Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

ہے  کہ وہ جنّت کی بیبیوں کی سردار ہیں اور حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے  حق میں وارد ہے  کہ وہ جنّت کے  جوانوں کے  سردار ہیں، اسی طرح اصحابِ بدر اور اصحابِ بیعۃُ الرّضوان کے  حق میں بھی جنّت کی بشارتیں ہیں اور عمومی طور پر تمام صحابہ سے  ہی جنت کا وعدہ کیا گیا ہے ۔

سوال : اصحابِ بدر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے  کون مرادہیں؟

    جواب : وہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ جو 2ھ میں بدر کے  مقام پرکفارِ مکہ کے  خلاف اسلام کی سب سے  پہلی لڑائی میں شریک ہوئے  ’’اصحابِ بدر‘‘کہلاتے  ہیں، ان کی تعداد 313تھی۔

سوال : اصحابِ بیعتِ رضوان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کون ہیں؟

جواب : ان سے  مراد وہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ ہیں جنہوں نے  6ھ میں حُدیبیہ کے  مقام پر آقا صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کے  دستِ مبارک پرکفارِ مکہ کے  خلاف مَرمٹنے  کے  لیے  بیعت کی اور اللّٰہ تعالیٰ نے  اس پر انہیں اپنی رضا کی خوشخبری دی، ان کی تعداد 1400تھی۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

امامت کا بیان

سوال : امامت کی کتنی قسمیں ہیں؟

جواب :  امامت کی دو قسمیں ہیں :

(۱)۔۔۔امامتِ صُغریٰ، اس سے  مرادامامتِ نماز ہے ۔

(۲)۔۔۔امامتِ کُبریٰ، اس سے  مراد حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کی نیابتِ مُطْلَقہ ہے  کہ مسلمانوں کے  تمام دینی و دنیوی اُمور میں شریعت کے  مطابق تصرُّفِ عام کا اختیار رکھے  جیسے  خلفاءِ راشدین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی خلافت اور یہاں اسی امامتِ کُبریٰ کا بیان ہے  ۔

سوال : ایک امام میں کِن کِن شرائط کا پایاجانا ضروری ہے ؟

جواب : امام کیلئے  ضروری ہے  کہ وہ ظاہر ہو، امام قریشی، مسلمان ، مرد ، آزاد، عاقل ، بالغ اور اپنی رائے ، تدبیر اور شوکت و قوّت سے  مسلمانوں کے  اُمور میں تَصرُّف یعنی تبدیلی کرسکتا ہو یعنی صاحبِ سیاست ہو ۔اپنے  علم، عدل اور شُجاعت و بہادری سے  احکام نافذ کرنے  اور دارُالاسلام کی سرحدوں کی حفاظت اور ظالم و مظلوم کے  انصاف پر قادر ہو۔

سوال :  امام کے  لئے  ظاہر ہونا کیوں ضروری ہے ؟

جواب :  اس لئے  کہ اگر امام لوگوں سے  پوشیدہ ہوگا تو وہ کام انجام نہ دے  سکے  گا جن کیلئے  امام کی ضرورت ہے ۔

سوال : کیا قریش کے  علاوہ کسی قبیلہ سے  امام ہوسکتاہے ؟

جواب :  قریشی کے  علاوہ کسی کی امامت جائز نہیں۔

سوال : ایک امام کے  ذِمّہ کیاکیا چیزیں لازم ہیں؟    

جواب : مسلمانوں کے  لئے  ایک ایسا امام ضروری ہے  جو ان میں شَرع کے  احکام جاری کرے  ، حَدیں قائم کرے ، لشکر ترتیب دے ، صدقات وصول کرے ، چوروں ، لُٹیروں، حملہ آوروں کو مغلوب کرے ، جمعہ و عیدین قائم کرے ، مسلمانوں کے  جھگڑے  کاٹے ، حقوق پر جو گواہیاں قائم ہوں وہ قبول کرے  ، ان بیکس یتیموں کے  نکاح کرے  جن کے  ولی نہ رہے  ہوں اور ان کے  سواوہ کام انجام دے  جن کو ہر ایک آدمی انجام نہیں دے  سکتا۔

سوال : امام کی اطاعت کے  بارے  میں کیا حکم ہے ؟

جواب :  امام کی اطاعت مطلقاً ہر مسلمان پر فرض ہے  جبکہ اس کا حکم شریعت کے  خلاف نہ ہو، خلافِ شریعت میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔([1])

سوال : صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے  بارے  میں ایک مسلمان کو کیسا عقیدہ رکھنا چاہیے ؟

    جواب : حضور نبی کریم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے  تمام صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ مُتّقی و پرہیز گار ہیں ان کا ذکر اَدب ، محبت اور توقیر کے  ساتھ لازم ہے ، تمام صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْجنّتی ہیں، روزِ محشر فرشتے  ان کا استقبال کریں گے ۔

سوال : کسی صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے  بارے  میں زبان درازی کرنے  کے  بارے  میں کیا حکم ہے ؟

 



[1]      بہار شریعت، حصہ۱، ۱/ ۲۴۰



Total Pages: 50

Go To