Book Name:Rah e Khuda عزوجل Main Kharch Karnay Kay Fazail

عبدالرزاق العطاری المدنی اورمولانا یونس علی عطاری المدنی نے سرانجام دیا ہے تاکہ غلطی کا امکان کم سے کم ہو۔

          اَلْحَمْدُللہ عَزَّ وَجَلَّ  اراکینِ مجلس : ’’المد ینۃ العلمیۃ ‘‘ کی یہی کوشش رہی ہے کہ ایسی معیاری اوردیدہ زیب کتب آپکی خدمت میں    پیش کی جائیں    جو آپکے ذوقِ علمی کے عین مطابق ہوں    ۔ یہ سب ہمارے میٹھے میٹھے مرشدِ کریم شیخِ طریقت امیر اہلسنت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی مَدَّظِلُّہُ الْعَالِیْ کی نظرِ کرم و شفقت کا فیضان ہے۔  اَلْحَمْدُللہ عَزَّ وَجَلَّ  اس رسالے کے حاشیہ کا نام’’راہِ خدا میں    خرچ کرنے کے فضائل‘‘آپ مَدَّظِلُّہُ الْعَالِیْ ہی نے عطا فرمایا ہے۔

          اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں    اخلاص کی دولت سے مالامال کرتے ہوئے ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہِ بے کس پناہ میں    شرفِ قبولیت سے نوازے اورتادم آخر مسلکِ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے لیے خدمات انجام دیتے رہنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 

مجلس : ’’المد ینۃ العلمیۃ ‘‘ (شعبہ کتب اعلیٰ حضرت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)

۲۷ذیقعد ۱۴۲۵ھ

9 جنوری2005 ء

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم

مسئلہ

 از کانپور ، مدرسہ فیض عام ، مرسلہ مولوی احمد اللہ تلمیذ مولوی احمد حسن صاحب ۱۷ رَبیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ۔

            کیا فرماتے ہیں    علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں    کہ ہمارے دیار([1]) میں    اسطرح کا رواج ہے کہ کوئی بلا دمیں    ہیضہ ، چیچک و قحط سالی وغیرہ آجائے تو دفعِ بلا کے واسطے جمیع([2])محلہ والے مل کر فی سبیل اللہ اپنی اپنی حسبِ استطاعت چاول ، گیہوں    و پیسہ وغیرہ اٹھا کر کھانا پکاتے ہیں    اورمولویوں    اورمُلّاؤں    کو بھی دعوت کر کے ان لوگوں    کو بھی کھلاتے ہیں    اورجمیع محلہ دار بھی کھاتے ہیں   ، آیا اس صور ت میں    محلہ دار کوطعامِ مطبوخہ ([3])  کا کھانا جائز ہوگا یا نہ؟طعام ِ مطبوخہ کھانے کے لئے مانع وغیر مانع([4]) پر کیا حکم دیا جاتاہے ؟بینوا تؤجروا([5])۔

الجواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم

          الحمد للہ الذي وضع البرکۃ في جماعۃ الإخوان وقطع  الھلکۃ  بتواصل الأحباء والجیران و الصلاۃ والسلام علی صاحب الشفاعۃ مجیب الدعوۃ و محب الجماعۃ دافع البلاء و الوباء و القحط و المجاعۃ و علی اٰلہ و صحبہ وجماعۃ المسلمین و

علینا فیھم یا أرحم الراحمین اٰمین ،  اٰمین ،  اٰمین ،  یا ربنا اٰمین! ([6])

       فعلِ مذکور ، بقصۂ مسطور([7])اوراہلِ دعوت کو وہ کھاناکھانا شرعا ً جائز    و  رَوا([8]) ، جس کی ممانعت شرع مطہر میں    اصلا ً([9])  نہیں ،

 



   [1] شہر یا علاقہ ، یہاں   مراد بنگالہ ہے کہ یہ سوال کانپور میں   وہیں   سے آیا تھا اورکانپور سے جواب لکھنے کے لئے بریلی بھیجاگیا ۔

   [2] تمام

   [3] پکا ہوا کھانا

   [4] رکاوٹ ڈالنے والے اور نہ ڈالنے والے

   [5] بیان کر وتاکہ اجر دئیے جاؤ۔

   [6] تمام تعریفیں   اس ذات کے لئے جس نے بھائیوں   کے اجتماع میں   برکت فرمائی اوراہل محبت اورپڑسیوں   کی ملاقات و صلہ میں   مصیبت کو قطع فرمایا اورصلوٰۃ وسلام مالکِ شفاعت ، دعوت کو قبول ، جماعت سے محبت ، مصیبت و بلا اوربھوک اورقحط کو دفع کرنے والی ذات پر اوران کی آل و اصحاب اورمسلمانوں   کی جماعت اوران کے ساتھ ہم پر ، یا ارحم الراحمین ، آمین ، آمین ، آمین ، اے ہمارے رب قبول فرما!

   [7] مسئلہ کی سطور میں   ذکر کردہ طریقہ

   [8] صحیح   

   [9] بالکل



Total Pages: 17

Go To