Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

معنی میں ہے ۔

صحابۂ کرامرَضِیَ اﷲُ تَعَالیٰ عَنْھُم سے  متعلق کفریہ کلمات

سوال : حضرت ابو بکر صدیق وحضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْھُمَاکی خِلافت کے  انکار کا کیا حکم ہے ؟

جواب :  حضراتِ شیخین رَضِیَ اﷲُ تَعَالیٰ عَنْھُمَاکی شانِ پاک میں سبّ و شتم کرنا، تَبَرَّا کہنایا حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْھُکی صحبت یا امامت و خلافت سے  انکار کرنا کفر ہے  ۔حضرت امُّ المؤمنین صدیقہ رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْھَاکی شانِ پاک میں قَذف جیسی نا پاک تہمت لگانا یقیناً قطعاً کفر ہے ۔

فرشتوں سے  متعلق کفریہ کلمات

سوال : دشمن یا نا پسند شخص کو مَلکُ الموت  کہنے  کا کیا حکم ہے  ؟

جواب :  دشمن ومبغوض کو دیکھ کر یہ کہنا مَلکُ الموت آگئے  یا کہا :  اسے  ویسا ہی دشمن جانتا ہوں جیسا مَلکُ الموت کو، اس میں اگر مَلکُ الموت کو بُرا کہنا ہے  تو کفر ہے  اور موت کی نا پسندیدگی کی بنا پر ہے  تو کفر نہیں ۔یوہیں جبرئیل یا میکائیل یا کسی فرشتہ کو جو شخص عیب لگائے  یا توہین کرے  کافر ہے ۔

سوال : قرآنِ پاک کی کسی آیت کو مذاق کے  طور پر پڑھنا کیسا ہے ؟

جواب :  قرآن کی کسی آیت کو عیب لگانا یا اس کی توہین کرنا یا اس کے  ساتھ مسخرہ پن کرنا کفر ہے  مثلاً داڑھی مونڈانے  سے  منع کرنے  پر اکثر داڑھی منڈے  کہہ دیتے  ہیں(كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ(۳)) (پ٣٠، التكاثر :۳)جس کا یہ مطلب بیان کرتے  ہیں کہ کلّا صاف کرو یہ قرآن مجید کی تحریف وتبدیل بھی ہے  اور اس کے  ساتھ مذاق اور دل لگی بھی اور یہ دونوںباتیں کفر ، اسی طرح اکثر باتوں میں قرآن مجید کی آیتیں بے  موقع پڑھ دیا کرتے  ہیں اور مقصود ہنسی کرنا ہوتا ہے  جیسے  کسی کو نماز جماعت کے  لیے  بلایا، وہ کہنے  لگا میں جماعت سے  نہیں بلکہ تنہا پڑھونگا، کیونکہ اﷲتعالیٰ فرماتا ہے :  (اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى)  (پ٢١، العنكبوت : ٤۴۵)

سوال : مَزامیر کے  ساتھ قرآن پڑھنا کیسا؟

جواب :  مَزامیر کے  ساتھ قرآن پڑھنا کفر ہے  ۔

نماز ، اذان، روزہ وغیرہ سے  متعلق کفریہ کلمات

سوال : نماز سے  متعلق چند کفریہ کلمات بتادیجئے ؟

جواب :  کسی سے  نماز پڑھنے  کو کہا :  اس نے  جواب دیا نماز پڑھتا تو ہوں مگر اس کا کچھ نتیجہ نہیں یا کہا :  تم نے  نماز پڑھی کیا فائدہ ہوا یا کہا :  نماز پڑھ کے  کیا کروں کس کے  لیے  پڑھوں ماں باپ تو مر گئے  یا کہا :  بہت پڑھ لی اب دل گھبرا گیا یا کہا :  پڑھنا نہ پڑھنا دونوں برابر ہے  غرض اسی قسم کی بات کرنا جس سے  فرضیت کا انکارسمجھا جاتا ہو یا نماز کی تحقیر ہوتی ہو یہ سب کفر ہے ۔کوئی شخص صرف رمضان میں نماز پڑھتا ہے  بعد میں نہیں پڑھتا اور کہتا یہ ہے  کہ یہی بہت ہے  یا جتنی پڑھی یہی زیادہ ہے  کیونکہ رمضان میں ایک نماز ستّر نماز کے  برابر ہے  ایسا کہنا کفر ہے اس لیے  کہ اس سے  نماز کی فرضیت کا انکارمعلوم ہوتا ہے ۔

سوال :  اذان کی آواز سُن کر یہ کہنا کہ کیا شور مچا رکھا ہے  کیسا ہے ؟

جواب : اگر یہ قول بَروَجہ انکار ہو کفر ہے  ۔

سوال :  روزہ وہ رکھے  جسے  کھانا نہ ملے  یہ کہنے  کا کیا حکم ہے ؟

جواب :  روزۂ رمضان نہیں رکھتا اور کہتا یہ ہے  کہ روزہ وہ رکھے  جسے  کھانا نہ ملے  یا کہتا ہے جب خدانے  کھانے  کودیا ہے  تو بھوکے  کیوں مریں یا اسی قسم کی اور باتیں جن سے  روزہ کی ہِتک وتحقیر ہو کہنا کفر ہے  ۔

سوال : علمِ دین یا علما کی توہین کا کیا حکم ہے  ؟ 

جواب :  علمِ دین اور علما کی توہین بے  سبب یعنی محض اس وجہ سے  کہ عالمِ علمِ دِین ہے  کفر ہے  ۔یوہیں عالمِ دین کی نقل کرنا مثلاً کسی کو منبر وغیرہ کسی اونچی جگہ پر بٹھائیں اور اس سے  مسائل بطورِ اِستہزاء دریافت کریں پھر اسے  تکیہ وغیرہ سے  ماریں اور مذاق بنائیں یہ کفر ہے  ۔یوہیں شرع کی توہین کرنا مثلاً کہے  میں شرع ورع نہیں جانتا یا عالِمِ دین محتاط کا فتویٰ پیش کیا گیا اس نے  کہا :  میں فتوی ٰنہیں مانتا یا فتویٰ کو زمین پر پٹک دیا ۔کسی شخص کو شریعت کا حکم بتایا کہ اس معاملہ میں یہ حکم ہے  اس نے  کہا :  ہم شریعت پر عمل نہیں کرینگے  ہم تو رَسْم کی پابندی کرینگے  ایسا کہنا بعض مَشایِخ کے  نزدیک کفر ہے  ۔

سوال :  شراب پیتے  وقت یا زنا کرتے  وقت یا جُوا کھیلتے  وقت یا چوری کرتے  وقت ’’بِسْمِ اللہ‘‘کہنے  کا کیا حکم ہے  ؟

جواب :  شراب پیتے  وقت یا زنا کرتے  وقت یا جُوا کھیلتے  وقت یا چوری کرتے  وقت ’’بِسْمِ اللہ‘‘ کہنا کفر ہے  ۔دوشخص جھگڑ رہے  تھے  ایک نے  کہا :  ’’ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا



Total Pages: 50

Go To