Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

جواب : جی ہاں۔اولیاءِ کرام کے  انتقال کے  بعد بھی ان کی کرامات ظاہر ہوتی ہیں جسے  ہر آنکھ والا دیکھتا اور مانتاہے ۔

سوال : کیا کسی فاسق وفاجر سے  بھی کرامت کا ظہور ہوسکتا ہے ؟

جواب : جی نہیں۔

سوال : چند ایک مشہور اولیاءِ کرام کے  نام بتا دیجئے  ؟

جواب : حضور غوثِ اعظم سیّدُنا عبدُالقادر جیلانی، حضرت داتا گنج بخش ہجویری، حضرت خواجہ شہابُ الدین سہروردی، حضرت خواجہ مُعینُ الدین چشتی، اعلیٰ حضرت اما م احمد رضا خان رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی۔

سوال : اولیائے  کرام سے  ہمیں ملتا کیاہے  ؟

    جواب : اولیاء  اللّٰہ کی محبت دونوں جہانوں کی سعادت اور رضائے  الٰہی کا سبب ہے  ۔ان کی برکت سے  اللّٰہ تعالیٰ مخلوق کی حاجتیں پوری کرتا ہے  ۔ان کی دعاؤں سے  مخلوق فائدہ اٹھاتی ہے  ۔ان کے  مزاروں کی زیارت، ان کے  عُرسوں میں شرکت سے  برکات حاصل ہوتی ہیں، ان کے  وسیلہ سے  دعا کرنا قبولیّت کا ذریعہ ہے ۔ان کی سیرتوں سے  رہنمائی حاصل کرکے  گمراہی سے  بچ کر صراطِ مستقیم پر استقامت کے  ساتھ چلا جاسکتا ہے  ان کی پیروی کرنے  میں نجات ہے ۔

سوال : کیا ایک مسلمان کے  انتقال کے  بعد کسی نیک عمل سے  اسے  فائدہ پہنچ سکتا ہے ؟

جواب : کیوں نہیں !مرنے  کے  بعد مسلمان مُردوں کو صدقہ ، خیرات، تلاوتِ قرآن شریف، ذکرِ الٰہی اور دعا سے  فائدہ ہوتا ہے  ۔ان سب چیزوں کا ثواب پہنچتا ہے ، اسی لئے  فاتحہ اور گیارہویں وغیرہ مسلمانوں میں بہت پہلے  سے  رائج ہے  اور صحیح احادیث سے  یہ اُمور ثابت ہیں، ان چیزوں کا منکر گمراہ ہے ۔

وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

جنت کی دعا

حضرتِ سَیِّدُنا اَنَسْ بن مَالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے  ہیں کہ نبیوں کے  سُلطان، سرورِ ذیشان، سردارِ دو جہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  ارشاد فرمایا : جس نے  تین مرتبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے  جَنّت کا سُوال کیا تو جَنّت دُعا کرتی ہے  کہ یااللہ عَزَّوَجَلَّ اِس کو جَنّت میں داخل کردے  اور جس شخص نے  تین مرتبہ دوزخ سے  پناہ مانگی تو دوزخ دعاء کرتی ہے  کہ یا اللہ عَزَّوَجَلَّ  اِس کو دوزخ سے  پناہ میں رکھ۔

(جامع الترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ماجاء فی۔۔۔۔۔۔الٰخ، الحدیث : ۲۵۸۱، ج۴، ص۲۵۷)

(حصّۂ دوم) معمولاتِ اہلسنّت

ندائے  یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

سوال :  کیاہم اپنے  پیارے  آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو یارسولَ اللّٰہ، یا نبیَّ اللّٰہ کہہ کر پکار سکتے  ہیں، ایسا کرناشرک تو نہیں؟

جواب : نبیوں کے  سرور، محبوبِ ربِّ داور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو یارسولَ اللّٰہ، یا نبیَّ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم وغیرہ الفاظ و القاب کے  ساتھ نزدیک و دُور سے  پکارنا بالکل جائز ہے ، ہرگز شرک نہیں ۔

سوال : اس کی کیا دلیل ہے ؟

جواب : قرآنِ مجید سے  ثبوت :

قرآنِ کریم میں بہت سے  مقامات پر اللّٰہ تعالیٰ نے  حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو نداء فرمائی ۔( یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ )، ( یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ)، ( یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ(۱) )، ( یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ (۱) ) وغیرہ ان تمام آیات میں  حرفِ ندا ’یا‘ کے  ساتھ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو خطاب فرمایا ہے  ۔

حدیثِ مبارک :

صحیح مسلم میں حضرت سیّدُنا بَراء  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے  روایت  ہے  جوحضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے  مدینۂ پاک میں داخلے  کا منظر بیان کرتےہوئے فرماتے  ہیں :  ’’عورتیں اور مرد گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے  اور بچے  اور غلام گلی کوچوں میں متفرّق ہو گئے  ۔نعرے  لگاتے  پھرتے  تھے ، یَامُحَمَّدُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، یَامُحَمَّدُ یَارَسُوْلَ



Total Pages: 50

Go To