Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

حکم آیا کہ میّت کیلئے  جواب میں ثابت قدم رہنے  کی دعا کریں۔([1])

اور یہ اَمر بھی احادیثِ صحیحہ سے  ثابت ہے  کہ اذان  دینے  سے  شیطان بھاگتا ہے  جونہی اذان کی آواز اس کے  کان میں پڑتی ہے  جس جگہ اذان دی جارہی ہو وہاں سے  کوسوں دور بھاگ جاتا ہے  چُنانچہ صحیح مسلم میں جابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے  مروی کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم فرماتے  ہیں :  ’’شیطان جب اذان سنتا ہے  اتنی دور بھاگتا ہے  جیسے  روحا۔‘‘اور روحا مدینہ سے  ۳۶ میل کے  فاصلہ پر ہے ۔([2])

سوال : کیا اذان نماز کے  ساتھ خاص ہے ؟

جواب :  نہیں، ایسا نہیں کہ اذان نماز کے  ساتھ خاص ہے۔بعض لوگوں کواذانِ قبر کے  ناجائز ہونے  کا شیطانی وَسْوَسَہ شاید اس بنا پر آتا ہے  کہ لوگ اذان کو نماز کے  ساتھ خاص سمجھتے  ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے  بلکہ شریعتِ مطہرہ نے  نماز کے  علاوہ کثیرمقامات پر اذان کو مستحسن جانا ہے  جیسے  نو مولود کے  کان اور دفعِ وبا و بلا وغیرہ مواقع میں۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

نماز کے  بعد ذکر

سوال : کیا نماز کے  بعد بلند آواز سے  ذکر کرناجائز ہے  یا نہیں؟

جواب : نماز کے  بعد ذکر کرنا شرعاً جائز ہے ۔

    سوال : اسکی کیا دلیل ہے ؟

جواب : حدیث۱ : صحیح مسلم میں عبد اللّٰہبن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے  روایت ہے  کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم سلام پھیر کر بلند آواز سے  یہ کلمات پڑھتے  تھے :  ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیَّاہُ، لَہُ النِّعْمَۃُ وَلَہُ الْفَضْلُ وَلَہُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنُ وَلَوْکَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔‘‘ ([3])

حدیث۲ : صحیح مسلم میں ہے :  حضرت ابنِ عباس  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے  مروی ہے : ’’فرائض سے  فارغ ہو کر بلند آواز سے  ذکرُ اللّٰہ کرنا حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے  زمانہ میں مُروّج تھا۔‘‘([4])

سوال : بلند آواز سے  ذکرکرتے  ہوئے  کیا احتیاط پیشِ نظر رکھی جائے ؟

جواب : بلند آواز سے  ذکر کرنے  میں یہ احتیاط پیشِ نظر رہے  کہ سوتے  ہوئے  لوگوں کی نیند میں خَلل نہ آئے  یا نماز ی یا تلاوت کرنے  والے  کوتشویش نہ ہو۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

بڑی راتوں میں عبادت

سوال : شبِ معراج میں عبادت کرنا کیسا ہے  اور اس کی کیا فضیلت ہے ؟

جواب : شبِ معراج شریف میں عبادت کرنا جائز ومستحسن ہے ، اس میں عبادت کرنے کی فضیلت بیان کرتے  ہوئے  عار ف باللہ شیخ محقّق شیخ عبدُالحق محدّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حدیث نقل فرماتے  ہیں : ’’رجب میں ایک ایسی رات ہے  جس میں عبادت کرنے  والے  کیلئے  سوسال کی نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے اور یہ رجب کی ستائیسویں رات ہے ، جو اس رات بارہ رکعت نوافل اس طرح اد اکرے  کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھے  اورسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ ولَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرسو دفعہ پڑھے  اور اللّٰہ تعالیٰ سے  سو دفعہ استغفار کرے  اور نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم پر سو بار درود پڑھے  اور اپنے  لیے  دنیا وآخرت میں سے  جو چاہے  مانگے  اور صبح کو روزہ رکھے  تو بے  شک اللّٰہ تعالیٰ اس کی سب دعاؤں کو قبول فرمائے  گا، سوائے  اس دعا کے  جو گناہ کی ہو، اس روایت کو امام بیہقی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهِنے  ’’شعبُ الایمان‘‘ میں ابان سے  اور انہوں نے  حضرت سیّدُنا انس  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے  روایت کیا۔‘‘([5])

سوال : شبِ براءت کی فضیلت و اہمیت کیاہے ؟

 



[1]    نوادر الاصول، الاصل الحادی والخمسون والمائتان، ۲/ ۱۰۲۰،  بتغیرٍ، فتاوی رضویہ،  ۵/ ۶۵۵

[2]    صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب فضل الاذان وھرب۔۔۔الخ، ص۲۰۴، حدیث : ۳۸۸

[3]     صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة، ص۲۹۹، حدیث : ۵۹۴

[4]      صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة، ص۲۹۴، حدیث : ۵۸۳

[5]     ما ثبت بالسنۃ، ص۱۵۰، شعب الإیمان، باب فى الصيام، تخصيص شهر رجب بالذكر، ۳/ ۳۷۴، حدیث : ۳۸۱۲



Total Pages: 50

Go To