Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

(۲)۔۔۔قرآنِ پا ک کے  اوپرنقطے  و اعراب حجاج بن یو سف کے  دور میں لگے  ہیں چاروں صحابہ عَـلَيْهِمُ الرِّضْوَاننے  یہ کا م نہیں کیا جو اس نے کروایا اور اس پر کسی عالِم نے  انکا ربھی نہیں کیا علمائے  حق کی اجازت و تحسین کی بناء پر یہ عمل بھی مستحسن ہے ۔

(۳)۔۔۔مسجد میں امام کے  کھڑے  ہونے  کے  لئے  محراب بناناولید مَروانی کے  دور میں سیّد نا عمر بن عبدالعزیزرَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهنے  ایجاد کیا تھا۔

(۴)۔۔۔چھ کلمے ، اس طرح حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے  مقدّس دور میں مرتب نہ تھے ۔لیکن ان کاموں کو کوئی گناہ نہیں کہتا اورنہ ہی کوئی منع کرتاہے  آخر کیوں؟

اس کی وجہ یہ ہے  کہ ممانعت کی دلیل موجود نہیں ہے  اگرچہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم یا صحابۂ کرام عَـلَيْهِمُ الرِّضْوَان کے  زمانے  میں بعض کام نہیں ہوئے  مگر چونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام عَـلَيْهِمُ الرِّضْوَاننے  ان سے  منع بھی تو نہیں فرمایا ہے  لہٰذا یہ کام کرنا، جائز ہے ۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

میلاد شریف منانا

سوال : میلاد شریف منانا کیسا ہے ؟

جواب : میلاد شریف منانا جائز اور مستحسن یعنی بہت اچھا کام ہے  ۔

سوال : میلاد شریف میں کیا  ہوتا ہے ؟

جواب : میلاد عرفِ عام میں ذکرِمصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کا نام ہے  خواہ دو آدمی مل کر کریں یا ہزاروں اور لاکھوں  ۔اس محفل میں اللّٰہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی جاتی ہے ، تلاوتِ قرآنِ مجید ہوتی ہے  اور ذکرِ حبیبِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم ہوتا ہے  اور ان کی نعتیں پڑھی جاتی ہیں اور ان پر صلوٰۃ وسلام پیش کیا جاتا ہے ۔

سوال : میلاد شریف منانے  کا ثبوت کیا ہے ؟

جواب : میلاد کا جواز بکثرت آیات و احادیث اور سلف صالحین کے  عمل سے  ثابت ہے  ۔اگرچہ جواز کے  لئے  یہ دلیل بھی کافی ہے  کہ اس کی ممانعت شرع سے  ثابت نہیں ہے  اور جس کام سے  اللّٰہ تعالیٰ اور رسولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے  منع نہیں فرمایا وہ کسی کے  منع کرنے  سے  ممنوع نہیں ہوسکتا  ۔آیاتِ قرآنِ مجید آقائے  نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی آمد کے  ذکرِ خیر سے  مالامال ہیں : چُنانچہ پارہ 11سورۂ یونس کی آیت 58 میں ارشاد ہوتا ہے :

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ   (پ١١، يونس : ٥٨)

ترجمۂ کنزالایمان :  تم فرماؤ اللّٰہ ہی کے  فضل اوراسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے  کہ خوشی کریں۔

اس آیت سے  معلوم ہوا کہ فضل و رحمت پر خوشی کرنا چاہیے  لہٰذا مسلمان حضورِ انور، شافعِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو فضل ورحمت جان کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کا ذکر کر کے  خوشی مناتے  ہیں اور یہ حکمِ الٰہی ہے ۔چُنانچہاللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱) (پ٣٠، الضحٰى : ١۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان :  اور اپنے  رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔

نبی کریم ، رءوف رَّحیم، حلیم کریم عظیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت ہیں اور نعمتِ الٰہی کا چرچا کرنا حکمِ خداوندی ہے  ۔لہٰذا مسلمان حبیبِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو نعمتِ الٰہی سمجھتے  ہوئے  محفلِ میلاد کی صورت میں اسکا چرچا کرتے  ہیں۔

سوال : اس ضِمن میں حدیث میں کوئی واقعہ مذکور ہو تو وہ بھی بیان فرمادیں؟

جواب : بخاری شریف میں ہے : ’’حضرت عُروہ فرماتے  ہیں : ثُـوَ یْبَہ ابو لہب کی باندی تھی جسے  اس نے  (حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی پیدائش کی خوشی میں)آزاد کر دیا تھا ۔اس نے  حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو دودھ بھی پلایا  ۔ابو لہب کے  مرنے  کے  بعد اسکے  بعض اہل (حضرت عباس  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)نے  اسے  بہت بُری حالت میں خواب میں دیکھاا ور اس سے  پوچھا مرنے  کے  بعد تیرا کیا حال رہا؟ ابولہب نے  کہا : تم سے  جُدا ہوکر میں نے  کوئی راحت نہیں پائی سوائے  اسکے  کہ میں تھوڑا سا سیراب کیا جاتا ہوں اس لیے  کہ میں نے  (حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی پیدائش کی خوشی میں) ثُـوَ یْبَہ کو آزاد کیا تھا۔([1])

شرحِ حدیث :  امام قسطلانی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے  ہیں : ابنِ جَزری نے  کہا :  شبِ میلاد کی خوشی کی وجہ سے  جب ابولہب جیسے  کافر کا یہ حال ہے  کہ اسکے  عذاب میں تخفیف ہوتی ہے  حالانکہ ابولہب ایسا کافر ہے  جس کی مذمّت میں قرآن نازل ہوا تو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے  اُمّتی مومن و مُوَحِّد کا کیا حال ہوگا جو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم



[1]     صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب (وامھاتکم اللاتی ارضعنکم۳/ ۴۳۲، حدیث :  ۵۱۰۱، عمدة القاری، ۱۴/ ۴۴ ۔۴۵، تحت الحدیث : ۱۵۰۱



Total Pages: 50

Go To