Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

جواب : اس کے  جائز ہونے  کی دلیل مشکوٰ ۃ شریف کی حدیثِ پاک ہے  کہ ایک مرتبہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کا دو قبروں پر گزر ہوا، فرمایا کہ دونوں میّتوں کو عذاب ہورہا ہے ، ان میں ایک تو پیشاب کی چھینٹوں سے  نہیں بچتا تھا اور دوسرا چُغلی کیا کرتا تھا پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے  ایک تَر شاخ لی اوراس کے  دو حصے  کئے  اور پھر ہر ایک قبر پر ایک حصہ گاڑ ھ دیا، لوگوں نے  عرض کیا کہ آپ نے  ایساکیوں کیا ؟ فرمایا :  جب تک یہ خشک نہ ہوں تب تک ان کے  عذاب میں کمی رہے  گی۔([1]) کہا گیا ہے  کہ اس لئے  عذاب کم ہوگا کہ جب تک تَر رہیں گے  تسبیح پڑھیں گے ۔([2])

شرحِ حدیث : اشعۃُ اللَّمْعات میں اسی حدیث کے  تحت ہے :  اس حدیث سے  ایک جماعت دلیل پکڑتی ہے  کہ قبروں پر سبزہ اور گُل و رَیحان ڈالنا جائز ہے ۔([3])

مِرقات میں اس حدیث کی شرح میں ہے : ہمارے  بعض مُتاخرین ا صحاب نے  اس حدیث کی وجہ سے  فتویٰ دیا کہ  پھول اور کھجور کی ٹہنی چڑھانے  کی جو عادت ہے  وہ سنّت ہے ۔([4])

سوال : مزارات پر چادر ڈالنا کیساہے ؟

جواب : شریعتِ مطہرہ میں قبورپر چادر چڑھانا بلاشبہ جائز اور مستحسن عمل ہے  کہ اس سےصاحبِ مزار کی تعظیم و عظمت کا اظہا ر ہو تا ہے ۔

سوال : قبر پر پانی چھڑکنا کیسا ہے ؟

جواب : دفن کرنے  کے  بعد قبر پر پانی چھڑکنا مسنون ہے  ۔اسی طرح قبر کی خاک بکھر گئی ہو اور اب دوبارہ اس پر مٹی ڈالی گئی یا اس بات کا اندیشہ ہے  کہ مٹی بکھر جائے  گی تو اس پر پانی ڈال سکتے  ہیں تاکہ قبر کی نشانی باقی رہے  ، بلاوجہ ہر گز نہ ڈالا جائے  کہ اسراف ہے  ۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

زیارتِ قبور

سوال : مزارات پر جانا کیسا؟

جواب : شریعتِ مطہرہ میں مزاراتِ اولیاءاللّٰہپر جانا جائز اور سنّت سے  ثابت ہے  کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم خودشُہداءِ اُحُد کے  مزار پر تشریف لے  جاتے  تھے  ۔جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے : ’’بے  شک نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم ہر سال شُہداءِ اُحُد کے  مزارات پر تشریف لے  جاتے ۔‘‘([5])

مزید ترمذی شریف کی روایت میں ہے : ’’رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے  ارشاد فرمایا کہ میں نے  تم کو قبروں کی زیارت سے  منع کیا تھا تو اب محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو اجازت دے  دی گئی ہے  اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی، لہٰذا تم بھی قبروں کی زیارت کرو بے  شک وہ آخرت کی یاد دلاتی ہے ۔‘‘([6])

    سوال : مزارات پر جانے  سے  کیا حاصل ہوتا ہے ؟

جواب : مزارات و قبور کی زیارت کرنے  سے  دنیا سے  بے  رغبتی پیدا ہوتی اور آخرت کی یاد آتی ہے ۔حدیثِ پاک میں ہے : سیّدنا بریدہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے  روایت ہے  کہ سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے  ارشاد فرمایا :۔۔۔میں نے  تمہیں قبروں کی زیارت سے  منع کیا تھا اب زیارت کیا کرو ۔([7]) ’’کیونکہ یہ دنیا میں بے  رغبتی اور آخرت کی یاد پیدا کرتی ہے ۔‘‘([8])

سوال : کیا مزار کابوسہ لے  سکتے  ہیں؟

جواب : زیارت کرنے  والے  کو  مزار کابوسہ نہیں لینا چاہئے  ، علماء کا ا س میں اختلاف ہے  لہٰذا بچنا  بہتر ہے  اور اسی میں ادب زیادہ ہے ۔([9])

سوال : مزار پر حاضری کا طریقہ کیا ہے ؟

جواب :  اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت مجدّدِدین وملّت مولاناشاہ احمد رضا خان عَـلَيْهِ رَحْمَةُ الـرَّحْمٰن مزارات پر حاضری کی تفصیل یوں ارشادفرماتے  ہیں : ’’مزارات شریفہ پر حاضر



[1]     مشکوة المصابیح، کتاب الطھارة، باب آداب الخلاء، الفصل الاول، ۱/ ۸۱، حدیث : ۳۳۸

[2]     مرقاة المفاتیح، کتاب الطھارة، باب آداب الخلاء، الفصل الاول، ۲/ ۵۸، تحت  الحدیث : ۳۳۸

[3]     اشعة اللمعات، ۱/ ۲۱۵

[4]     مرقاة المفاتیح، کتاب الطھارة، باب آداب الخلاء، الفصل الاول، ۲/ ۵۹، تحت  الحدیث : ۳۳۸

[5]               مصنف عبد الرزاق، کتاب الجنائز، باب فی زيارة القبور ، ۳/ ۳۸۱، حدیث : ۶۸۴۵

[6]     ترمذی، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی الرخصة فی زیارة القبور، ۲/ ۳۳۰، حدیث : ۱۰۵۶

[7]      صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب استئذان النبی ربہ۔۔۔الخ، ص۴۸۶، حدیث : ۹۷۷

[8]      ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی زیارة القبور، ۲/ ۲۵۲، حدیث : ۱۵۷۱

[9]      فتاوی رضویہ ، ۲



Total Pages: 50

Go To