Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

کی حوروں اورجنّتیوں کے  پاس گردِش کر رہے  ہوں گے ۔

سوال : جنّت میں اور کیا چیزیں ہونگی؟

    جواب : اس کا مختصر سا بیان یہ ہے  کہ جنّت میں صاف، شفّاف، چمکدار سفید موتی کے  بڑے  بڑے  خیمے  نصب ہیں ان میں رنگا رنگ، عجیب و غریب، نفیس فرش ہیں ان پر یاقوتِ سُرخ کے  منبر ہیں ۔شہد و شراب کی نہریں جاری ہیں ان کے  کناروں پر مُرَصَّع یعنی نگینے  جڑے  تَخْت بچھے  ہیں  ۔جنّت کے  باغات کے  درمیان یاقوت کے  قُصور و محلّات بنائے  گئے  ہیں ان میں یہ حوریں جلوہ گر ہیں ۔پروردگارِ کریم کی طرف سے  ہرگھڑی انواع و اقسام کے  تحفے  اور ہدیئے  پہنچتے  ہیں ۔ہمیشہ کی زندگی عطا کی گئی  ۔ہر خواہش بلاتاخیر پوری ہوتی ہے  ۔دل میں جس چیز کا خیال آیا وہ فوراً حاضر۔کسی قسم کا خوف و غم نہیں ۔ہر ساعت ہر آن نعمتوں میں ہیں ۔جنّتی نفیس و لذیذغذائیں، لطیف میوے  کھاتے  ہیں ۔بِہِشْتی نہروں سے  دودھ شراب شہد وغیرہ پیتے  ہیں ۔ان نہروں کی زمین چاندی کی، سنگریزے  جواہرات کے ، مٹّی خالص مشک کی، سبزہ زَعفران   کا ہے  ۔ان نہروں سے  نورانی پیالے  بھر کر وہ جام پیش کرتے  ہیں جن سے  آفتاب شرمائے ۔

سوال : کیا جنّتی جنّت  میں ہمیشہ رہیں گے ؟

جواب : جی ہاں!ایک مُنادی اہلِ جنّت کو ندا کرے  گا اے  بہشت والو ! تمہارے  لئے  صحّت ہے  کبھی بیمار نہ ہوگے ۔تمہارے  لئے  حیات ہے  کبھی نہ مرو گے  ۔تمہارے  لئے  جوانی ہے  بوڑھے  نہ ہوگے  ۔تمہارے  لئے  نعمتیں ہیں کبھی محتاج نہ ہوگے ۔

سوال : جنّت میں جنّتیوں کے  لیے  سب سے  بڑی نعمت کیا ہوگی؟

جواب : تمام نعمتوں سے  بڑھ کر سب سے  پیاری دولت حضرت ربُّ العزّت جَلَّ جَلَا لُہٗ  کا دیدار ہے  جس سے  اہلِ جنّت کی آنکھیں مستفید ہوتی رہیں گی ۔اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں بھی میسّر فرمائے۔آمین ثُمَّ آمین۔

سوال : سب سے  کم درجہ کے  جنّتی کو کیاملے  گا؟

جواب : سب سے  کم درجے  والے  جنّتی کو بھی باغات ، تَخْت، حوریں اورخُدّام ملیں گے ۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

دوزخ کا بیان

سوال : دوزخ کیاہے  ؟

جواب : یہ ایک مکان ہے  جو ظالموں، سرکشوں کے  عذاب کیلئے  بنایا گیا ہے  اس میں سخت اندھیرا اور تیز آگ ہے ۔اس میں ستّر ہزار وادیاں ہیں، ہر وادی میں ستّر ہزار گھاٹیاں ، ہر گھاٹی میں ستّر ہزار اَژدہے  بہت بڑے  سانپ اور ستّر ہزار بچھوہیں ۔ہرکافر و منافق کو ان گھاٹیوں میں  ضرورپہنچنا ہے ۔

سوال : حساب و کتاب کے  بعد لوگوں پر کیا مصیبت طاری ہوگی؟

جواب : قیامت کی مصیبتیں جھیل کر ابھی لوگ اس کی تکلیف اور خوف میں مبتلا ہوں گے  کہ اچانک ان کو اندھیریاں گھیر لیں گی اور لپٹ مارنے  والی آگ ان پر چھا جائے  گی اور اس کے  غیظ و غضب کی آواز سننے  میں آئے  گی۔اس وقت بدکاروں کو عذاب کا یقین ہوگا اور لوگ گھٹنوں کے  بَل گر پڑیں گے  اور فرشتے  نِدا کریں گے  کہاں ہے  فلاں فلاں کا بیٹا !جس نے  دنیا  میں لمبی اُمّیدیں باندھ کر اپنی زندگی کو بدکاری میں ضائع کیا۔اب یہ ملائکہ ان لوگوں کو آہنی گُرزوں یعنی لوہے  کے  ہتھوڑوں سے  ہنکاتے  دوزخ میں لے  جائیں گے  ۔

سوال : جہنم میں کافروں کی کیاحالت ہوگی؟

جواب :  کافر اس میں ہمیشہ قید رکھے  جائیں گے  او رآگ کی تیزی ان پر دَم بَہ دَم زیادتی  کرے  گی، پینے  کو انہیں گرم پانی ملے  گا اور اس قدر گرم کہ جس سے  منہ پھٹ جائے  اور اوپر کا ہونٹ سکڑ کر آدھے  سر تک پہنچے  اور نیچے  کا پھٹ کر لٹک آئے ، ان کا ٹھکانہ جَحِیْم (دوزخ کاایک طبقہ)ہے  ، ملائکہ ان کو ماریں گے ۔وہ خواہش کریں گےکہ کسی طرح وہ ہلاک ہو جائیں اور ان کی رہائی کی کوئی صورت نہ ہوگی،  قدم پیشانیوں سے  ملا کر باندھ دئیے  جائیں گے  ، گناہوں کی سیاہی سے  منہ کالے  ہوں گے ، جہنم کے  اطراف و جوانب شور مچاتے  اور فریاد کرتے  ہوں گے  کہ اے  مالک عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام!عذاب کا وعدہ ہم پر پورا ہو چکا ہے ۔اے  مالک عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام!لوہے  کے  بوجھ نے  ہمیں چکنا چور کر دیا  ۔اے  مالک عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام!ہمارے  بدنوں کی کھالیں جَل گئیں ۔اے  مالک عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام!ہم کواس دوزخ سے  نکال۔ہم پھر ایسی نافرمانی نہ کریں گے  ۔فرشتے  کہیں گے  دور ہو !اب امن نہیں اور اس ذِلّت کے  گھر سے  رہائی نہ ملے  گی اسی میں ذلیل پڑے  رہو اور ہم سے  بات نہ کرو ۔اس وقت ان کی اُمّیدیں ٹوٹ جائیں گی اور دنیا میں جو کچھ سرکشی وہ کر چکے  ہیں اس پر افسوس کریں گے  لیکن اس وقت عُذر و ندامت کچھ کام نہ آئے  گا، افسوس کچھ فائدہ نہ دے  گا بلکہ وہ ہاتھ پاؤں باند ھ کر چہروں کے  بَل آگ میں دھکیل دئیے  جائیں گے 



Total Pages: 50

Go To