی حالت پر رہنا(یعنی کبھی مجھ سے بے خوف مت ہونا)۔‘‘

(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص۲۲۳ )

  (12)(دِل اڑنے لگے… )

        حضرت محمد بن منکدررَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی ہے کہ ’’جب آگ کو پیدا کیا گیا تو فرشتوں کے دل اپنی جگہ سے اڑنے لگے پھر جب انسانوں کو پیدا کیا گیا تو واپس آگئے۔‘‘

 (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۳)

  (13)(جہنم میں نہ ڈال دیا جاؤں … )

        حضرت سَیِّدُنا جبرائیل ں ایک مرتبہ بارگاہِ رسالت میں روتے ہوئے حاضر ہوئے تو رحمت ِ دو عالم ، نور مجسم  صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دریافت کیا ، ’’اے جبرائیل ں ! تمہیں کس چیز نے رلا دیا؟‘‘ انہوں نے عرض کی، ’’ جب سے اللہ   تَعَالٰی  نے جہنم کو پیدا فرمایا ہے ، میری آنکھیں اُس وقت سے کبھی اس خوف کے سبب خشک نہیں ہوئیں کہ مجھ سے کہیں کوئی نافرمانی نہ ہوجائے اور میں جہنم میں ڈال دیا جاؤں ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۵۲۱، رقم الحدیث ۹۱۵)

  (14)( سَیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کی گریہ وزاری… )

        منقول ہے کہ ابلیس (یعنی شیطان )نے اَسّی ہزارسال عبادت میں گزارے اور ایک قدم کے برابر بھی کوئی جگہ نہ چھوڑی جس پر اس نے سجدہ نہ کیا ہو ۔ پھر جب اس نے رب   تَعَالٰی  کی حکم عدولی کی تو اللہ   عَزَّوَجَلَّ  نے اسے اپنی بارگاہ سے مردود کر دیا ، قیامت تک کے لئے اس کے گلے میں لعنت کا طوق ڈال دیا گیا ، اس کی ساری عبادت ضائع ہو گئی اوراسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جلنے کی سزا دے دی گئی ۔

        نبی اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت جبرائیل ں کو دیکھا کہ ابلیس کے انجام سے عبرت گیر ہو کر کعبۂ مشرفہ کے پردہ سے لپٹ کر نہایت گریہ وزاری کے ساتھ اللہ   تَعَالٰی  کی بارگاہ میں یہ دعا کر رہے ہیں ، ’’اِلٰھِی وَسَیِّدِیْ لَا تُغَیِّرْ اِسْمِیْ وَلَا تُبَدِّلْ جِسْمِیْ ۔یعنی اے میرے اللہ  ! اے میرے مالک ! کہیں میرا نام نیکوں کی فہرست سے نہ نکال دینا اور کہیں میرا جسم اہلِ عطا کے زمرہ سے نکال کر اہلِ عتاب کے گروہ میں شامل نہ فرما دینا ۔‘‘(منہاج العابدین ، ص۱۵۸ )

  (15)(ہنستے ہوئے نہیں دیکھا… )

        سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرت جبرائیل ں سے دریافت کیا کہ’’ کیا وجہ ہے کہ میں نے کبھی میکائیلں کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ؟ ‘‘ تو انہوں نے عرض کی، ’’جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ، حضرت میکائیل ں  نہیں ہنسے ۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۳)

  (16)(کاش! میں ایک پرندہ ہوتا… )

        امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے ایک پرندے کو درخت پر بیٹھا دیکھا تو فرمایا ، ’’بہت خوب اے پرندے!تو کھاتا پیتا ہے لیکن تجھ پر حساب نہیں ، اے کاش! میں تیری طرح ہوتا اور مجھے انسان نہ بنایا جاتا ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۴۸۵، رقم الحدیث ۷۸۸ )

  (17)(افسوس! تونے مجھے ہلاک کردیا… )

        حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ کا ایک غلام تھا جو اکثر آپ کی خدمت میں ھدایہ(یعنی تحفے)پیش کیا کرتا تھا ۔ ایک رات وہ آپ کے لئے کوئی کھانے کی چیز لایا ، جسے آپ نے کھا لیا ۔ غلام نے عرض کی ، ’’ آپ روزانہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ چیز کہاں سے لائے ، لیکن آج دریافت نہیں فرمایا؟ ‘‘ آپ نے ارشاد فرمایا کہ’’ شدتِ بھوک کی وجہ سے یاد نہ رہا ، (اب بتاؤ) تم یہ چیز کہاں سے لائے ؟‘‘اس نے جواب دیا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں منترسے کسی کا علاج کیا تھا جس پر انہوں نے مجھے معاوضہ دینے کا وعدہ کیا تھا ۔آج جب میں ان کے قریب سے گزرا تو انہوں نے مجھے بطور معاوضہ یہ کھانا دیا۔ ‘‘

 



Total Pages: 42

Go To