Book Name:Takleef Na Dijiye

نیکی کر دریا میں ڈال

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِحسان جَتانے والا اس طرح کی باتیں کرکے خوش تو بہت ہوتا ہے لیکن اس کا انجام جان لے اور عبرت پکڑے تو کبھی کسی پر احسان نہ جتائے بلکہ ’’نیکی کر دریا میں ڈال ‘‘کے مقولے پر عمل پیرا ہوجائے ۔پارہ 3سورۂ  بقرہ کی آیت 264میں ارشادِ ربانی ہے :

لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ          (پ۳، البقرۃ : ۲۶۴)

ترجمہ کنزالایمان : اپنے صدقے باطل نہ کر دواحسان رکھ کر اور اِیذا دے کر۔

       صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی لکھتے ہیں : احسان رکھنا تو یہ ہے کہ دینے کے بعد دوسروں کے سامنے اِظہار کریں کہ ہم نے تیرے ساتھ ایسے ایسے سلوک کئے اور اس کو مکدّر (یعنی رنجیدہ وملول) کریں ۔(خزائن العرفان، پ۳، البقرۃ، زیرِ آیت : ۲۶۲)

 تفسیرخازِن میں ہے :  اِحسان جتانے کا مطلب یہ ہے کہ کسی پر احسان کرنے کے بعد اسے یوں کہا جائے کہ میں نے تمہیں فلاں فلاں چیز دی ہے اور سارے احسانات گنوا کر ان احسانات کا مزہ کرکرا کردے ۔ (خازن، پ : ۳، البقرۃ، تحت الآیۃ :  ۲۶۲، ۱/۲۰۶ )   

جنت میں نہیں جائے گا

        خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے :   اِحسان جتانے والا ، والدین کا نافرمان اور شراب کا عادی جنت میں نہیں جائے گا ۔    

 (نسائی، کتاب الاشربۃ، الروایۃ فی۔۔۔الخ، ص۸۹۵، حدیث :  ۵۶۸۳)

         مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :  یعنی یہ لوگ اَوَّلًا جنت میں جانے کے مستحق نہ ہوں گے ۔ خیال رہے کہ گناہ صغیرہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ بن جاتا ہے ۔ شراب خوری خود ہی سخت جرم ہے پھر اس پر ہمیشگی ڈبل جرم ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۵۳۰)

اِحسان جتانا کب بُرا ہے؟

        ایک اور مقام پر حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّانلکھتے ہیں : خیال رہے کہ بندے کا بندے کو احسان جتانا اگر طعنہ زنی کے لیے ہو تو بُرا ہے اگر مطیع (یعنی فرمانبردار)کرنے کے لئے ہو تو اچھا، اللّٰہ تعالٰی یا رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم نے بہت جگہ اپنی نعمتوں کے اِحسان جتائے ہیں تاکہ بندے اس کی اِطاعت کریں اس کا احسان مانیں یہ اسی کا کرم ہے، مَنَّان کے ایک معنٰے یہ بھی ہیں یعنی احسان جتانے والا۔ (مراۃ المناجیح ، ۳/۳۳۳)

احسان جتانے کی بنیاد

        امام غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالیلکھتے ہیں : احسان جتانے کی بنیاد یہ ہے کہ صدقہ دینے والا یہ سمجھے کہ میں نے اس پر اِنعام اور اِحسان کیاجبکہ حق یہ ہے کہ فقیرتو مُحسِن ہے کہ اس نے اس سے  اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  کا حق قبول کیا جو اس کے لئے طہارت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے کہ اگر وہ قبول نہ کرتا تو یہ اس کے سبب گِروی رہتا۔(احیاء علوم الدین ، کتاب اسرار الزکاۃ، بیان دقائق الآداب۔۔۔الخ، ۱/۲۹۱)

نقصان اُٹھانے والے تین افراد

        حضرت سیدنا ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  تین شخص وہ ہیں جن سے اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ   قیامت کے دن نہ تو کلام کرے گا نہ نظرِ رحمت فرمائے گا اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔حضرت سیدنا ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی :  وہ تو ٹوٹے اور خسارے ہی میں پڑ گئے، یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !وہ کون ہیں ؟ فرمایا :  تہبند لٹکانے والا، اِحسان جتانے والا اور جھوٹی قسم سے مال بیچنے والا۔

(مسلم، کتاب الایمان، باب بیان غلظ تحریم۔۔۔الخ، ص۶۷، حدیث : ۱۷۱)

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : کلام سے مراد محبت کا کلام ہے، دیکھنے سے مراد کرم کا دیکھنا ہے اور پاک فرمانے سے مراد گناہ بخشنا ہے یعنی دوسرے مسلمانوں پر یہ تینوں کرم ہوں گے مگر ان تین قسم کے لوگ ان تینوں عنایتوں سے محروم رہیں گے لہٰذا ان سے بچتے رہو۔(مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں : )یعنی جو فیشن کے لیے ٹخنوں سے نیچا پاجامہ تہبند استعمال کریں جیسے آجکل جاہل چودھریوں کا طریقہ ہے ا ور جو کسی کو کچھ صدقہ و خیرات دے کر ان کو طعنے دیں ، اِحسان جتائیں ، لوگوں میں انہیں بدنام کریں کہ فلاں آدمی ہمارا دستِ نگر رہ چکا ہے اور جو جھوٹی قسم کھا کر دھوکا دے کر مال فروخت کریں ۔(مراۃ المناجیح، ۴/۲۴۴)

 (حکایت : 6)

بھلائی نہیں رہتی

        حضرت سیدناامام ابنِ سِیرین علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ المُبین نے ایک شخص کو سنا کہ وہ دوسرے سے کہہ رہا تھا : ’’میں نے تیرے ساتھ بھلائی کی اور یہ کیا، وہ کیا۔‘‘ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس شخص سے فرمایا : ’’خاموش ہو جاؤ، جب نیکی کو شمار کیا جائے تو اس میں کوئی بھلائی نہیں رہتی۔‘‘(الجامع لاحکام القرآن، پ۳، البقرۃ، تحت الآیۃ : ۲۶۴، ۲/۲۳۶، جزء : ۳)

احسان کے بدلے میں دعا بھی طلب نہ کرتیں

        جو کسی پر احسان کرے اور اس بات کی تمنا کرے کہ سامنے والا احسان کے بوجھ تلے دب کر میرے سامنے جی جی کرتا رہے ، میری آؤ بھگت کرے ، میرا بندۂ بے دام بن کررہے تو ایسی توقعات رکھنے والا غلطی پر ہے ، ہمارے بزرگانِ دین جب کسی پر احسان کرتے تو جواباً دعا کے طلب گار بھی نہیں ہوتے تھے کہ کہیں یہ دعا ان کی نیکی کا بدلہ نہ ہوجائے اور اگر کوئی دعا دے بھی دیتا تو بدلے میں اس کے لئے دعا کردیا کرتے ، چنانچہ امام غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی لکھتے ہیں : اُمُّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ اور ام المومنین حضرت سیدتنا اُمِّ سلمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جب فقیر کی طرف کوئی ہدیہ بھیجتیں تو لے جانے والے سے کہتیں کہ اس کے دعائیہ کلمات کو یاد رکھے ، پھر اس جیسے کلمات کے ساتھ جواب دیتیں اور فرماتیں : دعا کے بدلے اس لئے دعا دی ہے تاکہ ہمارا



Total Pages: 52

Go To