Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

جواب : اس کی قبرکُشادہ اور روشن کر دی جاتی ہے  ۔آسمان سے  منادِی پکارتا ہے  میرے  بندے  نے  سچ کہا، اس کیلئے  جنّتی فرش بچھاؤ ، جنّتی لباس پہناؤ، جنّت کی طرف دروازے  کھولو ۔چنانچہ دروازے  کھول دیئے  جاتے  ہیں جس سے  جنّت کی ہوا اور خوشبو آتی رہتی ہے  اور فرشتے  اس سے  کہتے  ہیں کہ اب تو آرام کر۔

سوال : کافر سے  قبر میں کیا سلوک کیا جائے  گا؟

جواب کافر ان سوالوں کاجواب نہیں دے  سکتا ، ہرسوال کے  جواب میں کہتا ہے :  میں نہیں جانتا ۔آسمان سے  ندا کرنے  والا ندا کرتا ہے  کہ یہ جھوٹا ہے ، اس کیلئے  آگ کا بچھونا بچھاؤ، آگ کا لباس پہناؤ اور دوزخ کی طرف کا دروازہ کھول دو۔چنانچہ  دروازہ کھول دیا جاتا ہے  تو اس سے  دوزخ کی گرمی اور لپٹ آتی ہے  پھر اس پر فرشتے  مقرر کر دیئے  جاتے  ہیں جو لوہے  کے  بڑے  بڑے  گُرزوں یعنی ہتھوڑوں  سے  مارتے  ہیں اور عذاب کرتے  ہیں۔

سوال : کیا قبر ہر مُردے  کو دباتی ہے ؟ 

جواب : انبیاءِ کرام عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کے  سوا قبر سب مسلمانوں کو بھی دباتی ہے  اور کافروں کو بھی لیکن مسلمانوں کو دبانا شفقت کے  ساتھ ہوتا ہے  جیسے  ماں بچّہ کو سینہ سے  لگا کر چپٹائے  اور کافر کو سختی سے  یہاں تک کہ پسلیاں اِدھر سے  اُدھر ہو جاتی ہیں ۔

سوال : کیا کچھ لوگ ایسے  بھی ہیں جن سے  قبرمیں سوال نہیں ہوتا؟

جواب : ہاں ۔جن کو حدیث شریف میں مستثنیٰ کیا گیا ہے  جیسے  انبیاء عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام اور جمعۃُ المبارک اور رمضانُ المبارک میں مرنے  والے  مسلمان۔

سوال : قبر میں عذاب فقط کافر پر ہوتا ہے  یا مسلمان پر بھی؟

جواب : کافر تو عذاب ہی میں رہیں گے  اور بعض گنہگار مسلمانوں پر بھی عذاب ہوتا ہے  ۔مسلمانوں کے  صدقات ، دعا ، تلاوتِ قرآن اور دوسرے  ثواب پہنچانے  کے  طریقوں سے  اس میں تخفیف یعنی کمی ہو جاتی ہے  اوراللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے  کرم سے  اس عذاب کو اٹھا دیتا ہے۔بعض کے  نزدیک مسلمان پر سے  قبر کا عذاب جمعہ کی رات آتے  ہی اٹھا دیا جاتا ہے ۔

سوال : جو مُردے  دفن نہیں کئے  جاتے  ان سے  بھی سوال ہوتا ہے ؟

جواب : جی ہاں۔ خواہ دفن کیا جائے  یا نہ کیا جائے  یا اسے  کوئی جانور کھاجائے  ، ہر حال میں اس سے  سوال ہوتا ہے  اور اگر قابلِ عذاب ہے  تو عذاب بھی  ہوتا ہے ۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭   

قیامت اور اس کی نشانیاں

سوال : قیامت کسے  کہتے  ہیں ؟

جواب : جیسے  ہر چیز کی ایک عُمر مُقَرَّرہے  اس کے  پورے  ہونے  کے  بعد وہ چیز فنا ہو جاتی ہے ۔ایسے  ہی دنیا کی بھی ایک عُمر اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کے  عِلم میں مُقَرَّرہے  ۔اس کے  پورا ہونے  کے  بعددنیا فنا ہو جائے  گی ۔زمین و آسمان، آدمی، جانور کوئی بھی باقی نہ رہے  گا ۔اس کو ’’قیامت‘‘کہتے  ہیں جیسے  آدمی کے  مرنے  سے  پہلے  بیماری کی شدّت، جان نکلنے  کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔ایسے  ہی قیامت سے  پہلے  اس کی نشانیاں ہیں۔

سوال : قیامت آنے  سے  پہلے  اس کی کیاکیا علامات ظاہر ہوں گی؟

جواب : قیامت کے  آنے  سے  پہلے  دنیا سے  عِلم اُٹھ جائے  گا، عالِم باقی نہ رہیں گے ، جہالت پھیل جائے  گی، بدکاری اور بے  حیائی زیادہ ہوگی، عورتوں کی تعداد  مَردوں سے  بڑھ جائے  گی ۔بڑے  دَجّال کے  سوا تیس دَجّال اور ہوں گے ، ہر ایک ان میں سے  نبوّت کا دعویٰ کرے  گا باوجودیہ کہ حضور پُرنور سیِّدُ الانبیاء صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمپر نبوّت ختم ہو چکی ۔ان میں سے  بعض دجّال تو گزر چکے  جیسے  مسیلمہ کذّاب، اسود عنسی، مرزا علی محمد باب، مرزا علی حسین بہاء اللّٰہ، مرزا غلام احمد قادیانی، بعض اور باقی ہیں وہ بھی ضرور ہوں گے ، مال کی کثرت ہوگی، عرب میں کھیتی، باغ ، نہریں ہو جائیں گی، دین پر قائم رہنا مشکل ہوگا ۔وقت بہت جلد گزرے  گا، زکوٰۃ دینا لوگوں کو دشوارہوگا، عِلم کو لوگ دنیا کیلئے  پڑھیں گے  ، مَرد عورتوں کی اطاعت کریں گے  ۔ماں باپ کی نافرمانی زیادہ ہوگی، شراب نوشی عام ہو جائے  گی، نااہل سردار بنائے  جائیں گے ، نہرِ فرات سے  سونے  کا خزانہ کھلے  گا ۔زمین اپنے  اندر دفن شدہخزانے  اُگل دے  گی، امانت غنیمت یعنی مفت کامال سمجھی جائے  گی، مسجدوں میں شور مچیں گے ، فاسق سرداری کریں گے ، فتنہ انگیزوں کی عزّت کی جائے  گی، گانے  باجے  کی کثرت ہوگی ۔پہلے  بزرگوں کو لوگ بُرا بھلا کہیں گے ، کوڑے  کی نوک اور جوتے  کے  تسمے  باتیں کریں گے ، دَجّال اور دَابَّۃُ الارض اور یاجُوج ماجُوج نکلیں گے  ۔حضرت امام مہدی  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ظاہر ہوں گے ، حضرت عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام آسمان سے  اُتریں گے ، سورج مغرب سے  طلوع ہوگا اور توبہ کا دروازہ بند ہو جائے  گا۔

سوال : دَجّال کس کو کہتے  ہیں، اس کے  نکلنے  کا حال بیان فرمائیے ؟

 



Total Pages: 50

Go To