Book Name:Takleef Na Dijiye

       علامہ ابنِ حجر عسقلانی علیہ رحمۃ اللّٰہ  الوالی حدیث پاک کے اس حصے ’’لوگوں کو اپنے شر سے بچائے رکھو‘‘ کے تحت اما م قُرطبی علیہ رحمۃ اللّٰہ  الوالیکے حوالے سے نقل فرماتے ہیں :  لو گوں کو اپنے شر سے بچانے پر ثواب اسی صورت میں ملے گا جبکہ نیت اور ارادہ ہواور اگرلو گوں کو اپنے شر سے بچانا بے خیالی اور غفلت میں ہو تو اس صورت میں ثواب حاصل نہیں ہو گا۔

( فتح الباری ، کتاب العتق، باب ای الرقاب افضل، ۶/۱۲۷ تحت الحدیث : ۲۵۱۸)

(حکایت : 92)

فقہ اکبر کیا ہے ؟

        حضرتِ سیِّدُناجَرِیر بن عثمان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاپنے والد کے ساتھ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُن کے والد سے حضرتِ سیِّدُناجَرِیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے بارے میں پوچھا ، بعد ازاں ارشاد فرمایا :  اسے فِقہ اکبر کی تعلیم دو ۔ اُنھوں نے پوچھا :  فِقہ اکبر کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا :  قناعت اختیار کرنااور کسی کو تکلیف نہ دینا ۔  (تاریخ الخلفاء ، عمر بن عبد العزیز ، ص ۱۹۵)

قبر کی تکلیف سے بچاؤ کا نسخہ

        حضرتِ سیِّدُنا ابو کاہل قَیْس بن عائذ اَحْمصی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  اے ابو کاہل ! جو لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے باز رہا  اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  پر حق ہے کہ اسے قبر کی تکلیف سے بچائے ۔ (المعجم الکبیر ، ۱۸/ ۳۶۱ ، رقم :  ۹۲۸)

سانپ لپٹیں نہ میرے لاشے سے

                قبر میں کچھ نہ دے سزا یاربّ   (وسائلِ بخشش، ص۸۰)

(حکایت : 93)

طلبہ کو زحمت نہ دی

        اجمیر شریف تدریس کے زمانے میں صَدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویکے چھوٹے صاحبزادے جو حضرت سے بہت مشابہ تھے اور آپ ان سے بہت پیار کرتے تھے ان کا انتقال ہوگیا۔صَدرُ الشَّریعہعلیہ الرحمۃکے دولت خانے اور طلبہ کی قیام گاہ کے درمیان تقریباً ایک میل کا فاصلہ تھا۔طلبہ کو اس سانحے کی بہت دیر سے خبر ہوئی ، جب پہنچے تو صَدرُ الشَّریعہعلیہ الرحمۃصاحبزادے کی تدفین سے فارغ ہوچکے تھے۔طلبہ عرض گزار ہوئے : حضور نے ہمیں اطلاع نہ دی۔ارشاد فرمایا : مجھے خیال ہوا کہ گرمی کا وقت ہے، آپ لوگوں کو تکلیف ہوگی لہٰذا دفن کردیا۔(ماہنامہ اشرفیہ ، صدر الشریعہ نمبر، ص۱۳)

(حکایت : 94)

کسی کی دل شکنی نہ ہو

        مفتیٔ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مصطفی رضا خانعَلَیْہ رَحمَۃُ اللّٰہ المنّان ۳اپریل ۱۹۷۴ء بدھ کو ’’ذَاکر نگر جمشید پور‘‘ میں کسی کے یہاں قیام فرماتھے، رات جلسے کی وجہ سے کافی تاخیر ہوگئی، فجر سے قبل بہت قلیل وقت آرام کرنے کو ملا ، اس لئے بعد نمازِ فجر وظائف سے فارغ ہوکر آنکھوں میں سرمہ استعمال فرمایا اور سونے کا ارادہ کیا، اتنے میں جو لوگ موجود تھے ان کو کوئی صاحب ہٹانے لگے۔اس پر حضرت نے فرمایا : ان لوگوں سے پوچھ لیں ، شاید ان کو کوئی حاجت ہو ، اسے ناپسند فرمایا کہ ان کو ہٹایا جائے، گویا ان کی حاجت بَرآری کو اپنے آرام پر ترجیح دی اور یہ معمول ہمیشہ ہی کا تھا کہ جملہ حاضرین کی حاجات کی تکمیل کے بعد ہی سونے اور آرام کرنے کی کوشش کرتے، ہاں خود سے لوگ خیال کرتے ہوئے اٹھ کر چلے جائیں تو دوسری بات ہے۔ ’’ہٹو! حضرت کو آرام کرنے دو، آپ لوگ جائیں حضرت سوئیں گے، آپ لوگ آرام کرنے دیں ‘‘اس قسم کے جملوں سے ناراض ہوتے تھے کہ شاید کسی کی دل شکنی ہو جائے یا کسی کی کوئی اہم ضرورت پوری ہونے سے رہ جائے۔ غرض کہ خَلْق کا وہ خیال فرماتے تھے کہ اس زمانے میں اس کا تصوُّر بھی دشوار ہے۔یہ خاص اولیائُ اللّٰہ کی شان ہے اور اخلاق کی نہایت اعلیٰ مثال بھی۔ (جہانِ مفتیٔ اعظم، ص۹۰۳)

ظُلمًا ایذا دینے کی قسم کھا لی تو کیا کرے؟

        اگر کسی کو ظُلمًا اِیذا دینے کی قَسم کھائی تو اِس قَسَم کا پورا کرنا گناہ ہے۔اِس قسم کے بدلے کَفّارہ دینا ہو گا۔ چُنانچِہ بُخاری شریف میں ہے، رَحمتِ عالم، نُورِ مُجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلمکا فرمانِ معظَّم ہے : اگر کوئی شخص اپنے اَہل کے مُتَعلِّق اس کو اَذِیَّت اورضَرَر(یعنی نقصان)پہنچانے کے لئے قسم کھائے پس بخدا اُس کو ضَر ردینا اور قَسم کو پورا کرناعِندَ اللّٰہ(یعنیاللّٰہکے نزدیک)زیادہ گناہ ہے اِس سے کہ وہ اس قسم کے بدلے کفّارہ دے جو اللّٰہ تعالٰی نے اس پر مقرَّر فرمایا ہے۔ (بُخاری ، ۴/۲۸۱حدیث : ۶۶۲۵، فتاوی رضویہ، ۱۳/۴۹ ۵ )

        مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خانعلیہ رحمۃ الحنان اس حدیثِ پاک کے تَحت فرماتے ہیں :  یعنی جو شخص اپنے گھر والوں میں سے کسی کا حق فوت(یعنی حق تلفی)کرنے پر قسم کھالے مَثَلًا یہ کہ میں اپنی ماں کی خدمت نہ کروں گا یا ماں باپ سے بات چیت نہ کروں گا، ایسی قسموں کا پورا کرنا گناہ ہے۔اس پر واجِب ہے کہ ایسی قسمیں توڑے اور گھر والوں کے حُقُوق اداکرے، خیال رہے یہاں یہ مطلب نہیں کہ یہ قسم پوری نہ کرنا بھی گناہ مگر پوری کرنا زیادہ گُناہ ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسی قسم پوری کرنا بَہُت بڑا گناہ ہے، پوری نہ کرنا ثواب، کہ اگرچِہ ربّ   عَزَّوَجَلَّ  کے نام کی بے اَدَبی قسم توڑنے میں ہوتی ہے اسی لیے اس پر کفَّارہ واجِب ہوتا ہے مگر یہاں قسم نہ توڑنا زیادہ گناہ کامُوجِب ہے۔(مراٰۃ المناجیح ، ۵/۱۹۸مُلَخَّصًا)

تکلیف پر صبرکرکے ثواب کمائیے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جہاں دوسروں کو تکلیف نہ دیناکارِ ثواب ہے وہیں ان کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر وشکیبائی کا مظاہرہ کرنا بھی حصولِ ثواب کا ذریعہ ہے، چنانچہ : حضرت سیدناابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ دوجہاں کے آقا صَلَّی اللّٰہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشادفرمایا : وہ مومن جو لوگوں سے میل جول رکھتااوراُن کے تکلیف دینے پر صبر کرتا ہے ، اُس کا ثواب اس مومن سے زیادہ ہے جو لوگوں سے میل جول نہیں رکھتا اوراُن کے تکلیف پہنچا نے پرصبر نہیں کرتا۔ (ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب الصبر علی البلائ، ۴/۳۷۵، حدیث : ۴۰۳۲)

 



Total Pages: 52

Go To