Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

(۳)۔۔۔حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے  بال مبارک، وضوکے  بچے  ہوئے  پانی، ناخنوں کے  تراشے ، چادر مبارک، تہبند مبارک، پیالہ مبارک، انگوٹھی مبارک سے  صحابۂ کرام کا برکت حاصل کرنا بکثرت احادیث سے  ثابت ہے  ۔

سوال : کیا قبر میں تبرکات وغیرہ رکھ سکتے  ہیں؟

جواب :  جی ہاں!قبر کے  اندر تبرکات وغیرہ رکھنا جائزوباعثِ ثواب اور میّت کیلئے  دفعِ عذاب کا سبب بنتا ہے  اور یہ صحابۂ کرام عَـلَيْهِمُ الرِّضْوَانو سلف صالحین کے  عمل سے  ثابت ہے  ۔حضرت امیر معاویہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی وصیّت تھی کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی قمیص مبارکہ، میرے  کفن کے  نیچے  بدن سے  متصل رکھنا اور موئے  مبارک و ناخن ہا ئے  مقدّسہ کو میرے  منہ اور آنکھوں اور پیشانی وغیرہ مواضعِ سجود پر رکھ دینا۔([1])

سوال : اس ضِمن میں اگر کوئی واقعہ ہو تو بیان فرمادیں ؟

جواب :  صحیح بخار ی کی حدیثِ پاک میں ہے  حضرت عبداللہ بن مسلمہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے  اپنی سند کے  ساتھ حضرت سہل  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے  حدیث بیان کی کہ ایک عورت حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں ایک خوبصورت چادر لائی اور عر ض کیا : آپ کو پہننے  کیلئے  پیش کر رہی ہوں، آپ اس کو تہبند کی صورت میں پہن کر باہر تشریف لائے  تو ایک صحابی نے  اس چادر کی تحسین کی اور سوال بھی کر لیا تو صحابۂ کرام عَـلَيْهِمُ الرِّضْوَاننے  اسے  کہا کہ تو نے  اچھا نہیں کیا کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے  اسے  اپنے  لئے  پسند فرمایا ہے  اور یہ بھی تمہیں معلوم ہے  کہ آپ سائل کو محروم نہیں فرماتے  اس کے  باوجود سوال کر لیاتو اس صحابی نے  کہا کہ میں نے  اس کو پہننے  کے  لئے  نہیں طلب کیا بلکہ اپنے  کفن کیلئے  سوال کیا ہے ، حضرت سہل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے  ہیں کہ وہ چادر اس سائل کا کفن بنی۔([2])

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

اذان و اقامت سے قبل درودِ پاک پڑھنا

سوال : اذان و اقامت سے  پہلے  یا بعد میں درودِ پاک پڑھنا کیساہے ؟

جواب : اذان واقامت سے  پہلے  یا بعد میں درود و سلا م پڑھنا بالکل جائز اور مستحب ہے ۔

سوال : اس کا کیا ثبوت ہے ؟

جواب :  قرآنِ پاک میں فرمانِ باری تعا لیٰ ہے اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ ٢٢، الأحزاب : ٥٦)

ترجمۂ کنزالایمان :  بیشک اللّٰہ اور اس کے  فرشتے  درود بھیجتے  ہیں اس غیب بتانے  والے (نبی)پر اے  ایمان والو، ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

قرآنِ پاک کی اس آیتِ مبارکہ میں اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّنے  درودِ پاک پڑھنے  کا حکم دیا اور اس میں نہ تو کوئی الفاظ مقرّر فرمائے  کہ انہیں الفاظ کے  ساتھ درود پڑھو اور نہ ہی کسی وقت کی قید لگائی ہے  کہ اِس وقت پڑھو اور اُس وقت نہ پڑھو ۔

حدیث شریف میں ہے  : ’’جس نے  اسلام میں ایک اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کے  لیے  اس کا اجر ہے  اور جو اس پر عمل کریگا اس کااجر ایجاد کرنے  والے  کو بھی ملے  گا۔‘‘([3])

اَلْـحَمْـدُ لـِلّٰـهِ عَزّ  َوَجَلَّاذان سے  قبل درود شریف پڑھنا بھی مسلما نو ں کے  اندر رائج ہے  اور اگر یہ کسی حدیث شریف سے  ثابت نہ بھی ہو تب بھی کارِ ثواب ہے  کہ دینِ اسلا م میں جس نے  اچھا کام شروع کیا اللّٰہ تعالیٰ اسے  نیک عمل کا ثواب عطافرمائے  گا اور جتنے  لو گ اس پر عمل کریں گے  ان کے  برابربھی اس شخص کو ثواب عطا کیا جائے  گا ۔

سوال : کِن مواقع پر درود شریف پڑھنا مستحب ہے ؟

جواب : حضرت علامہ سیّد ابنِ عابدین شامی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهِدرود شریف پڑھنے  کے  مستحب مواقع بیان کرتے  ہوئے  فرماتے  ہیں : ’’علماءِ کرام نے  بعض مواقع پر درودِ پاک پڑھنے  کے  مستحب ہونے  پر نص فرمائی ہے  ان میں سے  چند یہ ہیں : روزِ جمعہ اور شبِ جمعہ، ہفتہ اتوار اور سوموار کے  دن، صبح و شام، مسجد میں جاتے  او ر نکلتے  وقت ، بوقتِ زیارت روضۂ اطہر، صفا و مروہ پر، خطبۂ جمعہ کے  وقت ، جوابِ اذان کے  بعد ، بوقت ِاقامت ، دعا کے  اوّل آخِر اور بیچ میں، دعائے  قنوت کے  بعد، تَلْبِیَہ کہنے  کے  بعد، کان بجنے  کے  وقت اور کسی چیز کے  بھول جانے  کے  وقت۔‘‘([4])

سوال : بعض لوگ کہتے  ہیں کہ اذان و اقامت سے  قبل درود شریف نہ پڑھاجائے  کہ عوامُ النّاس کہیں درود شریف کو اذان و اقامت کا حصّہ نہ سمجھ لیں، کیا یہ بات



[1]      فتاوی رضویہ، ۹/ ۱۱۷ ، ملخصاً

[2]    صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب من استعد الکفن ۔۔۔الخ، ۱/ ۴۳۱، حدیث : ۱۲۷۷،۔۔۔  ملخصاً

[3]              صحیح مسلم، کتاب الزکاة، باب الحث على الصدقة۔۔۔الخ ، ص۵۰۸، حدیث : ۱۰۱۷

[4]     ردالمحتار، کتاب الصلاة، مطلب نص العلماء علی استحباب۔۔۔الخ، ۲/ ۲۸۱



Total Pages: 50

Go To