Book Name:Rah e Khuda عزوجل Main Kharch Karnay Kay Fazail

          في رؤیۃ النبي صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  رب عَزَّ وَجَلَّ  و وضعہ تعالٰی کفہ کما یلیق بجلالہ العظیم بین کتفیہ صلی اللہ  تعالٰی علیہ و سلم فتجلّی لي کل شيء و عرفت‘‘ و في روایۃ ’’فعلمت ما في السمٰوٰت و الأرض‘‘ و في أخرٰی ’’ما بین المشرق و المغرب‘‘  و قد ذکرناہ مع تفاصیل طرقہ و تنو ع ألفاظہ في کتابنا المبارک إن شاء اللہ تعالٰی سلطنۃ المصطفٰی في ملکوت کلالورٰی و الحمد للہ ما أولٰی([1])۔   

مرقاۃ شریف میں    ہے  :

        ’’إطعام الطعام أي إعطاء ہ للأنام من الخاص و العام‘‘([2])۔

حدیث۴۷  :کہ فرماتے ہیں    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  :

          ’’الکفارات إطعام الطعام و إفشاء السلام و الصلاۃ باللیل و الناس نیام‘‘۔  رواہ الحاکم وصحح سند ہ  عن أبي ھریرۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ([3])۔

حدیث ۴۸:   کہ فرماتے ہیں    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  :

            ’’من أطعم أخاہ حتی یشبعہ وسقاہ من الماء حتی یرویہ باعد اللہ من النار سبع خنادق ما بین کل خندقین مسیرۃ خمس مائۃ عام‘‘ رواہ الطبراني في الکبیر و أبو الشیخ في الثواب و الحاکم مصححا سند ہ و البیھقي عن ابن عمر رضي اللہ تعالٰی عنھما([4])۔

حدیث ۴۹:    کہ فرماتے ہیں    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  :

            ’’إن اللہ عَزَّ وَجَلَّ  یباھي ملٰئکتہ بالذین یطعمون الطعام من عبیدہ‘‘۔  رواہ أبو الشیخ عن الحسن البصري مرسلاً([5])۔

حدیث ۵۰ ،۵۱: کہ فرماتے ہیں    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  :

          ’’الخیر أسر ع إلی البیت الذي یوکل فیہ من الشفرۃ إلٰی سنام البعیر‘‘۔  رواہ ابن ماجۃ عن ابن عباس و ابن أبي الدنیا عن أنس رضي اللہ تعالٰی



[1]    ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے یہاں   درجہ بلند کرنے والے ہیں   ، سلام کا پھیلانا اورہر طرح کے لوگوں   کو کھاناکھلانا اور رات کو لوگوں   کے سوتے میں   نماز ادا کرنا‘‘یہ حدیث جلیل ، نفیس ، جمیل ، مشہور ، مستفید ، مفید ، مفیض کا ایک ٹکڑا ہے ۔ روایت کیا اسے امام الائمہ ابو حنیفہ اورا مام احمد اور عبدالرزاق نے اپنی مصنّف میں   اورترمذی و   طبرانی نے ابن عباس سے [سنن الترمذي ، کتاب التفسیر ،  باب و من سورۃ (ص) ، ج۵ ، ص۱۵۹ ، رقم الحدیث۳۲۴۴ ، دارالفکر  ، بیروت] ، احمد  و   ترمذی   و   طبرانی اور  ابن مردویہ نے معاذ بن جبل سے[سنن الترمذي ، کتاب التفسیر ،  باب و من سورۃ(ص) ، ج۵ ، ص۱۶۰ ، رقم الحدیث۳۲۴۶ ، دارالفکر ،  بیروت ،  إن ھذہ الروایۃ بالمعنی و اللفظ غیرھا] ، ابن خزیمہ و  دارمی و  بغوی و  ابن سکن و  ابو نعیم اور   ابن بسطہ نے عبدالرحمن بن عایش سے ، اور احمدوطبرانی نے انہی سے اور انہوں   نے ایک صحابی سے[المسند للإمام أحمد بن حنبل ،  باب حدیث بعض أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم  ، ج۹ ، ص۶۶ ، رقم الحدیث۲۳۲۷۰ ،  دار الفکر  ،  بیروت]اوربزار نے ابن عمراور ثوبان سے [مجمع الزوائد ، کتاب التعبیر ،  باب فیما رآہ النبي صلی اللہ علیہ وسلم في المنام ، ج۷ ، ص۳۶۸ ، ۳۶۹ ، دار الفکر ،  بیروت ، بتغیرقلیل]اورطبرانی نے ابو   امامہ سے [ المعجم الکبیر  ،  عن أبي أمامۃ ، ج۸ ، ص۳۴۹ ، رقم الحدیث ۸۱۱۷ ، المکتبۃ الفیصلیۃ ،  بیروت] اور   ابن قانع نے ابو عبیدہ بن جراح [العلل المتناھیۃ  ،  باب في ذکر الصورۃ  ، ج۱ ، ص۳۱ ، رقم الحدیث۱۰ ، دار الکتب العلمیۃ  ،  بیروت]اور   دارقطنی اور  ابوبکر نیشاپوری نے زیادات میں   حضرت انس سے [کنزالعمال  ، کتاب المواعظ ،  فصل في الموعظۃ المخصوصۃ ، ج ۱۶ ، ص۱۰۲ ، رقم الحدیث۴۴۳۱۴ ، دار الکتب العلمیۃ  ،  بیروت]اور   ابو   الفرج نے علل میں   حضرت ابوہریرہ سے تعلیقاً[العلل المتناھیۃ  ،  باب في ذکر الصورۃ  ، ج۱ ، ص۳۴ ، دار الکتب العلمیۃ  ،  بیروت[ اورابن ابی شیبہ نےمرسلاً حضرت عبدالرحمن بن سابط رضیَ اللہُ تَعَالٰی عنہم سے[ابن أبي شیبۃ]حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی اللہ تعالیٰ کے دیدار  والی روایت ، جس میں   ہے کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے اپنی شایا نِ شا ن کف ِمبارک کو حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے کندھوں   کے درمیان رکھا( حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام فرماتے ہیں  ) ’’تو میرے لئے ہر چیز روشن ہوگئی اورمیں   نے پہچان لی ‘‘[العلیل المتناھیۃ  ،  باب في ذکر الصورۃ  ، ج۱ ، ص۳۳ ، رقم الحدیث ۱۳ ، دار الکتب العلمیۃ  ،  بیروت]دوسری روایت میں   ہے ’’ میں   نے معلوم کرلی جو چیز بھی زمین و   آسمان میں   ہے ‘‘ [مجمع الزوائد ، کتاب التعبیر ،  باب فیما رآہ النبي صلی اللہ علیہ وسلم في المنام  ، ج۷ ، ص۳۶۷ ، رقم الحدیث۱۱۷۳۹ ، دار الفکر ،  بیروت ] اورایک روایت میں   ہے ’’ مشرق ومغرب میں   جو کچھ ہے ‘‘ [سنن الترمذي  ، کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ (ص) ، ج۵ ، ص۱۵۹ ، رقم الحدیث۳۲۴۵ ، دار الفکر ،  بیروت] اورہم نے اس حدیث کو   اس کے طُرق کی تفصیل اور اختلافِ الفاظ کو   اپنی مبارک کتاب ’’سلطنت مصطفی فی ملکوت کل الورٰ ی‘‘ میں   ذکر کردیا ہے ، الحمد للہ۔

[2]    ’’ کھانا کھلانا یعنی ہر خاص وعام کو کھانا دینا مراد ہے [مرقاۃ المفاتیح  ، کتاب الصلاۃ  ،  باب المسجد ، الفصل الثانی ، ج۲ ، ص۴۳۲ ، رقم الحدیث۷۲۶ ، دارالمعرفۃ  ،  بیروت]

[3]    ’’ کھانا کھلانا اورسلام کو پھیلانا اور شب کو   لوگوں   کے سوتے میں   نماز پڑھنا ، گناہ مٹانے والے ہیں  ‘‘ اسے حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔

 [المستدرک للحاکم  ، کتاب الأطعمہ  ،  باب إطعام الطعام  ، ج۵ ، ص۱۷۹ ، رقم الحدیث۷۲۵۵ ، دارالمعرفۃ  ،  بیروت]

[4]    ’’جو   اپنے مسلمان بھائی کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے ، پیاس بھرپانی پلائے ، اللہ تعالیٰ اسے دوزخ سے سات کھائیاں   دُور کردے۔ ہردو کھائیوں   کے درمیان پانچ سو برس کی راہ ہو‘‘۔ اسے طبرانی نے کبیر میں   اور   ا بو   الشیخ نے ثواب میں   اورحاکم نے صحیح سند کے ساتھ اوربیہقی نے ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کیا

[الترغیب و الترھیب  ،  کتاب الصدقات ،  الترغیب في إطعام الطعام و سقی الماء الخ ، ج۲ ، ص۳۶ ، رقم الحدیث۱۴ ، دار الکتب العلمیۃ  ،  بیروت]

[5]    ’’ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں   کے ساتھ مباہات فرماتاہے اپنے ان بندوں  کے بارے میں  ، جلوگوں   کو کھانا کھلاتے ہیں   ‘‘۔ اسے ابو  الشیخ نے حسن بصری سے مرسلاً روایت کیا

[الترغیب و الترھیب  ،  کتاب الصدقات ،  الترغیب في إطعام الطعام و سقی الماء الخ ، ج۲ ، ص۳۸ ، رقم الحدیث۲۱ ، دار الکتب العلمیۃ  ،  بیروت]

 



Total Pages: 17

Go To