Book Name:Faizan e Maulana Muhammad Abdul Salam Qadri

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

                                                                       فیضانِ مولانا محمد عبدالسلام قادری

 

درود شریف کی فضیلت

حضرت سیّدنا عبد اﷲ بن مسعودرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہے:اللہ         عَزَّوَجَلَّکے رسول صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمان ہے:بروزِ قیامت لوگوں میں میرے قریب تَروہ ہوگا ، جس نے مجھ پر زیادہ دُرُودِ پاک پڑھے ہوں گے۔([1]) 

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                                                                                صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

امت کی خیرخواہی میں مصروف

غالباً بیس پچیس برس پہلے کی بات ہے کہ تلمیذو خلیفۂ اعلیٰ حضرت شیر بیشۂ سنّت حضرت علامہ حشمت علی خان رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکے ایک عالمِ دین مرید و خلیفہ نیکی کی دعوت عام کرنے کے لیے  کولمبو(سی لنکا) میں قیام پذیر تھے۔جنہیں اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی نسبت سے ” قمرِ رضا “ ( یعنی رضا کے چاند) کا لقب حاصل تھا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے انہیں کئی خوبیوں سے نوازا تھا جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ بیمار و پریشان آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے آپ تعویذات عطا فرماتے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  انہیں شفا عطا فرما دیا کرتا تھا۔اچانک اُس علاقے میں ایک وباپھیلنے لگی جس نے رفتہ رفتہ علاقہ مکینوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ۔ کولمبو میں بسنے والے مسلمان بھی اس وبا کی زد میں آئے ۔انہوں نے اس وبا سے بچنے کے لیے  تدابیر کیں لیکن خاطرخواہ فائد ہ نہ ہوا۔اُس عالمِ دین سے لوگوں کی روز بروز بگڑتی حالت دیکھی نہ گئی، امتِ محبوب صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت سے معمور دل  تڑپ اٹھا اور انہوں نے اپنی مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئےتعویذات کے ذریعےاُس وبا کا روحانی علاج شرو ع فرمایا۔لوگ ان کی بارگاہ میں حاضر ہوتے،تعویذات پاتے اور صحت یاب ہو جاتے۔ ابھی چند روز ہی گزرے تھے  کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکےتعویذات کی برکت سے  اس وبا کا خاتمہ  ہوگیا یوں”رضا کے چاند “کی روشنی سے  وبا کی ظلمت کا فور ہوگئی ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس مشکل گھڑی میں مسلمانوں کو نفع پہنچانے  والے  سلسلۂ قادریہ رضویہ عطاریہ کے جلیلُ القدر بزرگ خلیفۂ قطب ِ مدینہ قمر ِرضا حضرت علامہ مولانا حافظ ابو الفقراء محمدعبد السلام قادری  رضوی ضیائی فتحپوری رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہتھے  ۔

صَلُّوا عَلٰی الْحَبیب!                                                                                                صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نام ونسب

خلیفہ ٔ قطب ِ مدینہ،قمرِرضا حضرت مولاناابو الفقراء محمد عبد السلام  قادری رضوی  حشمتی  برکاتیرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی ولادت بروز بدھ ۱۵شعبانُ الْمُعَظَّم ۱۳۴۳ھ مطابق11مارچ 1925ء کوموضع کڑے مانک پورتحصیل بندکی ضلع فتح پور ہسوہ (یوپی،ہند)میں ہوئی۔آپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکی کنیت” ابو الفقراء “ ، لقب” قمر رضا  ‘‘ہے۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکے والد کا نام  عبد السبحان قادری  مرحوم  ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکے والد سلسلۂ قادریہ  سے وابستہ  اور ایک حکومتی ادارے  میں افسر تھے  اور ملازمت  کے سلسلے  میں آپ اُم ُّالبِلاد کانپور (یوپی،ہند)میں مقیم ہو گئے تھے ۔

تعلیم  وتربیت

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!امُّ البِلاد کانپور(یوپی،ہند) اپنی علمی  شان و شوکت کے  اعتبار  سے بہت اہمیت کا حامل ہے  ۔یہاں کے علمی  ماحول  کی  آبیاری  کے  لیے مُصنفِ عِلْمُ الصِیْغَہ  حضرت علامہ  عِنایتُ اللہ کا کوروی رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہتشریف لائےاور فیض ِعام کے نام سے  ایک  مدرسہ قائم فرمایا ۔شیخُ الکل،استاذُ العلماءحضرت علامہ لطفُ اللہ علیگڑھی رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہاور امام ِ  علوم عقلیہ  و نقلیہ  علامہ احمد حسن کانپوری رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے اس  خطے کو تدریس کا شرف بخشا ، جلیلُ القدر مُحدِّث حضرت علامہ وصی احمدمحدّث سورتی رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے   طلبِ علم کے لیے کانپور کاسفر اختیا ر فرمایا۔  کانپور  اپنی علمی حیثیت کی  وجہ سے کانِ علم  بن گیا۔حضرت حافظ محمدعبد السلام قادری رضویرَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے بھی تعلیم کا آغاز   کانپور (ہند) کے علاقے بابوپروا کی نئی مسجدسے فرمایا،یہیں آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے حفظ ِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہکے علمی پودے کی  نشوونما کے لیے کانپور کی  فضا نہایت خوشگوار ثابت ہوئی اور اس پودے کو تناور درخت  بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مزیدتعلیم کے لیے لکھنؤ،فتح پوراورجون پورکی درسگاہوں کا رُخ کیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ  تَعَالٰی عَلَیْہنے جن  اساتذہ سے علم حاصل کیاان میں تین نام بہت اہم ہیں اور آپ رَحْمَۃُ



[1]     ترمذی، کتاب الوتر، باب ماجاء فی فضل الصلاۃ علی النبی ، ۲/۲۷، حدیث : ۴۸۴



Total Pages: 20

Go To