Book Name:Rah e Khuda عزوجل Main Kharch Karnay Kay Fazail

           قال اللہ تعالٰی:

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًاؕ- ([1])۔

تم پر کچھ گناہ نہیں    کہ کھاؤ مل کر یا الگ الگ۔

تو بے منع شرعی ، ارتکا بِ ممانعت ، جہالت وجرأت ([2])۔ وأناأقول وباللہ التوفیق([3])نظر کیجئے تو یہ عمل چند دواؤں    کا نسخہ جامعہ([4])ہے کہ اس سے مساکین ([5])و  فقراء بھی کھائیں    گے ، علماء و صلحاء ([6]) بھی ، عزیز و  رشتہ دار بھی ، قریب و  اہل جوار([7])بھی ، تو اس میں    بعددِ  ابواب ِجنت([8])آٹھ خوبیاں    ہیں :

i ۔ فضیلتِ صدقہ               ii۔ خدمتِ صلحاء            iii۔ صلۂ رحم([9])

iv۔ مواساۃ ِ جار ([10])     v ۔ سلوکِ نیک سے مسلمانوں   ، خصوصاً غرباء کا دل خوش کرنا vi۔ ان کی مرغوب چیزیں   ، ان کے لئے مہیا کرنا۔

vii۔ مسلمان بھائیوں    کو کھانا دینا         viii۔ مسلمانوں    کا کھانے پر مجتمع([11])  ہونا

          اور ان سب امور کو ، جب بہ نیتِ صالحہ([12])ہوں   ، باذن اللہ تعالٰی رضائے خدا ، عفوِ خطا  و  دفعِ بلا میں    دخل تام ہے ([13])۔ ظاہر ہے کہ قحط ، وبا ، ہر مصیبت و بلا گناہوں   کے سبب آتی ہے ۔

          قال اللہ تعالٰی: وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰) ([14])۔

          تو اسبابِ مغفرت و   رضا و   رحمت بلا شبہ اس کے عمدہ علاج ہیں  ۔

          اب بتوفیق اللہ تعالٰی ([15]) احادیث سُنیے  :

حدیث ۱  : حضور  پُرنور سیدالمرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں   :

          ’’ إن الصدقۃ لتطفیء غضب الرب و تدفع میتۃ السوء ‘‘۔  رواہ الترمذي و حسّنہ و ابن حبان في صحیحہ عن أنس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ([16])۔

حدیث ۲  : کہ فرماتے ہیں    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :

 



   [1] پ۱۸ ، النور : ۶۱ 

   [2] بغیر کسی و   جہ شرعی کے منع کرنا کم علمی وبے باکی ہے ۔

   [3] میں  (یعنی احمد رضا خان )اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی توفیق کے ساتھ کہتاہوں  ۔          

   [4] مکمل نسخہ

   [5] مسکین کی جمع ، امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلا ل محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ’’رسائل عطاریہ حصہ اول ‘‘ میں   مسکین کی شرعی تعریف بیان فرماتے ہیں   کہ مسکین وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یہاں   تک کہ کھانے اوربدن چھپانے کے لئے اس کا محتاج ہے کہ لوگوں   سے سوال کرے اور اسے سوال حلال ہے۔ تفصیل بہار شریعت حصہ پنجم سے ملاحظہ فرمائیں  ۔ (رسائل عطاریہ حصہ اول ، ص ۱۲۸ ، مکتبۃ المدینہ ، باب المدینہ کراچی )

   [6] علماء ، عالم کی جمع ہے یعنی علم والا ، عالم وہ ہے جو کسی دوسرے کی مدد کے بغیر درپیش مسائل کا حل تلاش کر سکے اور صلحاء ، صالح کی جمع ہے ، اس سے مرادنیک لوگ ہیں   ۔

   [7] پڑوس میں  رہنے والے

   [8] جنت کے دروازوں   کی تعداد کے برابر ،

   [9] رشتہ دار وں   سے ملنا جلنا ، تعلقات بحال رکھنا صلہ ٔ رحمی کہلاتا ہے احادیث میں   صلہ ٔرحمی کی بہت زیادہ تاکید آئی ہے۔           

   [10] پڑوسیوں   کی غمخواری

   [11] اکٹھا                

   [12] اچھی اورنیک نیّتی کے ساتھ

   [13] تواللہ تعالیٰ کے حکم سے رضائے الہٰی ، گناہوں   کی بخشش ومغفرت اور مصیبتوں   کے ٹلنے میں   مکمل دخل ہے۔

   [14] اللہ تعالٰی نے ارشادفرمایا : ’’ اورجومصیبت تمھیں   پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمھارے ہاتھوں   نے کمایا ، اوربہت کچھ تو معاف فرمادیتاہے ‘‘(پ۲۵ ، الشورٰی : ۳۰ ،  ترجمۂ کنز الایمان)

   [15] اللہ تعالیٰ کی توفیق سے

   [16] ’’بیشک صدقہ رب عَزَّ وَجَلَّ  کے غضب کو بجھاتا اوربُری موت کو دفع کرتا ہے ‘‘۔ اسے ترمذی اورابن حبان نے اپنی صحیح میں   انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ، ترمذی نے اسکو حسن قرار دیا[سنن الترمذي  ،  کتاب الزکاۃ  ،  باب ماجاء في الصدقۃ ، ج۲ ، ص۱۴۶ ، رقم الحدیث : ۶۶۴ ، دار الفکر ،  بیروت]



Total Pages: 17

Go To