Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

درست ہے ؟

جواب : اس کا حل یہ نہیں کہ ایک مستحسن کام بند کردیاجائے ، علماءِ کرام نے  اس کا حل یہ پیش فرمایا ہے  کہ اذان واقامت سے  پہلے  درود میں یہ احتیاط کرنی چاہئے  کہ درود شریف پڑھنے  کے  بعد کچھ وقفہ کرے  پھر اذان یا اقامت کہے  تاکہ درود شریف اور اذان واقامت کے  درمیان فاصلہ ہو جائے  یا درود شریف کی آواز اذان و اقامت کی آواز سے  پَست رہے  تاکہ دونوں کے  درمیان فرق رہے  اور درود شریف کو اقامت کا جُزء نہ سمجھیں۔اس طرح اذان واقامت پڑھنے  والا خوش نصیب صلوٰۃ و سلام کی برکتوں سے  بھی مستفید ہوتا رہے  گا۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

انگوٹھے  چومنا

سوال : اذان میں حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے  اسمِ گرامی محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو سُن کر اپنے  انگوٹھے  چوم کر اپنی آنکھوں سے  لگانا کیسا ہے ؟

جواب : جائزو مستحسن و موجبِ اجر وثواب ہے  اور سرکارِ دوجہاں ، رحمتِ عالمیاں، شفیعِ مُذنِباں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی محبت کی علامت ہے ۔

سوال : اس کا کیا ثبوت ہے ؟

جواب : علامہ ابنِ عابدین شامی رَحْمَۃُ اﷲِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے  ہیں : ’’مستحب یہ ہے  کہ جب پہلی شہادت سنے  تو کہے : صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اور جب دوسری سُنے  تو دونوں انگوٹھے  اپنی دونوں آنکھوں پر لگانے  کے  بعدکہے : قَرَّتْ عَیْنِیْ بِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِپھر یہ کہے  اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِتو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم جنّت کی طرف اس کے  قائد ہونگے  جیسے  کہ کَنْزُ الْعِباد اور الفتاوی الصّوفیۃ میں ہے  اور کتابُ الفردوس میں ہے  کہ جس نے  اذان میںاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِسننے  کے  بعد اپنے  دونوں انگوٹھوں کو بوسہ دیا توجنّت کی صفوں میں، میں اس کا قائد اور داخل کرنے  والا ہوں گا۔([1])

سوال : انگوٹھے  چومنے  کے  بارے  میں کوئی واقعہ ہو تو وہ بیان فرمادیں ؟

جواب : اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مجدّدِ دین و ملّت امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن مسندُالفردوس کے  حوالے  سے  فرماتے  ہیں : ’’حضرت ابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے  مَروی ہے  کہ جب آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے  مؤذّن کو اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْ لُ اللّٰہ کہتے  سُنا یہ دُعا پڑھی اور دونوں کلمے  کی انگلیوں کے  پورے  جانبِ زیریں سے  چُوم کر آنکھوں سے  لگائے ، اس پر حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے  فرمایا :  جو ایسا کرے  جیسا میرے  پیارے  نے  کیا اس کے  لئے  میری شفاعت حلال ہوجائے  ۔([2])

 سوال :  اگر یہ دلائل نہ ہوتے  تو کیا پھر بھی ایسا کرناجائز ہوتا؟

جواب : جی ہاں !اگر اس کے  لئے  کوئی خاص دلیل نہ بھی ہوتو شریعت کی طرف سے  اس کی ممانعت نہ ہونا ہی اس کے  جائز ہونے  کے  لئے  کافی ہے  کیونکہ یہ چیزیں اصل کے  اعتبار سے  جائز ہیں جب تک کہ شریعت منع نہ کردے  ۔یہی وجہ ہے  کہ اذان کے  علاوہ بھی محبت و تعظیم کی وجہ سے  حضورسرورِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کا نامِ مبارک سن کر انگوٹھے  چوم کر آنکھوں سے  لگانا  جائز ومستحسن ہے ۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

قبر پر اذان

سوال : دفن کرنے  کے  بعد قبر پر اذان دینا کیساہے ؟

جواب :  دفن کے  بعد قبر پر اذان دیناجائزو مستحسن ہے  ۔

سوال : قبر پر اذان دینے  کا ثبوت کیا ہے ؟

جواب :  قبر پر اذان دینے  کا جواز یقینی ہے  کیونکہ شریعتِ مطہر ہ نے  اس سے  منع نہیں فرمایا اور جس کام سے  شرع مطہرہ منع نہ فرما ئے  اصلا ً  ممنوع نہیں ہوسکتا۔نیز احادیث سے  ثابت ہے  کہ جب مُردے  کو قبر میں اتارنے  کے  بعدمنکر نکیر ا س کے  پاس آکرسوالات کرتے  ہیں توشیطان جوکہ انسان کا اَزَلی دشمن ہے ، مسلمان کو بہکانے  کیلئے  وہاں بھی آپہنچتا ہے  اور یہ بات بھی احادیث سے  ثابت ہے  کہ شیطان قبر میں آتا اور مسلمان کو سوالات کے  جواب دینے  میں پریشانی میں مبتلا کرتا ہے  تاکہ یہ سوالات کے  جوابات نہ دے  کر خائب و خاسِر ہو اور جب اذان دی جاتی ہے  تو شیطان بھا گ کھڑا ہوتا ہے ۔

چُنانچہ روایت میں ہے : ’’جب مُردے  سے  سوال ہو تاہے  کہ تیرا رب کون ہے ؟ شیطان اس پر ظاہر ہوتا ہے  اور اپنی طرف اشارہ کرتا ہے  یعنی میں تیرا رب ہوں۔‘‘اس لئے  



[1]    ردالمحتار، کتاب الصلاة، مطلب فی کراھة تکرار الجماعة فی المسجد، ۲/ ۸۴

[2]    فتاویٰ رضویہ، ۵/ ۴۳۲



Total Pages: 50

Go To