Book Name:Khof e Khuda عزوجل

صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چہرہ ٔ اقدس کا رنگ متغیر ہوجاتا اور آپ کبھی حجرہ سے باہر تشریف لے جاتے اور کبھی واپس آجاتے ، پھر جب بارش ہو جاتی تو یہ کیفیت ختم ہوجاتی ۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا ، ’’ اے عائشہ رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عَنہا! مجھے یہ خوف ہوا کہ کہیں یہ بادل‘ اللہ   عَزَّوَجَلَّ   کا عذاب نہ ہو جو میری امت پر بھیجاگیا ہو۔‘‘

(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۵۴۶، رقم الحدیث ۹۹۴ )

  (3)(جہنم کی آگ آنسو ہی بجھا سکتے ہیں … )

        حضرتِ سَیِّدُنا عطارَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ میں اور میرے ساتھ حضرت ابن عمراورحضرت عبید بن عمرورَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  ایک مرتبہ اُم المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عَنہاکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ’’ہمیں رسول اللہ  صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے بارے میں کوئی بات بتائیے۔‘‘ تو آپ روپڑیں اور فرمایا، ’’ ایک رات رسول اللہ  صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میرے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے ، ’’مجھے رخصت دو کہ میں رب   تَعَالٰی  کی عبادت کرلوں ۔‘‘تو میں نے عرض کی، ’’مجھے آپ کا رب   تَعَالٰی  کے قریب ہونا اپنی خواہش سے زیادہ عزیز ہے ۔‘‘تو آپ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہوگئے اور رونے لگے ۔ پھر وضو کر کے قرآن پاک پڑھنا شروع کیا تو دوبارہ رونا شروع کر دیا یہاں تک کہ آپ کی چشمان مبارک سے نکلنے والے آنسو زمین تک جا پہنچے ۔ اتنے میں حضرت بلال رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  حاضر ہوئے تو آپ کو روتے دیکھ کر عرض کی، ’’یارسول اللہ  صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کیوں رو رہے ہیں حالانکہ آپ کے سبب تو اگلوں اور پچھلوں کے گناہ بخشے جاتے ہیں ؟‘‘ تو ارشاد فرمایا، ’’کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟‘‘اور مجھے رونے سے کون روک سکتا ہے جب کہ اللہ   تَعَالٰی  نے یہ آیت نازل فرمائی ہے ،

اِنَّ  فِیْ  خَلْقِ  السَّمٰوٰتِ  وَ  الْاَرْضِ   وَ  اخْتِلَافِ  الَّیْلِ  وَ  النَّهَارِ  لَاٰیٰتٍ  لِّاُولِی  الْاَلْبَابِۚۙ(۱۹۰) الَّذِیْنَ  یَذْكُرُوْنَ  اللّٰهَ  قِیٰمًا  وَّ  قُعُوْدًا  وَّ  عَلٰى  جُنُوْبِهِمْ  وَ  یَتَفَكَّرُوْنَ  فِیْ  خَلْقِ  السَّمٰوٰتِ  وَ  الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا  مَا  خَلَقْتَ  هٰذَا  بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ  فَقِنَا  عَذَابَ  النَّارِ

(ترجمۂ کنز الایمان : بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لئے ، جو اللہ  کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں ، اے رب ہمارے تو نے یہ بے کار نہ بنایا ، پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔۴، اٰل عمران ۱۹۰، ۱۹۱))

(پھر فرمایا)، ’’اے بلال! جہنم کی آگ کو آنکھ کے آنسو ہی بجھا سکتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے ہلاکت ہے کہ جو یہ آیت پڑھیں اور اس میں غور نہ کریں ۔‘‘(درۃ الناصحین ، المجلس الخامس والستون ، ص۲۹۴)

  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کیا جہنم اب بھی نہ سرد ہوگا

رو رو کے مصطفی صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دریا بہا دئیے ہیں

  (4) (ایک میل تک آواز سنائی دیتی… )

        حضرت سَیِّدُناابودرداء رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  روایت کرتے ہیں کہ’’ حضرت سَیِّدُنا ابراھیم خلیل اللہ  ں جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کے سبب اس قدر گریہ وزاری فرماتے کہ ایک میل کے فاصلے سے ان کے سینے میں ہونے والے گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی ۔ ‘‘( احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۴)

  (5) (تیس ہزار لوگ انتقال کر گئے… )

        ایک دن حضرت سَیِّدُنا داؤد ں لوگوں کو نصیحت کرنے اور خوف ِخدا دلانے کے لئے گھر سے باہر تشریف لائے تو آپ کے بیان میں اس وقت چالیس ہزار لوگ موجودتھے ۔جن پر آپ کے پُر اثر بیان کی وجہ سے ایسی رقت طاری ہوئی کہ تیس ہزار لوگ خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کی تاب نہ لاسکے اور انتقال کر گئے ۔(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۴)   

  (6) (مسلسل بہنے والے آنسو… )

        حضرت سَیِّدُنا یحیی ں جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو(خوفِ خدا سے ) اس قدر روتے کہ درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی آپ کے ساتھ رونے لگتے حتّٰی کہ آپ کے والدِ محترم حضرت سَیِّدُنا زکریا ں بھی آپ کو دیکھ کر رونے لگتے یہاں تک کہ بے ہوش ہو جاتے۔ آپ اسی طرح مسلسل آنسو بہاتے رہتے یہاں تک کہ اِن مسلسل بہنے والے آنسوؤں کے سبب آپ کے رخسارِ مبارک پر زخم ہوگئے۔ یہ دیکھ کر آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کے رخساروں پر اونی پٹیاں چپٹا دیں ۔ اس کے باوجود جب آپ دوبارہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو پھر رونا شروع کر دیتے، جس کے نتیجے میں وہ روئی کی پٹیاں بھیگ جاتیں ۔جب آپ کی والدہ انہیں خشک کرنے کے لئے نچوڑتیں اور آپ اپنے آنسوؤں کے پانی کو اپنی ماں کے بازو پر گرتا ہوا دیکھتے تو بارگاہِ الہی  عَزَّوَجَلَّ میں اس طرح عرض کرتے ، ’’اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ ! یہ میرے آنسو ہیں ، یہ میری ماں ہے اور میں تیرا بندہ ہوں جبکہ تو سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے ۔‘‘( احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۵)

  (7)(کسی نے آنکھ کھولتے نہیں دیکھا… )

        حضرت سَیِّدُنا شعیب ں خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  سے اتنا روتے تھے کہ مسلسل رونے کی وجہ سے آپ کی اکثر بینائی رخصت ہو گئی ۔ لوگوں نے عرض کی، ’’یانبی اللہ  ں  آپ اتنا کیوں روئے کہ آپ کی اکثر بینائی جاتی رہی ؟‘‘ ارشاد فرمایا، ’’دو باتوں کے سبب(۱)کہیں میری نظر ایسی چیز پر نہ جا پڑے جسے دیکھنے سے شریعت نے منع فرمایا ہے ۔(۲)جو آنکھیں اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ  کا جلوہ دیکھنا چاہتی ہیں ، میں نہیں چاہتا کہ وہ کسی اور چیز کو بھی دیکھیں ، لہذا میں نے مناسب خیال کیا کہ نابینا کی طرح ہو جاؤں اور جب قیامت میں میری آنکھ کھلے تو فوراً میری نظر اپنے رب   تَعَالٰی  کا دیدار کرے ۔‘‘اس کے بعد آپ ساٹھ برس حیات ظاہری سے متصف رہے لیکن کسی نے انہیں آنکھ کھولتے نہیں دیکھا۔( رسالہ ’’قفل مدینہ‘‘ از امیر اہلِ سنت مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی  )

  (8)( اُن کے پہلو لرز رہے ہیں … )

         سرور ِ کونین صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ، ’’اللہ   تَعَالٰی  کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جن کے پہلو اس کے خوف کی وجہ سے لرزتے رہتے ہیں ، ان کی آنکھ سے گرنے والے ہر آنسو سے ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے ، جو کھڑے ہوکر اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ  کی پاکی بیان کرنا شروع کر دیتا ہے ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۵۲۱، رقم الحدیث ۹۱۴ )

 



Total Pages: 42

Go To