Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

اور اگر بات کی پچ کی تو اب کافر ہو گیا کہ کفر کی تائید کرتا ہے  ۔

سوال : کفریہ بات کا دل میں خیال پیدا ہوا تو کیا کافر ہو جائے  گا؟۔۔۔

جواب :  کفری بات کا دل میں خیال پیدا ہوا اور زبان سے  بولنا بُرا جانتا ہے  تو یہ کفر نہیں بلکہ خاص ایمان کی علامت ہے  کہ دل میں ایمان نہ ہوتا تو اسے  بُرا کیوں جانتا ۔

کلماتِ کفریہ کا بیان

سوال : کیا یہ  خیال درست ہے  کہ کسی شخص میں ایک بات بھی اسلام کی ہو تو اسے  کافر نہ کہا جائے ؟

جواب :  کسی کلام میں چند معنے  بنتے  ہیں بعض کفر کی طرف جاتے  ہیں بعض اسلام کی طرف تو اس شخص کی تکفیر نہیں کی جائے  گی ۔ہاں اگر معلوم ہو کہ قائل نے  معنیٔ کفر کا ارادہ کیا مثلاً وہ خود کہتا ہے  کہ میری مُراد یہی ہے  تو کلام کا محتمل ہونا نفع نہ دیگا ۔یہاں سے  معلوم ہوا کہ کلمہ کے  کفر ہونے  سے  قائل کا کافر ہونا ضرور نہیں۔ آج کل بعض لوگوں نے  یہ خیال کر لیا ہے  کہ کسی شخص میں ایک بات بھی اسلام کی ہو تو اسے  کافر نہ کہیں گے  یہ بالکل غلط ہے  کیا یہود ونصاریٰ میں اسلام کی کوئی بات نہیں پائی جاتی حالانکہ قرآنِ عظیم میں انھیں کافر فرمایا گیا۔بلکہ بات یہ ہے  کہ علما نے  فرمایا یہ تھا کہ اگر کسی مسلمان نے  ایسی بات کہی جس کے  بعض معنی اسلام کے  مطابق ہیں تو کافر نہ کہیں گے  اس کو ان لوگوں نے  یہ بنا لیا ۔ایک یہ وَبا بھی پھیلی ہوئی ہے  کہتے  ہیں کہ’’ہم تو کافر کو بھی کافر نہ کہیں گے  کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس کا خاتمہ کفر پر ہو گا ‘‘یہ بھی غلط ہے قرآنِ عظیم نے  کافر کو کافر کہا اور کافر کہنے  کا حکم دیا ۔(قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ(۱)) (پ٣٠، الكافرون : ١)اور اگر ایسا ہے  تو مسلمان کو بھی مسلمان نہ کہو تمہیں کیا معلوم کہ اسلام پر مرے  گا خاتمہ کا حال تو خدا جانے  مگر شریعت نے  کافر و مسلم میں امتیا ز رکھا ہے  اگر کافر کو کافر نہ جانا جائے  تو کیا اس کے  ساتھ وہی معاملات کروگے  جو مسلم کے  ساتھ ہوتے  ہیں حالانکہ بہت سے  اُمور ایسے  ہیں جن میں کفار کے  احکام مسلمانوں سے  بالکل جدا ہیں مثلاً ان کے  جنازہ کی نماز نہ پڑھنا، ان کے  لیے  استغفار نہ کرنا، ان کو مسلمانوں کی طرح دفن نہ کرنا، ان کو اپنی لڑکیاں نہ دینا، ان پر جہاد کرنا، ان سے  جِزْیَہ لینا اس سے  انکار کریں تو قتل کرنا وغیرہ وغیرہ ۔بعض جاہل یہ کہتے  ہیں کہ’’ہم کسی کو کافر نہیں کہتے ، عالِم لوگ جانیں وہ کافر کہیں‘‘ مگر کیا یہ لوگ نہیں جانتے  کہ عوام کے  تو وہی عقائد ہونگے  جو قرآن و حدیث وغیرہما سے  علما نے  انھیں بتائے  یا عوام کے  لیے  کوئی شریعت جُدا گا نہ ہے  جب ایسا نہیں تو پھر عالمِ دین کے بتائے  پر کیوں نہیں چلتے  نیزیہ کہ ضروریات کا انکار کوئی ایسا اَمر نہیں جو علما ہی جانیں عوام جو علما کی صحبت سے  مشرف ہوتے  رہتے  ہیں وہ بھی ان سے  بے  خبر نہیں ہوتے  پھر ایسے  معاملہ میں پَہلو تہی اور اعراض کے  کیا معنی ۔

یہاں چند دیگر کلماتِ کفر جو لوگوں سے  صادرہوتے  ہیں بیان کیے  جاتے  ہیں تاکہ ان کا بھی علم حاصل ہو اور ایسی باتوں سے  توبہ کی جائے  اور اسلامی حُدود کی محافظت کی جائے ۔

ایمان واسلام سے  متعلق کفریہ کلمات

سوال : کسی شخص کو اپنے  ایمان میں شک ہو تو ایسے  کے  بارے  میں کیا حکم ہے  ؟

جواب :  جس شخص کو اپنے  ایمان میں شک ہو یعنی کہتاہے  کہ مجھے  اپنے  مومن ہونے  کا یقین نہیں یا کہتا ہے  معلوم نہیں میں مومن ہوں یا کافر وہ کافر ہے  ۔ہاں اگر اُس کا مطلب یہ ہو کہ معلوم نہیں میرا خاتمہ ایمان پر ہوگا یا نہیں تو کافر نہیں ۔جو شخص ایمان و کفر کو ایک سمجھے  یعنی کہتا ہے  کہ سب ٹھیک ہے  خدا کو سب پسند ہے  وہ کافر ہے  ۔یوہیں جو شخص ایمان پر راضی نہیں یا کفر پر راضی ہے  وہ بھی کافر ہے ۔

سوال :  اسلام کو بُرا کہنےوالے  کے  بارے  میں کیا حکم ہے  ؟

جواب :  ایک شخص گناہ کرتا ہے  لوگوں نے  اسے  منع کیا تو کہنے  لگا اسلام کا کام اسی طرح کرنا چاہیے  یعنی جو گناہ و معصیت کو اسلام کہتا ہے  وہ کافر ہے  ۔یوہیں کسی نے  دوسرے  سے  کہا :  میں مسلمان ہوں، اس نے  جواب میں کہا :  تجھ پر بھی لعنت اور تیرے  اسلام پر بھی لعنت، ایسا کہنے  والا کافر ہے  ۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذاتِ مبارکہ سے  متعلق کفریہ کلمات

سوال :  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذا تِ مبارکہ سے  متعلق بولے  جانے  والے  چند کفریہ کلمات بتادیں؟

    جواب : (1) اگر یہ کہا :  خدا مجھے  اس کام کے  لیے  حکم دیتا جب بھی نہ کرتا تو کافر ہے  ۔(2)ایک نے  دوسرے  سے  کہا :  میں اور تم خدا کے  حکم کے  موافق کام کریں دوسرے  نے  کہا :  میں خدا کا حکم نہیں جانتا، یا کہا :  یہاں کسی کا حکم نہیں چلتا ۔(3)کوئی شخص بیمار نہیں ہوتا یا بہت بوڑھا ہے  مَرتا نہیں اس کے  لیے  یہ کہنا کہ اسے  اللہ میاں بھول گئے  ہیں ۔(4)کسی زبان دَراز آدمی سے  یہ کہنا کہ خدا تمھاری زبان کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا میں کس طرح کروں یہ کفر ہے  ۔(5)ایک نے  دوسرے  سے  کہا :  اپنی عورت کو قابو میں نہیں رکھتا، اس نے  کہا :  عورتوں پر خدا کو تو قدرت ہے  نہیں، مجھ کو کہاں سے  ہوگی۔

سوال :  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے  لیے  مکان ثابت کرنے  کا کیا حکم ہے  ؟

جواب :  خدا کے  لیے  مکان ثابت کرنا کفر ہے  کہ وہ مکان سے  پاک ہے  یہ کہنا کہ اوپر خدا ہے  نیچے  تم یہ کلمہ کفرہے  ۔

 



Total Pages: 50

Go To