Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

اَغلاط صِرْف زبانی بتاناخاص مفید نہیں ہوتا)

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

پیش لفظ

از مفتی فُضَیْل رضا قادری عطاریمُدَّظِلُّہُ الْعَالِی

علمِ عقائد ایک اہم علم ہے  اس میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات و صفات، انبیاءِ کرام عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کے  فضائل و احوال ، قیامت اور اس کے  مُتعلِّقات کو بیان کیا جاتا ہے  ۔جس میں یہ بیان ہوتا ہے  کہ ذات  و صفاتِ باری تعالیٰ کے  بارے  میں مسلمانوں کو کیا عقیدہ رکھنا چاہئے ، انبیاءِکرام عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام، حضراتِ صحابہ اور اولیاء رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کے  متعلق کیا عقیدہ ہونا چاہئے ، قیامت و احوالِ قیامت کیا ہیں، جنّت و دوزخ کسے  کہتے  ہیں اور ان کے  متعلق کیا عقیدہ رکھنا چاہئے ، کن کن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے  اور کن چیزوں کا انکار آدمی کو کفر و گمراہی کے  عمیق گھڑےمیں پھینک دیتا ہے  اور کون سے  ایسے  افعال ہیں جن کے  کرنے  سے  آدمی دائرۂ اسلام سے  خارج ہوجاتا ہے ۔’’بنیادی عقائد اور معمولاتِ اہلسنّت‘‘ میں اسلام کے  بنیادی عقیدوں اور معمولاتِ  اہلسنّت کے  متعلق خلیفۂ اعلیٰ حضرت صدرُالافاضل علامہ مولانا مفتی سید محمد نعیمُ الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیْ کی عقائد پر مشتمل مختصرتصنیف ’’کتابُ العقائد‘‘ اور مفتی خلیل خان برکاتی عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کی تصنیف ’’ہمارا اسلام‘‘ اور صدرُ الشریعہ بدرُ الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’بہارِ شریعت حصہ اول و نہم‘‘سے  استفادہ کیا گیا ہےعلاوہ اَزیں جاءَ الحق اوردارُ الافتاء  اہلسنت سے  جاری ہونے  والے  فتاوی  سے  بھی مدد لی گئی  ہے  خاص بات یہ کہ اس میں عوامُ الناس کی  ذہنی سطح  کا خیال رکھتے  ہوئے  سوال و جواب کے  انداز میں کافی تسہیل سے  کام لیا گیا ہے  تاکہ عقائد کا بیان پڑھتے  ہوئے  عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے  ۔اسی طرح آسان و سَہل اُردو میں ’’معمولاتِ اہلسنّت‘‘ کو جوکہ بلاشبہ مستحسن و باعثِ خیر و برکت اعمال ہیں ان کے  متعلق پُرمغز معلومات کو دلائل و حوالہ جات کی روشنی میں ترتیب دیا گیا ہے  تاکہ لوگ معمولاتِ اہلِ سنت کو واضح دلائل کی روشنی میں بخوبی جان سکیں اور جائز و مستحسن بات کو غلط فہمی و کم علمی کی بناء پر ناجائز و حرام نہ کہیں۔اوراس طرح کے  بے  جا اعتراضات کرنے  والے  بہک جانے  والے  افراد کے  دامِ فریب میں نہ آئیں اسکولوں اور کالجوں کے  طالب علموں کے  لئے  بھی یہ کتاب کافی مفید ثابت ہوگی بشرطیکہ ان بنیادی باتوں کو توجہ سے  پڑھیں اور ان ضروری عقائد کو سمجھ کر ذہن نشین کریں بلکہ میں تو کہوں گا کہ اگر اسے  اسکولوں ا ور کالجوں کے  نصاب میں شامل کرلیا جائے  تو  اس سمت سے  بھی مسلمانوں کی بڑے  پیمانے  پر خیر خواہی ہوگی اللّٰہ تعالیٰ اسے  قبولِ عام نصیب کرے  اور مجھے  اخلاص کی دولت کے  ساتھ باقیات صالحات کی  خوب کثرت کی توفیق عطا فرمائے ۔

ابوالحسن فضیل رضا القادری العطاری عَفَا عَنْہُ الْبَارِی

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

مسواک کی فضیلت

حضرتِ سیِّدُنا ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے  روایت ہے ، نبی مکرم، نورِ مجسم، رسولِ اکرم، شہنشاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ برکت نشان ہے :

اَلسَّوَاکُ مُطْہَرَۃٌ لِّلْفَہْمِ مَرْضَاۃٌ لِّلْرَبِّ

یعنی مسواک منہ کی پاکیزگی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خوشنودی کا سبب ہے ۔

(سنن ابن ماجہ، ص۲۴۹۵، حدیث :  ۲۸۹)

 (حصّۂ اوّل) بُنیادی عقائد

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ذات و صفاتِ باری تعالی

سوال : کیا دنیا ہمیشہ سے  ہے ؟

جواب : جی نہیں۔

سوال : کیا دنیا ہمیشہ رہے  گی؟

جواب : نہیں، کیونکہ یہاں کی ہر چیز کیلئے  ایک عمر ہے  ۔پہلے  وہ پیدا ہوتی ہے  اور جب تک اس کی عمر ہے  باقی رہتی ہے  ، پھر فنا ہو جاتی ہے ۔

سوال : دنیا کی چیزیں پیدا اور فنا کرنے  والا کون ہے ؟

 



Total Pages: 50

Go To