Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

۔ان کے  اوپر بھی آگ ہوگی نیچے  بھی آگ  ۔داہنے  بھی آگ بائیں بھی آگ ۔آگ کے  سمندر میں ڈوبے  ہوں گے  ۔کھانا آگ اور پینا آگ ، پہنا وا آگ اور بچھونا آگ، ہر طرح آگ ہی آگ، اس پر گُرزوں کی مار اور بھاری بیڑیوں کا بوجھ  ۔آگ انہیں اس طرح کھولائے  گی جس طرح ہانڈیا ں کھولتی ہیں ، وہ شور مچائیں گے  ان کے  سروں پر سے  کھولتا پانی ڈالا جائے  گا جس سے  ان کے  پیٹ کی آنتیں او ربدنوں کی کھالیں پگھل جائیں گی، لوہے  کے  گُرز مارے  جائیں گے  جس سے  پیشانیاں پچک جائیں گی، مونہوں سے  پیپ جاری ہوگی ، پیاس سے  جِگرکَٹ جائیں گے ، آنکھوں کے  ڈھیلے  بہہ کر رُخساروں پر آپڑیں گے ، رُخساروں کے  گوشت گِر جائیں گے ، ہاتھ پاؤں کے  بال اور کھال گِر جائیں گے  اور نہ مریں گے ، چہرے  جَل بُھن کر سیاہ کوئلے  ہو جائیں گے ، آنکھیں اندھی اور زبانیں گونگی ہو جائیں گی، پیٹھ ٹیڑھی ہو جائے  گی، ناکیں اور کان کٹ جائیں گے ، کھال پارہ پارہ ہو جائے  گی، ہاتھ گردن سے  ملا کر باندھ دئیے  جائیں گے  او رپاؤں پیشانی سے  ، آگ پر منہ کے  بَل چلائے  جائیں گے  اور لوہے  کے  کانٹوں پر آنکھ کے  ڈھیلوں سے  راہ چلیں گے ، آگ کی لپٹ بدن کے  اندر سَرایَت کر جائے  گی اور دوزخ کے  سانپ بچھو بدن پر لپٹے ، ڈستے ، کاٹتے  ہوں گے ۔

سوال :  جُبِّ حُزن کیاہے  ؟

جواب : جہنم میں ایک وادی ہے  جس سے  جہنم بھی روزانہ ستّر ہزار بار پناہ مانگتا ہے ، حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمنے ’’جُبِّ حُزن‘‘سے  پناہ مانگنے  کا حکم فرمایا ہے ۔ اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے  غضب و عذاب سے  پناہ دے  اور ہمیں اور سب مسلمانوں کو اپنے  عفو و کرم سے  بخشے ۔آمین۔([1])

سوال : جب تمام جنّتی جنّت میں پہنچ جائیں گے  اور دوزخ میں فقط وہی لوگ رہ جائیں گے  جن کو ہمیشہ وہاں رہنا ہے ، پھر کیاہو گا؟

جواب : اس وقت جنّت اور دوزخ کے  درمیان مینڈھے  کی شکل میں موت لائی جائے  گی اور تمام جنّتیوں اور دوزخیوں کو دکھا کر ذبح کر دی جائے  گی اور فرما دیا جائے  گا کہ اے  اہلِ جنّت!تمہارے  لئے  ہمیشہ ہمیشہ جنّت اور اس کی نعمتیں ہیں اور اے  اہلِ دوزخ!تمہارے لئے  ہمیشہ عذاب ہے  موت ذبح کر دی گئی اب ہمیشہ کی زندگی ہے  ، ہلاک و فنا نہیں ۔اس وقت اہلِ جنّت کے  فرح و سُرورکی انتہانہ ہوگی اسی طرح دوزخیوں کے  رَنج و غم کی۔

سوال : حضرت مالک عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کون ہیں؟

جواب : یہ داروغۂ جہنم یعنی دوزخ کے  نگران ہیں۔

سوال : جہنم تو عذاب کی جگہ ہے  پھر اس میں فرشتے  کیسے  آسکتے  ہیں؟

جواب : فرشتے  اس میں عذا ب  سہنے  کے  لئے  نہیں بلکہ عذاب دینے  کے  لئے  ہوں گے  جیسے  جیل میں پولیس کے  سپاہی اور جیلر ہوتے  ہیں۔

سوال : جہنم میں آگ کی گرمی کا عذا ب سنا ہے  تو کیا سردی کا بھی عذاب ہوگا؟

جواب :  جی ہاں، جہاں آگ سے  قریب ہونے  کی وجہ سے  گرمی کا عذاب ہوگا وہیں اس سے  دوری کی وجہ سے  سردی کا عذاب ہوگا۔

سوال : جہنمی کے  لیے  سب سے  ہلکا عذا ب کیا ہوگا؟

جواب : جہنم میں سب سے  ہلکا عذاب جس کو ہوگا اس کو آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی جس سے  اس کا دماغ کھولے  گا اور وہ سمجھے  گا کہ سب سے  زیا دہ اسی کو عذاب ہورہا ہے  حالانکہ اسے  سب سے  کم عذاب ہورہا ہوگا۔

سوال :  اگر کوئی حساب اور جنّت ودوزخ کا انکار کرے  ، اس کے  بارے  میں کیا کہیں گے ؟

جواب : حساب اور جنّت و دوزخ حق ہیں ، ان کا انکار کرنے  والا کافرہے ۔([2])

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

ایمان کا بیان

سوال : ایمان کسے  کہتے  ہیں؟

جواب : وہ تمام اُمور جو حضور نبی کریمصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے  لائے  اور جن کے  بارے  یقینی  طور پرمعلوم ہے  کہ یہ دینِ مصطفے ٰصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم سے  ہیں ان سب کی سچے  دل سے  قطعی تصدیق کرنا ’’ایمان‘‘ کہلاتاہے  جیسے  اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت ، تمام انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی نبوّت، حضور نبی کریم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کاخاتَمُ النّبیین ہونا یعنی یہ اعتقاد کہ حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمسب میں آخری نبی ہیں، حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے  بعد کسی کو نبوّت نہیں مل سکتی ، اسی



[1]    کتاب العقائد،  ص۴۱،  ملخصاً   

[2]    بہار شریعت،  حصہ۱،  ۱/ ۱۵۰



Total Pages: 50

Go To